Friday Prayer and the Comparison 0

نمازِ جمعہ اور واجبِ عینی کا تقابل. شبیر حسین کمال
نماز اسلام کی بنیادی عبادات میں سے ہے اور ہر مسلمان کی زندگی میں اس کی خاص اہمیت ہے۔ نماز انسان کو اللہ تعالیٰ سے جوڑتی، اس کے دل میں تقویٰ پیدا کرتی اور اسے زندگی کے مختلف مراحل میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلاتی ہے۔ اسی نمازوں میں نمازِ جمعہ بھی ایک اہم اور بابرکت عبادت ہے، جس میں مومنین ایک جگہ جمع ہوتے ہیں، خطبہ سنتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔
اکثر اوقات ایک سوال ذہن میں پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی زمانے میں نمازِ جمعہ ہر فرد پر واجبِ عینی نہیں ہے، تو پھر مومنین اس میں اتنی دلچسپی کیوں لیتے ہیں؟ اور اگر کوئی دوسری نماز واجبِ عینی ہو تو اس کے مقابلے میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کو کیسے سمجھا جائے؟ اس سوال کا جواب جذبات کے بجائے فقہی اصول اور دینی شعور کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔
واجبِ عینی سے مراد وہ شرعی ذمہ داری ہے جو ہر مکلف شخص پر اپنی ذات کے اعتبار سے عائد ہوتی ہے۔ یعنی جس شخص پر کوئی واجبِ عینی حکم ہو، وہ اسے کسی دوسرے کے ادا کرنے سے بری الذمہ نہیں ہوتا۔ اس کے مقابلے میں نمازِ جمعہ کا حکم مخصوص شرائط، زمانے اور فقہی فتویٰ سے متعلق ہے۔ اس لیے کسی بھی شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے مرجعِ تقلید کے فتوے کے مطابق اس مسئلے کو سمجھے۔
نمازِ جمعہ کی اہمیت صرف اس کی نماز کی دو رکعتوں تک محدود نہیں۔ یہ مسلمانوں کے اجتماعی شعور کا بھی مظہر ہے۔ جمعہ کے خطبے میں دینی تعلیمات، قرآن و اہل بیتؑ کی سیرت، اخلاقی مسائل اور معاشرے کی اصلاح سے متعلق موضوعات بیان کیے جا سکتے ہیں۔ مومنین ایک دوسرے سے ملتے ہیں، ایک دوسرے کے حالات سے واقف ہوتے ہیں اور دینی ماحول سے اپنا تعلق مضبوط کرتے ہیں۔
لیکن یہاں ایک بنیادی اصول کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے: مستحب یا غیر واجبِ عینی عمل، کسی واجبِ عینی ذمہ داری کا متبادل نہیں بن سکتا۔ اگر کسی شخص پر کوئی شرعی واجبِ عینی عائد ہو تو اسے ترک کرکے کسی دوسرے عمل کو ترجیح دینا درست نہیں ہوگا۔ دین میں واجبات کو ان کی شرعی حیثیت کے مطابق ادا کرنا بنیادی ذمہ داری ہے۔
اسی طرح نمازِ جمعہ کو کم اہم سمجھنا بھی درست نہیں۔ کسی عمل کا واجبِ عینی نہ ہونا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ بے اہمیت ہے۔ بہت سے اعمال ایسے ہیں جو واجبِ عینی نہیں ہوتے لیکن ان کی دینی اور روحانی اہمیت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ نمازِ جمعہ بھی مسلمانوں کو اجتماع، عبادت، دینی آگاہی اور باہمی تعلق کا موقع فراہم کرتی ہے۔
اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم واجب، مستحب اور دیگر شرعی احکام کے درمیان فرق کو سمجھیں اور ہر عمل کو اس کے حقیقی مقام پر رکھیں۔ نہ کسی واجب کو معمولی سمجھا جائے اور نہ کسی اہم مستحب عمل کو اس کے شرعی مقام سے بڑھایا جائے۔
آخر میں یہ بات قابلِ غور ہے کہ دین صرف عبادات کی ظاہری ادائیگی کا نام نہیں بلکہ احکام کو سمجھ کر ان پر عمل کرنے کا نام بھی ہے۔ نمازِ جمعہ ہمیں اجتماع اور دینی شعور کا درس دیتی ہے، جبکہ واجبِ عینی ہمیں اپنی انفرادی شرعی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ ایک باشعور مومن کے لیے دونوں کی حقیقت اور حدود کو سمجھنا ضروری ہے، تاکہ وہ نہ واجب کو ترک کرے اور نہ کسی اہم دینی اجتماع کی قدر و منزلت کو فراموش کرے۔

ہوشیار رہنا ہوگا ۔محمد اقبال شافی

صنف : افسانہ .بلند حوصلہ . ناہید مرزا

واٹس ایپ نے آخر وہ فیچر دے دیا جس کا کافی عرصے سے انتظار تھا۔ دلچسپ معلومات . ڈاکٹر محمد ارشد

ضلع شگر کی غیور عوام سے مخاطب , ایک ادنیٰ سا سیاسی شعور کا طالب علم، ممتاز بیگ سی ای او ارمان ٹی وی جی بی

محبت کو مفاد کی نظر سے نہ دیکھیں. محمد عابد رشید

Friday Prayer and the Comparison

50% LikesVS
50% Dislikes

نمازِ جمعہ اور واجبِ عینی کا تقابل. شبیر حسین کمال

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں