Humble Soul of the Halls of Authority

ایوانِ اقتدار کا انکسار المزاج درویش، جی ایم سکندرشگری مرحوم: جی ایم سکندرشگری مرحوم کی پہلی برسی پر خصوصی تحریر. حاجی شبیر احمد شگری
بیوروکریسی کے سنگلاخ اور سخت ایوانوں میں، جہاں اختیار و اقتدار کی راہداریوں میں اکثر انسان کا دل پتھر اور لہجہ رسمی ہو جاتا ہے، وہاں کبھی کبھار ایسی نابغہِ روزگار ہستیاں بھی جنم لیتی ہیں جن کی مسیحائی افسر شاہی کے روایتی اور خشک ماحول کو انسانیت، خلوص اور بے لوث خدمت کی وہ خلعت پہنا دیتی ہے، جو نہ صرف ایوانِ اقتدار میں بلکہ دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی دلوں پر حکمرانی کی ضمانت بنتا ہے۔ غلام محمد سکندر—جنہیں دنیا عقیدت، احترام اور محبت سے ‘جی ایم سکندرشگری’ کے نام سے پکارتی ہے— سکندرشگری مرحوم وطنِ عزیز کی بیوروکریسی کی تاریخ کا ایک تابندہ، زریں اور ناقابلِ فراموش باب تھے۔ ان کی یادوں کی خوشبو آج بھی ہر دردِ دل رکھنے والے پاکستانی، حکومتی ایوانوں، صحافتی حلقوں اور عوام الناس کو گھیرےہوئے ہے۔ وہ کسی مخصوص مسند یا محض ایوانِ اقتدار کے افسر نہیں تھے، بلکہ اپنی بے لوث خدمت، بے مثال انکساری اور غریب پروری کے طفیل، گلگت بلتستان کے فلک بوس پہاڑوں سے لے کر پنجاب کے وسیع و عریض میدانوں تک، ہر پاکستانی کے دل کی دھڑکن تھے۔
جی ایم سکندر مرحوم کا تعلق گلگت بلتستان کے تاریخی اور سحر انگیزوادی ضلع ‘شگر’ سے تھا۔ وہ گلگت بلتستان کے پہلے ‘ڈی ایم جی’ آفیسر ہونے کا منفرد اعزاز رکھتے تھے، جنہوں نے نہ صرف بیوروکریسی کے وقار کو بامِ عروج تک پہنچایا بلکہ اس کے روایتی اور حاکمانہ مفہوم کو اپنی بے لوث اور یادگار خدمات سے بدل کر رکھ دیا۔ ان کی علمی تشنگی اور تگ و دو کا آغاز ہائی سکول نمبر 1 سکردو سے ہوا۔ وہاں سے ابتدائی تعلیم کے حصول کے بعد، انہوں نے مادرِ علمی پنجاب یونیورسٹی کا رخ کیا اور پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ علم کی پیاس انہیں دیارِ غیر تک لے گئی جہاں انہوں نے یونیورسٹی آف برمنگھم (برطانیہ) سے ‘ڈویلپمنٹ ایڈمنسٹریشن’ میں ڈپلومہ حاصل کر کے اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ بعد ازاں، ایڈوانسڈ نیشنل مینجمنٹ کورس اور ایڈمنسٹریٹو سٹاف کالج لاہور جیسے اداروں سے خصوصی کورسز کی تکمیل نے ان کی خداداد انتظامی صلاحیتوں کو مزید نکھار دیا۔
تقریباً چار دہائیوں پر محیط مرحوم کی شاندار اور بے داغ سرکاری خدمات اس بات کی شاہد ہیں کہ جی ایم سکندر جس منصب پر بھی فائز رہے، وہاں وہ “خدمتِ خلق” کے سچے علمبردار کہلائے۔ وہ جہاں بھی گئے، عوامی فلاح و بہبود کے ایسے یادگار اور انمٹ نقوش چھوڑے جو آج بھی ان کی دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ مختلف اضلاع میں اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے کلیدی عہدوں پر فائز رہتے ہوئے انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ بطور ڈپٹی کمشنر قصور، انہوں نے اپنی ذاتی کاوش، لگن اور دردمندی سے ایک ایسا سرکاری سکول قائم کیا، جو آج ارتقاء کی منازل طے کرتا ہوا ایک عظیم ڈگری کالج کا روپ دھار چکا ہے اور پانچ ہزار سے زائد طلباء کے روشن مستقبل کی ضمانت بن چکا ہے۔
انسانی جانوں کے تحفظ اور ریسکیو کے لیے ملک بھر میں شہرت یافتہ عظیم الشان فلاحی منصوبہ ‘ریسکیو 1122’ بھی انہی کے درخشاں دورِ حکومت کی یادگار ہے، جو ان کی سرپرستی میں پروان چڑھا اور عمل پذیر ہوا۔ انہوں نے اپنے شاندار کیریئر کا اختتام وفاقی حکومت میں سیکرٹری ‘ہاؤسنگ اینڈ ورکس’ کے بلند ترین اور باوقار عہدے سے کیا، جو کہ کسی بھی سول سرونٹ کی پیشہ ورانہ زندگی کی معراج تصور ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، انہوں نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں اسٹیبلشمنٹ، اطلاعات، سیاحت، فزیکل پلاننگ، بیت المال، سوشل سیکورٹی، اور کوآپریٹیو جیسے اہم ترین محکموں کی نہایت خوش اسلوبی سے قیادت کی۔
ان کی انتظامی بصیرت کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو گا کہ مرحوم پنجاب کے پانچ مختلف وزرائے اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پر فرائض انجام دیتے رہے، جو کہ پاکستان کی بیوروکریٹک تاریخ کا ایک منفرد اور بے نظیر اعزاز ہے۔ پنجاب اسمبلی کی نئی اور شاندار عمارت کے افتتاح کے موقع پر، سابق سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے انہیں خصوصی طور پر اسمبلی مدعو کیا اور جن سنہری الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا، وہ تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گئے:
