Mirror of Humor 0

مزاح کے آئینے میں “کھڑوس” مرچ زبان، گڑ سا دل. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ،۔پاکستان
دنیا میں اللہ تعالیٰ نے عجیب و غریب مزاج کے لوگ پیدا کیے ہیں۔ کوئی ایسا کہ مسکرا دے تو ماحول میں بہار آ جائے، کوئی ایسا کہ دو جملے بولے بغیر بھی محفل چلا لے اور کچھ حضرات ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے صبح اٹھتے ہی کسی نے ان سے ان کا پسندیدہ تکیہ چھین لیا ہو۔ چہرے پر مستقل سنجیدگی، لہجے میں کڑواہٹ اور گفتگو میں ایسی خشکی کہ سننے والا پانی کا گلاس ڈھونڈنے لگے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے ہماری روزمرہ زبان میں ایک نہایت جامع، مختصر اور مزاحیہ لفظ ہے: “کھڑوس”۔

کھڑوس وہ شخص ہے جو بات بات پر خفا ہونے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتا ہو۔ آپ خوش دلی سے پوچھیں، “بھائی صاحب! کیا حال ہے؟” تو جواب ملے گا، “نظر نہیں آ رہا؟” آپ کہیں، “آج موسم کتنا اچھا ہے”، تو فوراً فرمائیں گے، “اچھا کہاں ہے؟ گرمی بھی ہے، گرد بھی ہے اور بجلی بھی جانے والی ہے۔” آپ کہیں، “چائے بہت اچھی بنی ہے”، تو ان کی عقابی نگاہ فوراً چینی کی مقدار، دودھ کی کمی اور پتی کی زیادتی دریافت کر لے گی۔ گویا دنیا میں خوبیاں تو اللہ نے پیدا ہی نہیں کیں، صرف خامیاں تلاش کرنے کا ٹھیکا انہی کے پاس ہے۔
کھڑوس شخص کی ایک اور نمایاں خوبی یہ ہوتی ہے کہ اسے ہنسی مذاق کچھ زیادہ پسند نہیں ہوتا۔ محفل میں سب لوگ قہقہے لگا رہے ہوں اور موصوف ایک طرف ایسے بیٹھے ہوں جیسے انہیں ہنسی کے خلاف کوئی سرکاری ذمہ داری سونپی گئی ہو۔ کوئی لطیفہ سنایا جائے تو باقی سب ہنسیں گے مگر وہ صاحب پہلے لطیفے کی خامی تلاش کریں گے، پھر سنانے والے کی عقل پر غور فرمائیں گے اور آخر میں کہیں گے، “اس میں ہنسنے والی کون سی بات تھی؟” ایسے موقع پر دل چاہتا ہے کہ انہیں سمجھایا جائے کہ حضور! لطیفے میں اگر فلسفہ، منطق اور تحقیقی مقالہ تلاش کریں گے تو ہنسی کہاں سے آئے گی؟
مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر کھڑوس انسان لازماً برا انسان نہیں ہوتا۔ بعض اوقات کھڑوس صرف باہر سے ہوتا ہے، اندر سے خاصا نرم دل نکلتا ہے۔ اس کے چہرے پر اگرچہ ایسا تاثر ہوتا ہے جیسے دنیا بھر سے ناراض ہو، لیکن کسی ضرورت مند کی مدد کے وقت سب سے پہلے یہی آدمی آگے بڑھتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ مدد بھی اس انداز سے کرتا ہے کہ لینے والا پہلے ڈانٹ کھاتا ہے، پھر مدد لیتا ہے۔ مثلاً محلے کا وہ انکل جو بچوں کو گلی میں کرکٹ کھیلنے پر روزانہ ڈانٹتے ہیں، “کتنی بار کہا ہے یہاں شور نہ کیا کرو!” لیکن اگر انہی بچوں میں سے کسی کو چوٹ لگ جائے تو سب سے پہلے مرہم لے کر پہنچیں گے۔ البتہ مرہم لگاتے ہوئے بھی کہیں گے، “دیکھا! کہا تھا نا یہاں مت کھیلا کرو۔ اب بھگتو!” یہی کھڑوس پن کی اصل معصومیت ہے؛ فکر بھی ہوگی، مگر اظہار ڈانٹ کی صورت میں ہوگا۔
دفتر میں بھی ایک نہ ایک ایسا صاحب ضرور مل جاتا ہے جو وقت کی پابندی، فائل کے نمبر، دستخط کی جگہ اور قواعد و ضوابط پر اس قدر سختی سے عمل کرتا ہے کہ ملازمین ان کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اپنی پوری زندگی کا جائزہ لے لیتے ہیں۔ اگر کوئی پانچ منٹ دیر سے آئے تو سوال ہوگا، “پانچ منٹ کہاں تھے؟” اگر فائل میں ایک نقطہ کم ہو تو فائل واپس اور اگر کام وقت سے پہلے مکمل ہو جائے تو بھی پوچھا جائے گا، “اتنی جلدی کیسے ہو گیا؟ کہیں کچھ رہ تو نہیں گیا؟” ایسے افسر کو ملازمین پیٹھ پیچھے “کھڑوس صاحب” کہتے ہیں مگر جب کسی ملازم کو واقعی مشکل پیش آئے تو یہی کھڑوس صاحب خاموشی سے اس کی مدد بھی کر دیتے ہیں۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ صاحب کا لہجہ سخت ہے، دل نہیں۔
کھڑوس اور سنگدل میں بھی فرق ہے۔ سنگدل شخص دوسروں کے دکھ درد سے بے نیاز ہو سکتا ہے، جب کہ کھڑوس صرف اپنے اظہار کے انداز سے لوگوں کو پریشان کرتا ہے۔ وہ ترش رو ہو سکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ بے مروت بھی ہو۔ وہ کم گو ہو سکتا ہے، مگر ضروری نہیں کہ بے حس ہو۔ بعض لوگوں کی محبت کا انداز ہی عجیب ہوتا ہے؛ وہ “خیال رکھنا” نہیں کہتے بلکہ کہتے ہیں، “زیادہ موٹر سائیکل نہ چلایا کرو، عقل ہے یا نہیں؟” وہ “جلدی گھر پہنچ جانا” نہیں کہتے، بلکہ فرماتے ہیں، “رات گئے تک باہر گھومنے کی کیا ضرورت ہے؟” بظاہر ڈانٹ، مگر اندر کہیں فکر کی ایک چھوٹی سی دکان کھلی ہوتی ہے۔
اسی لیے اگر کوئی آپ کو کہہ دے، “یار! تم تو بڑے کھڑوس ہو”، تو فوراً برا ماننے کی ضرورت نہیں۔ پہلے یہ دیکھ لیجیے کہ وہ یہ بات غصے میں کہہ رہا ہے یا ہنستے ہوئے۔ ممکن ہے اس کا مطلب صرف یہ ہو کہ “بھائی، کبھی مسکرا بھی لیا کرو، ہر وقت ایسے کیوں رہتے ہو جیسے دنیا نے تمہارا ادھار واپس نہیں کیا؟”
حقیقت یہ ہے کہ کھڑوس بھی معاشرے کی ایک ضرورت ہیں۔ اگر دنیا میں سب لوگ خوش مزاج، ہنس مکھ اور ہر وقت “کوئی بات نہیں” کہنے والے ہوں تو اصولوں کی نگرانی کون کرے گا؟ بجلی کا بل وقت پر کون جمع کروائے گا؟ بچوں کو ہوم ورک کون یاد دلائے گا؟ دفتر میں فائلیں کون سیدھی رکھے گا؟ اور سب سے بڑھ کر، محفل میں وہ شخص کون ہوگا جو ہر پانچ منٹ بعد کہے گا، “بس کرو یار، بہت شور ہے!”
سو کھڑوس لوگوں سے زیادہ پریشان بھی نہ ہوا کریں۔ ممکن ہے ان کے چہرے پر بادل ہوں، لہجے میں بجلی ہو اور گفتگو میں گرج چمک لیکن دل کے کسی کونے میں بارش بھی ہو رہی ہو۔ بعض لوگ محبت کا اظہار پھول دے کر کرتے ہیں اور بعض یہ کہہ کر: “سویٹر پہن لو، سردی لگ جائے گی، پھر سارا دن ناک بہاتے پھرو گے۔”
ایک جملے میں کہا جائے تو کھڑوس وہ شخص ہے جو اوپر سے مرچ، لہجے میں نمک، چہرے پر سنجیدگی اور مزاج میں کڑواہٹ لیے پھرتا ہے مگر عین ممکن ہے کہ دل کے اندر کہیں گڑ کا ڈبہ بھی چھپا رکھا ہو۔

منشیات سے پاک معاشرہ، ہماری مشترکہ ذمہ داری . ڈاکٹر محمد ارشد

شگر محکمہ مواصلات و تعمیراتِ عامہ میں بھرتیوں میں تاخیر، ہزاروں نوجوان پریشان

ماحولیاتی تبدیلی. حورین فاطمہ طالبہ پبلک سکول اینڈ کالج سکردو

Mirror of Humor

50% LikesVS
50% Dislikes

مزاح کے آئینے میں “کھڑوس” مرچ زبان، گڑ سا دل. یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ،۔پاکستان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں