صنف : افسانہ .بلند حوصلہ . ناہید مرزا
کچھ سبق کتابوں میں لکھے ہوتے ہیں، کچھ زندگی انسان کو خود پڑھاتی ہے، اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو برسوں دوسروں کو سکھانے والا انسان بھی ایک دن کسی اور سے سیکھتا ہے۔
استاد زبیر بھی اپنے شاگردوں کو ہمیشہ حوصلے کا درس دیتا تھا۔ اس کی نظر میں حوصلہ یہ تھا کہ انسان مشکل سے نہ گھبرائے، ناکامی کے بعد دوبارہ اٹھے اور حالات کے سامنے شکست تسلیم نہ کرے۔ مگر اسے کیا معلوم تھا کہ ایک دن اس کا ایک خاموش سا شاگرد اسے حوصلے کا وہ مفہوم سمجھائے گا جو کتابوں میں کہیں نہیں لکھا ہوتا۔
ایک دن کلاس میں زبیر نے تختے پر لکھا: ”حوصلہ کیا ہے؟“ بچوں نے اپنے اپنے جواب دیے۔ کوئی بولا، ”مشکل سے نہ ڈرنا“، کسی نے کہا، ”گر کر دوبارہ اٹھنا۔“ آخری بنچ پر بیٹھے حمزہ نے اچانک پوچھا، ”سر! کسی کے سامنے اپنی کمزوری مان لینا بھی حوصلہ ہوتا ہے؟“
زبیر چند لمحے اسے دیکھتا رہا۔ ”تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے؟“
حمزہ نے نظریں جھکا لیں۔ ”میرے ابو بیمار ہیں، گھر کے حالات خراب ہیں۔ امی کہتی ہیں کہ شاید مجھے پڑھائی چھوڑ کر کام کرنا پڑے۔ میں مدد مانگنا نہیں چاہتا، سر… لوگ مدد کرکے احسان جتاتے ہیں۔“
زبیر نے اسے سمجھایا، ”مدد مانگنا اور خود کو کمزور سمجھنا ایک بات نہیں۔“
مگر یہ جملہ کہتے ہوئے اسے خود اپنے اندر ایک عجیب سی خلش محسوس ہوئی، کیونکہ وہ بھی انہی دنوں ایک مشکل سے گزر رہا تھا۔ بیٹی کی فیس کئی ماہ سے باقی تھی، گھر کے اخراجات بڑھ رہے تھے اور وہ کسی ساتھی سے مدد مانگنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔ وہ دوسروں کو مضبوط رہنے کا درس دیتا تھا، مگر اپنی پریشانی کو دل کے کسی اندھیرے کمرے میں چھپا کر بیٹھا تھا۔
اس رات وہ دیر تک جاگتا رہا۔ باہر ہوا کی سائیں سائیں اور دیوار پر گھڑی کی ٹک ٹک کے درمیان اسے حمزہ کا سوال بار بار یاد آتا رہا۔ آخر اس نے خود سے پوچھا، ”کیا ہر بوجھ اکیلے اٹھانا ہی حوصلہ ہے؟ کیا اللہ پر بھروسا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان انسانوں سے مدد بھی نہ لے؟“
اگلے دن اس نے کلاس میں بچوں سے کہا، ”میں نے تمہیں برسوں حوصلے کے معنی بتائے ہیں، مگر شاید میں خود اس کا ایک حصہ نہیں سمجھتا تھا۔ حوصلہ صرف یہ نہیں کہ انسان کبھی نہ روئے، کبھی مدد نہ مانگے یا اپنی کمزوری چھپا لے۔ کبھی کبھی یہ تسلیم کر لینا بھی حوصلہ ہے کہ ہمیں سہارا چاہیے۔“
حمزہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔
چھٹی کے بعد وہ آہستہ سے استاد کے پاس آیا۔ ”سر… اگر میں آپ سے مدد مانگوں تو؟“
زبیر نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور مسکرا کر کہا، ”تو تم مجھے ایک اچھا کام کرنے کا موقع دو گے۔“
چند لمحوں بعد حمزہ کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
اسی شام زبیر نے بھی پہلی بار اپنے ایک ساتھی سے اپنی پریشانی بیان کی۔ الفاظ کہتے ہوئے اسے جھجھک ہوئی، مگر جب اس نے کہا، ”مجھے تھوڑی مدد چاہیے،“ تو اس کے دل پر رکھا ایک بوجھ جیسے اتر گیا۔
ساتھی نے صرف اتنا کہا، ”زبیر صاحب، آپ نے اتنے سال دوسروں کا سہارا بن کر گزارے ہیں، آج ہمیں آپ کا سہارا بننے دیں۔“
زبیر کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
اسے سمجھ آ گیا کہ بعض اوقات اللہ ہماری مدد براہِ راست نہیں، کسی انسان کے ہاتھ کے ذریعے بھیجتا ہے؛ اور کسی کا ہاتھ تھام لینا جتنا بڑا حوصلہ ہے، کبھی کبھی کسی کو اپنا ہاتھ تھامنے دینا بھی اتنا ہی بڑا حوصلہ ہوتا ہے۔
اگلے دن کلاس میں پھر وہی سوال تختے پر لکھا تھا:
”حوصلہ کیا ہے؟“
اس بار زبیر نے جواب نہیں بتایا۔ حمزہ نے خود ہاتھ اٹھایا اور کہا، ”سر! شاید حوصلہ یہ ہے کہ انسان مشکل میں بھی اللہ سے مایوس نہ ہو، اور اگر کسی کا سہارا مل جائے تو اسے اپنی شکست نہ سمجھے۔“
زبیر مسکرایا۔
باہر بارش شروع ہو چکی تھی۔ ٹپ… ٹپ… ٹپ…
اور ایک استاد، جو برسوں سے بچوں کو حوصلہ پڑھاتا آیا تھا، آج اپنے ہی شاگرد سے یہ سیکھ چکا تھا کہ بلند حوصلہ وہ نہیں جو کبھی ٹوٹتا نہیں؛ بلند حوصلہ وہ ہے جو ٹوٹ کر بھی اللہ سے جڑا رہتا ہے، مدد مانگنے کو ذلت نہیں سمجھتا اور خود سنبھلنے کے بعد کسی دوسرے کے لیے سہارا بن جاتا ہے
Genre Short Story