“ہم سکندر صاحب سے سیکھتے تھے۔ وہ ہمیں ہر الجھی ہوئی صورتحال سے نکالنے میں مدد دیتے۔موجودہ پرنسپل سیکریٹری کو بھی چاہئے کہ ان سے سیکھیں”
غریبوں کے ہمدرد اور مسیحا جی ایم سکندر مرحوم کی حیات کا سب سے درخشندہ اور تابناک پہلو یہ تھا کہ وہ حقیقی معنوں میں اسلامی اور فلاحی ریاست کے ایک مثالی افسر تھے جس کا تصور ہمارے اسلاف نے دیا تھا۔ بیوروکریسی کے اس روایتی ماحول میں جہاں ایک عام اور غریب آدمی کا افسرانِ بالا تک پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے، وہاں جی ایم سکندر کی ذاتِ بابرکات تک رسائی ہر غریب، مجبور اور حاجت مند کے لیے بلا رکاوٹ تھی۔ انہوں نے اپنے عملے کو سختی سے پابند کر رکھا تھا کہ کسی بھی سائل یا ضرورت مند کو دروازے پر روکا نہ جائے۔ کمالِ شفقت کا یہ معمول تھا کہ دفتر روانگی سے قبل وہ اپنے گھر پر ہی سائلین سے ملاقات کرتے، ان کی مشکلات سنتے اور موقع پر ہی ان کے دکھوں کا مداوا کر دیتے۔ ان کے گھر کا سرسبز لان ایک چھوٹے سے عوامی “سیکرٹریٹ” کا دلکش منظر پیش کرتا تھا، جہاں کرسیاں اور میزیں موجود ہوتیں، اور آنے والےضرورت مندوں کو نہ صرف فوری انصاف اور داد رسی ملتی بلکہ چائے سے ان کی تواضع بھی کی جاتی۔ ہزاروں ناداروں، غریبوں اور بے روزگار نوجوانوں کو روزگار کے باعزت وسائل فراہم کرنے اور مختلف اداروں میں خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر ملازمتیں دلانے کے باعث، انہیں بجا طور پر گلگت بلتستان اور ملک کے دیگر پسماندہ علاقوں کے ہزاروں خاندانوں کا “معاشی باپ” کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
سرکاری عہدوں سے سبکدوشی کے بعد بھی ان کی خدمت کا بے لوث مشن رکا نہیں۔ انہوں نے اپنی باقی ماندہ سانسیں اور توانائیاں بھی دکھی انسانیت کے نام کر دیں۔ وہ ‘حمزہ فاؤنڈیشن’ کے سرگرم ٹرسٹی بنے، جہاں قوتِ سماعت و گویائی سے محروم (بہرے اور گونگے) بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے دن رات ایک کر دیا۔ وہ سماجی بہبود اور صحتِ عامہ کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دینے والی ‘معرفی فاؤنڈیشن پاکستان’ کے مستقل رکن بھی رہے۔ مزید برآں، وہ نیشنل فرٹیلائزر مارکیٹنگ لمیٹڈ اور جے ایس بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ایچ آر کمیٹی کے چیئرمین کی حیثیت سے قومی اداروں کی فکری و انتظامی رہنمائی کا فریضہ بھی بخوبی نبھاتے رہے۔
جی ایم سکندرشگری مرحوم کا شمار ان گنے چنے افسران میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی عاجزی، انکساری اور دردمندی کے بل بوتے پر نہ صرف قومی بلکہ عالمی سطح پر ایک منفرد اور قابلِ تقلید شناخت قائم کی۔ سکندر شگری محض ایک خاکی وجود یا ایک عام سرکاری افسر کا نام نہیں تھا؛ وہ ایک مکمل نظامِ فکر، ایک نظریہ اور خدمتِ انسانیت کا ایک چلتا پھرتا مشن تھے۔ انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کر دکھایا کہ سچی اور حقیقی افسری محض عہدوں کی شان و شوکت اور اکڑ میں پوشیدہ نہیں، بلکہ مخلوقِ خدا کی بے لوث خدمت اور ان کے دلوں پر حکمرانی کرنے میں پنہاں ہے۔
آج ان کی پہلی برسی کے موقع پر جب ہم ان کو یاد کررہے ہیں اگرچہ وہ ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں، اور ان کی رحلت سے پیدا ہونے والا عظیم خلا شاید گردشِ ایام کبھی پُر نہ کر سکے، مگر ان کی گراں قدر خدمات، شفقتِ پدری، دیانتداری اور پاکیزہ کردار تاریخ کے سنہرے صفحات پر اور اس دھرتی کے ہر باضمیر شہری کے دل میں ہمیشہ نور بن کر جگمگاتا رہے گا۔
اللہ رب العزت ان کی ظاہر و پوشیدہ تمام نیکیوں اور مساعی کو شرفِ قبولیت بخشے، ان کے درجات کو جوارِ رحمت میں بلند فرمائے،آمین!
“یہ حقیقت ہے کہ جو خدمت کو شعار بنائے، وہی اصل افسر ہوتا ہے!”

Humble Soul of the Halls of Authority

50% LikesVS
50% Dislikes

ایوانِ اقتدار کا انکسار المزاج درویش، جی ایم سکندرشگری مرحوم: جی ایم سکندرشگری مرحوم کی پہلی برسی پر خصوصی تحریر. حاجی شبیر احمد شگری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں