We Must Stay Vigilant 0

 ہوشیار رہنا ہوگا ۔محمد اقبال  شافی
وقت کی اس کشمکش میں ہر طرف مقابلہ ہر کسی کی یہی خواہش و آرزو کہ میں ممتاز بنوں ۔اس امر کا تعلق ذندگی کے ہر شعبے سے متابقت رکھتی ہے۔ان شعبوں میں  کوئی آسمانی مخلوق یا خلائی مخلوق تو نہیں اس میں اہل زمیں ہی آباد ہیں ۔ایک بچے سے نوجوان اور پھر جوان ہوکر اپنے اہل وعیال اور پورے کمینٹی کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔انہیں جوانوں کے زیر دست پورا نظام ہوتا ہے جس سے وہ اپنے رہائشی علاقوں یا شہروں کو بے نظیر بنا سکتے ہیں ۔مگر ملال اس بات کی ہے ۔کہ آج اتنی ترقی اور ٹیکنالوجی کے باوجود علم و حکمت حاصل کرنے کے باوجود آج کے جوانوں میں وہ اقبال کی خودی اور قوت ایمانی کی اشت کمی نظر آتی ہے ۔یہ واقعہ میرے اپنے ساتھ پیش آیا ہے ۔کہ جب میں نے انسان شناسی شروع کی تو میں کچھ مدت دھنگ رہ گیا ان لوگوں کے احوال دیکھ  کر جو وہ حسبِ معمول دہراتے رہتے ہیں ۔کھیل کے میدان میں اچھی کارکردگی دکھانے پر نصب زیادہ رشتےدار اور احباب نے تسکین اور خوشی کا اظہار کیا اور مبارک بادی بھی دے دی۔انہیں دوستوں کے درمیاں آستین کے کچھ سانپ بھی پوشیدہ تھیں جو ہمیشہ مجھے ڈس رہے ہوتے تھے مگر اس بار میں نے ان کی واضح شناخت کردی۔جب میں کھیل کر کے واپس گھر کی طرف رخ کی تو وہی سانپ اپنی زہریلی زبان کےساتھ آیا اور مرتے ہوئے میری اچھی کارکردگی پر عش عش کرنے گے اور پھر سابقہ انداز میں مجھے پھر سے ڈسنے کی کوشش کی مگر اس بار میں نے اسے منہ کے بل گرا دیا ۔اس کی یہ کوشش تھی کہ پہلے جھوٹی تعریف پھر اپنی سابقہ ترکیب سے میرا خون چوسنا ۔کھیل میں اچھی کارکردگی دیکھانے پر وہ سخت کینسر اور خارش کی بیماری کا شکار تھا ۔اس بات کو دل میں لے کر اس بار اس نے ایک دفعہ پھر سے کوشش کی ۔کہ مجھے گرانے دوں ۔اس دفعہ اس سانپ نے میرے سامنے دوسروں کی جھوٹی تعریفیں کرنا شروع کیا کہ فلاں نے اس کھیل میں یہ کیا ہے فلاں کو اچھی کارکردگی دیکھانے پر اتنا انعام ملا ہے ۔وہ اندر ہی اندر یہ احساس دلانا چاہتا تھا کہ فلاں نے تم سے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔لیکں مجھے اس کے جھوٹ اور مکر کا اس بار پورا علم ہوا تھا ۔مجھے اس کے اس طرح کہنے پر ذرا برابر بھی فرق نہیں پڑھ رہا تھا ۔جسے دیکھ کر وہ اندر ہی اندر ذلیل و رسوا ہوگئے ۔آپ بھی کھولی آنکھوں سے دیکھنا شروع کریں تو آپ کو بھی ایسے افراد ملیں گے جو آپ کو گرانے کی کوشش میں مگن ہوگا ۔مگر آپ نے اپنی کامیابی اور مقبولیت سے ان کے قلوب کو مزید جلاکے راکھ کرنا ہے ۔آپ کی سرفرازی ان کے لے بہترین جواب ہے  اور وہ اپنی جگہ ذلیل و خوار ہوں گے ۔اس طرح کے افراد کی پہچان بہت ضروری ہے تاکہ آپ ان کے اشرار سے محفوظ رہ سکیں ۔اگر ہم ان سیاہ کرتوت کے وجوہات کی بات کریں تو اخلاق رزائل سامنے آجاتے ہیں ۔جن میں سر فہرست حسد ہے ۔وہ لوگ جو آپ کی کامیابی اور مقبولیت کو حضم نہیں کر پاتے ۔آپ کی شہرت کے قصیدے نہیں سن سکتے ۔آپ کی مسکراہٹ انہیں چپتی ہے ۔ان میں حسد کی آگ بھڑک رہی ہوتی ہے ۔وہ کبھی یہ نہیں چاہتے کہ آپ ان کے صف سے آگے نکل پڑے ۔وہ کھبی یہ نہیں چاہتے کہ آپ کا مقام ان کی نسبت بلند و بالا ہوں ۔خود حسد کرنے کی بھی وجوہات درپیش ہیں ۔جن میں سب سے پہلے نفرت،دشمنی،کسی چیز میں تنازعہ،مقابلہ
یہ سارے عناصر فرد کو حسد کرنے پر مجبور کرتا ہے ۔لیکن روایات میں ملتے ہیں کہ حسد کرنے والا خود جل جاتا ہے مگر دوسروں کو حسد کی آگ میں جلا نہیں سکتا۔
احادیث کی رو سے ” حسد فرد کے ایمان کو ایسا کھا جاتی ہے جیسے آگ لکڑی کو کھا جاتی ہے ” چنانچہ حاسد اپنے شر سے محفوظ نہیں ہوتا۔اس عمل میں دیگر لوگ مرتکب ہوتے ہیں مگر حسد کا نام نہیں لیتا ۔نام اصلاح مگر کام حسد سے کیاجاتا ہے ۔نام یاد دھانی مگر اس کے پیچھے حسد مخفی ہوتا ہے ۔اسی طرح نام عصری ترکیب کی مگر کر حسد رہا ہوتا ہے ۔لہذا
ہمیں ان تمام عوامل سے باخبر اور ہوشیار رہنےکی ضرورت ہیں ۔
تاکہ حاسد و فاسق آپ کو نقصان نہ پہنچا سکے ۔میری دعا ہے خدا آپ کو مزید ترقی اور کامیابی کے دائروں سے ہم کنار کریں اور حاسد آپ کی ترقی دیکھ کر سدا جلتے اور مرتے رہیں    
گلی کوچوں میں پھرنے کی ضرورت ہے تمہیں
اہل دانش سے نہیں ہے تیرا لینا دینا

تیری مکاری سے اب تنگ ہے سبھی خوشک و تر
وقت آنے پہ گروں گا میں تمہیں زیر و زبر

بات پہنچی ہے میری کانوں تک تو کہتا ہے
کیوں ژندہ ہے ابھی تک یہ جفاکش راہی

ابھی یہ کچھ بھی نہیں رک تمہیں بتاؤں میں
تیری کرتوت کی قسطیں لکھوں گا سیاچن میں

کروں گا خوار شافی اس طرح سے دیکھ لینا
وہ گر کے روۓ گے حسد سے گڑ گڑاتے ہوئے

We Must Stay Vigilant

50% LikesVS
50% Dislikes

 ہوشیار رہنا ہوگا ۔محمد اقبال  شافی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں