محبت کو مفاد کی نظر سے نہ دیکھیں. محمد عابد رشید
کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ہم نے رشتوں کو آخر کیا بنا دیا ہے؟ آج کل کی دنیا میں اکثر محبت بھی کسی نہ کسی مطلب کی نظر سے دیکھی جاتی ہے۔ رشتہ اپنا ہو یا پرایا، پہلے یہ سوچا جاتا ہے کہ اس سے ہمیں کیا ملے گا، ہمارا کیا فائدہ ہوگا، یہ شخص ہمارے کس کام آ سکتا ہے۔ شاید اسی سوچ نے رشتوں کی خوبصورتی کہیں نہ کہیں چھین لی ہے۔ ہم محبت بھی کرتے ہیں تو اس میں کوئی نہ کوئی توقع شامل ہوتی ہے۔ کسی کا ساتھ دیتے ہیں تو دل کے کسی کونے میں یہ خیال موجود ہوتا ہے کہ شاید کل ہمیں بھی اس سہارے کی ضرورت پڑ جائے۔ کسی کے لیے وقت نکالتے ہیں تو کبھی کبھی یہ بھی سوچ لیتے ہیں کہ بدلے میں ہمیں کیا حاصل ہوگا۔
لیکن سچ کہوں تو محبت وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں حساب کتاب ختم ہو جاتا ہے۔ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی کے ساتھ صرف اس لیے کھڑے ہوتے ہیں کہ سامنے والا انسان ہے۔ نہ کوئی لالچ، نہ کوئی مقصد، نہ کسی فائدے کی خواہش اور نہ بدلے میں کچھ پانے کی تمنا۔ ایسے لوگ خاموشی سے ساتھ دیتے ہیں۔ جب خوشی ہو تو خوشی میں شریک ہوتے ہیں اور جب انسان مشکل میں ہو تو اس کا ہاتھ تھام لیتے ہیں۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ سامنے والا کتنا طاقتور ہے، کتنا مالدار ہے یا مستقبل میں ان کے کس کام آئے گا۔
بس دل کہتا ہے کہ اس وقت اسے میری ضرورت ہے، اور مجھے اس کے ساتھ ہونا چاہیے۔ میرے خیال میں یہی اصل رشتہ ہے، یہی اصل محبت ہے۔ زندگی میں ایسے لوگ بہت کم ملتے ہیں جو ہماری کامیابی سے نہیں بلکہ ہماری ذات سے محبت کرتے ہیں۔ جو ہمارے اچھے وقت کے ساتھی نہیں بلکہ برے وقت کے محافظ بن کر کھڑے ہوتے ہیں۔ جنہیں ہماری مسکراہٹ عزیز ہوتی ہے، ہماری پریشانی محسوس ہوتی ہے اور ہماری خاموشی بھی سنائی دیتی ہے۔
ایسے لوگوں کی قدر کرنی چاہیے۔ کیونکہ دنیا میں دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، چیزیں دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہیں، لیکن مخلص انسان بار بار نہیں ملتے۔ اگر آپ کی زندگی میں کوئی ایسا شخص موجود ہے جو بغیر کسی مطلب کے آپ کا ساتھ دیتا ہے، آپ کی عزت کرتا ہے، آپ کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھتا ہے اور آپ کے اچھے وقت میں دل سے خوش ہوتا ہے تو اسے معمولی نہ سمجھیں۔ اس کا ہاتھ تھام کر رکھیں۔ اور اگر آپ خود کسی کے لیے ایسے انسان بن سکتے ہیں تو ضرور بنیں۔ کیونکہ شاید کسی کی زندگی میں آپ کا خلوص ہی وہ چیز ہو جس کا اسے سب سے زیادہ انتظار ہے۔
رشتے فائدے سے نہیں، خلوص سے خوبصورت ہوتے ہیں۔
محبت مطالبے سے نہیں، بے غرض ساتھ سے زندہ رہتی ہے۔
اور آخر میں بس اتنا کہنا چاہوں گا کہ انسان کو انسان سمجھ کر چاہیں، کسی فائدے کی چیز سمجھ کر نہیں۔
برائڈ ٹو بی (Bride to be) طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
عنوان: جہیز نہیں، بیٹی کا مستقبل سنواریں . محمد عابد رشید
Self-Interest




