ماحولیاتی تبدیلی. حورین فاطمہ طالبہ پبلک سکول اینڈ کالج سکردو
میرا تعلق پاکستان کے ایک ایسے علاقےسےہے۔ (گلگت بلتستان)۔ جہاں ہر روز ماحولیاتی تبدیلیوں کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ ماحول میں تبدیلیوں کا آنا ہمارے معاشرے میں عام بنتا جا رہا ہے۔ لوگ ماحولیاتی تبدیلی سے پریشان ہیں۔ مگر انہوں نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ یہ سب ان کے ہی کارناموں کا انجام ہے۔ جی ہاں! ہم ہی ہیں جس وجہ سے ماحول میں تبدیلیاں آتے روز بڑھ رہی ہیں۔ ہمارے روز مرہ زندگی کے کام ہی ہیں جس وجہ سے ہمیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ماحول کے اس بدلتی تبدیلیوں کی وجہ سے آتے روز کوئی نہ کوئی مسئلہ پیش آ رہا ہوتا ہے۔ تبدیلیاں جیسے: “گلیشیر کا پگھلنا، گلوبل وارمنگ، کلائمیٹ چینج، بارش کی زیادتی، خشک سالی” اور بہت کچھ۔ یہ ساری وہ تبدیلیاں ہیں جو ہماری وجہ سے پیدا ہوتی ہیں اور ہم اسے قدرتی افعال سمجھ بیٹھے ہیں۔ ان ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے لوگوں کی زندگیوں پربہت اثر پڑ رہا ہے۔ ان میں سے سب سے بڑھ کر لوگوں کی جان کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے۔ جس وجہ سے آتے روز لوگوں کو.ان للہ و ان الیہ راجعون روڈ سننا پڑھ رہا ہے-
ماحول کی ان تبدیلیوں کا ذمہ دار انسان ہے۔ اور ان کو حل کرنے کی ذمہ داری بھی انسان کی ہی ہے۔ شجرکاری کر کے انسان ماحول میں آکسیجن کی ریشو بڑھا کر ماحول کو تبدیلیوں سے بچا سکتا ہے۔ سب سے بڑھ کر قوانین کو فالو کرنا۔ ساتھ ہی ساتھ لوگوں تک آگاہی پھیلانا بھی ضروری ہے تاکہ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنے۔ اور تمام معاشرے کے افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول کو آلودہ ہونے سے بجاےاور ماحول کی بقاء کے لئے کام کرےکیونکہ ماحول کی آلودگی ہر طرح کی بیماریوں کی اولین وجہ ہے۔ ہر انسان کو چاہیے کہ وہ ماحول کی حفاظت کا ذمہ دار خود کو سمجھے۔ کیونکہ یہ معاشرہ ہم سب کا ہے۔ اس لیے ہمیں اس کی حفاظت کرنا ہو گی۔
تاکہ ہم صحت مند رہیں ۔ اور لوگ خوشحال اور پر سکون زندگی گزار سکیں۔
مصروف زمانہ، تنہا انسان. لیکچرار عزت علی پارا چنار
Climate Change



