column in urdu Silent Voices Problems That Never Become News

خاموش لوگوں کی چیخیں. وہ مسائل جو کبھی خبروں کی زینت نہیں بنتے؟ انجینیئر علی رضوان چوہدری
دنیا شور سے بھری پڑی ہے۔ ہر لمحہ کوئی نہ کوئی خبر جنم لے رہی ہے۔ کہیں سیاسی بیانات کی گونج ہے، کہیں اقتدار کی کشمکش، کہیں حادثات کی ہولناکی اور کہیں سوشل میڈیا پر لمحاتی شہرت کی چمک۔ اس شور میں ایک ایسی دنیا بھی آباد ہے جہاں نہ کوئی کیمرہ پہنچتا ہے، نہ کوئی مائیکروفون، نہ کوئی سرخی بنتی ہے اور نہ ہی کوئی ہیش ٹیگ۔ یہ دنیا ان خاموش لوگوں کی ہے جن کی چیخیں آواز نہیں بنتیں، مگر جن کے درد کی شدت کسی طوفان سے کم نہیں ہوتی۔
ک بیوہ ماں جو اپنے بچوں کی بھوک چھپا کر انہیں مسکرا کر سلا دیتی ہے، اس کی خاموشی بھی ایک چیخ ہے۔ ایک تعلیم یافتہ نوجوان جو ڈگری ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دروازے کھٹکھٹاتا ہے، اس کی مایوسی بھی ایک چیخ ہے۔ ایک بزرگ باپ جو اولاد کے ہوتے ہوئے تنہائی میں زندگی گزار رہا ہے، اس کا سکوت بھی ایک چیخ ہے۔
ہر معاشرے کی اصل پہچان اس کے بلند و بالا منصوبوں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ اپنے کمزور، محروم اور بے آواز افراد کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارا اجتماعی رویہ اس سمت بڑھ چکا ہے جہاں ہم صرف وہی دکھ دیکھتے ہیں جو اسکرین پر دکھائی دے، اور صرف اسی مسئلے کو مسئلہ سمجھتے ہیں جو خبروں کی زینت بن جائے۔ یوں بے شمار ایسے درد پس منظر میں رہ جاتے ہیں جن کا شمار شاید کبھی کسی رپورٹ یا اعدادوشمار میں بھی نہیں ہوتا۔
ذرا ایک سفید پوش گھرانے کا تصور کیجیے۔ دروازے بند ہیں، پردے سلامت ہیں، عزت محفوظ رکھنے کی کوشش جاری ہے، مگر باورچی خانے میں چولہا کئی دنوں سے ٹھنڈا ہے۔ کوئی فریاد نہیں، کوئی احتجاج نہیں، کوئی ویڈیو نہیں۔ یہ خاموشی دراصل ایک چیخ ہے، جو سننے والے کانوں کی منتظر ہے۔
اسی طرح ایک تعلیم یافتہ نوجوان، جو برسوں کی محنت کے بعد ڈگری تو حاصل کر لیتا ہے مگر روزگار نہیں ملتا، وہ ہر صبح امید کے ساتھ گھر سے نکلتا ہے اور ہر شام مایوسی اپنے ساتھ لے آتا ہے۔ اس کی آنکھوں میں چھپے سوالات کسی ٹاک شو کا موضوع نہیں بنتے، لیکن یہی سوال ہمارے مستقبل کی سمت متعین کرتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں ہزاروں بزرگ ایسے ہیں جنہوں نے پوری زندگی اپنی اولاد کی پرورش میں گزار دی، مگر بڑھاپے میں تنہائی ان کا مقدر بن گئی۔ وہ نہ شکایت کرتے ہیں اور نہ کسی سے گلہ، مگر ان کی خاموش نظریں بہت کچھ کہہ جاتی ہیں۔ اسی طرح وہ بچے جو غربت کے باعث تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں، وہ خواتین جو گھریلو تشدد سہہ کر بھی خاندان کی عزت کے نام پر خاموش رہتی ہیں، وہ مزدور جو شدید گرمی میں محنت کرتے ہیں مگر ان کا پسینہ کبھی خبر نہیں بنتا، یہ سب ہماری اجتماعی بے حسی کی کہانی سناتے ہیں۔
ایک اور خاموش چیخ ذہنی دباؤ کا شکار نوجوانوں کی ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں بے شمار نوجوان اضطراب، مایوسی اور تنہائی سے نبرد آزما ہیں، مگر ہمارے معاشرے میں ذہنی صحت پر بات کرنا اب بھی کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ نتیجتاً کئی زندگیاں خاموشی سے ٹوٹ جاتی ہیں اور ہمیں اس وقت خبر ہوتی ہے جب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔
میڈیا یقیناً معاشرے کا آئینہ ہے، لیکن آئینے کی ذمہ داری صرف چمکتے ہوئے چہرے دکھانا نہیں بلکہ ان چہروں پر موجود تھکن، آنسو اور محرومی کو بھی نمایاں کرنا ہے۔ صحافت کا اصل مقصد صرف خبر دینا نہیں بلکہ سماج کے ان گوشوں تک روشنی پہنچانا بھی ہے جہاں اندھیرا مستقل ڈیرہ ڈال چکا ہو۔
ایک قلم کار، ادیب اور کالم نگار کی ذمہ داری محض الفاظ لکھنا نہیں بلکہ ان خاموش آوازوں کو زبان دینا بھی ہے جو خود بولنے کی طاقت نہیں رکھتیں۔ اگر قلم صرف طاقتوروں کی تعریف اور سیاسی ہنگاموں کی عکاسی تک محدود ہو جائے تو وہ اپنے اصل مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔ قلم کی حرمت اسی میں ہے کہ وہ مظلوم کے دکھ کو محسوس کرے، محروم کے آنسوؤں کی ترجمانی کرے اور معاشرے کے سوئے ہوئے ضمیر کو بیدار کرنے کی کوشش کرے۔
ہمیں اپنے رویوں پر بھی غور کرنا ہوگا۔ کیا ہم نے کبھی اپنے محلے کے اس بوڑھے شخص کا حال پوچھا جو کئی دنوں سے گھر سے نہیں نکلا؟ کیا ہم نے کبھی اس طالب علم کی حوصلہ افزائی کی جو مالی مشکلات کے باوجود تعلیم حاصل کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے؟ کیا ہم نے کبھی کسی خاموش انسان کی آنکھوں میں جھانک کر اس کا درد پڑھنے کی کوشش کی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو ہمیں صرف نظام نہیں، خود کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے۔
معاشرے کی تعمیر صرف بڑی پالیسیوں سے نہیں ہوتی بلکہ چھوٹے چھوٹے انسانی رویوں سے ہوتی ہے۔ ایک تسلی بخش جملہ، ایک مخلصانہ مسکراہٹ، بروقت مدد کا ایک ہاتھ اور کسی کی خاموش فریاد کو سن لینا بھی بڑی تبدیلی کا آغاز بن سکتا ہے۔
ہم صرف شور مچانے والوں کی آواز نہیں سنیں گے بلکہ ان لوگوں کی خاموش چیخوں کو بھی محسوس کریں گے جو عزت، مجبوری یا بے بسی کے باعث بول نہیں سکتے۔ کیونکہ زندہ معاشرے وہی ہوتے ہیں جہاں صرف طاقتور نہیں بلکہ کمزور بھی خود کو محفوظ محسوس کرے، جہاں صرف بولنے والوں کو نہیں بلکہ خاموش رہنے والوں کو بھی انصاف اور توجہ ملے۔
جب ہم خاموش لوگوں کی چیخیں سننا سیکھ جائیں گے تو شاید ہمارے معاشرے میں شور کم اور انسانیت زیادہ ہو جائے گی، اور یہی وہ دن ہوگا جب خبر صرف واقعہ نہیں بلکہ احساس بھی بن جائے گی۔

Thank you for reading this post, don't forget to subscribe!

کھرمنگ میں چراگاہ کے تنازع پر خونریز تصادم، 3 افراد جاں بحق، متعدد زخمی، احتجاج جاری

شگر: مشہ بروم ایکسپڈیشن کے دوران چیک ریپبلک سے تعلق رکھنے والا غیر ملکی کوہ پیما جاں بحق

column in urdu Silent Voices: Problems That Never Become News

50% LikesVS
50% Dislikes

خاموش لوگوں کی چیخیں. وہ مسائل جو کبھی خبروں کی زینت نہیں بنتے؟ انجینیئر علی رضوان چوہدری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں