اور کیا ہونا تھا ، کالم نگار ۔محمد اقبال شافی
میں کھیل کو لے کر بہت متجسس تھا۔کھیل سے متعلق باتیں میری کانوں سے ٹکراتی تھی مجھے یوں محسوس ہوتا تھا ۔میرے ذہن میں کھیل کے میدان کا عکس چھپ چکا ہے ۔وہاں کے شور وغل بھی فرحت کے باعث بنتی تھی۔
خاص کر مریض کے لے کھیل کے میدانوں میں جاکر کھیل کی کشمکش میں اپنا دکھ درد یکبارگی میں بھلا دینا ہوتا تھا ۔کمزور اور پریشاں افراد کھیل کے ذریعے اپنی الجھنوں سے نکل آتے تھے ۔یہ اچانک سے کیا ہوگیا کہ کھیل کا میدان جنگ کے میدان میں تبدیل ہوگیا ۔اور کیا ہونا تھا۔ہر طرف سے پھتروں کی بارشیں برس رہی تھی ۔ایک دوسرے کے خلاف زبان بھی گندہ کررہے تھے ۔اور کیا ہونا تھا۔میں بھی کھیل دیکھنے گھر سے تیار ہوکر نکلا ۔میرے آس پاس باقی لوگ بھی اسی غرض سے راہ پر گامزن تھے ۔کچھ ساعت چلنے کے بعد ہم کھیل کے میدان پہنچے ۔وہاں ضور شور تھی۔ہر فرد واحد اپنے محسن ٹیم کے حق میں نعرے بلند کر رہے تھے ۔کھیل کا میدان رنگ برنگ کے شائقین سے دولہن کی طرح سچ چکا تھا ۔میں بھی آپنی جگہ اس لمحے سے مانوس ہو رہا تھا۔اسی وقت شاہین کلر پوری آب وتاب کے ساتھ گراؤنڈ میں اُترا اور وارم اپ شروع کی۔اس سے چند منٹ بعد آیف سی نیو رنگاہ بھی اپنی شان وشوکت کے ساتھ گراؤنڈ کی زینت بنی ۔دونوں ٹیموں نے اپنے پلیرس کو وارم اپ کئے ۔اب وقت آگیا تھا میچ شروع کرنے کا ،ایک طرف شاہین کلر کے معاون اور دوسری طرف ایف سی نیورنگاہ کے معاون ۔اور کیا ہونا تھا۔میچ شروع ہوگئی ۔کچھ ہی دیر گزرنے کے بعد تماشائیوں نے زیادہ ہمدردیاں اور قربانیاں دیکھانا شروع کیے فی الحال یہ بھی ٹھیک تھا ۔لیکن انہیں یہ کافی نہیں لگا ۔گراونڈ کے ایک کونے میں دو فرد کے درمیان جھگڑا ہوئی اسی نے سارا نظام تہس نہس کردیا۔اور کیا ہونا تھا۔ہر دوسرے کے ہاتھ میں پتھر ۔کھیل کا مقصد قطعاً بھول چکے تھے ۔ہر دوسرا شخص پتھراؤ میں محو تھے ۔طرح طرح کی باتیں میری کانوں سے ٹکراتی تھی ۔بہت سے تلخ مناظر میری آنکھوں سے گزری۔ہم ہمدردی کے دلدل میں پھنس گئے تھے جس سے دینی و اخلاقی اقدار وروایات کو ٹھیس پہنچا۔رنگوں اور علاقوں کے درمیان سرعام امتیازی سلوک نظر آنے لگے ۔اس موقع پر اخوت اور رشتہ انسانیت کو بھلا دیا گیا۔مجھے سخت افسوس اس بات پہ ہے کہ تفریح کے غرض سے آئے ہوئے بچوں اور بزرگوں پر کیا بیت گئی ہوگی ۔بے چارے کتنے ڈرے ہوں گے ۔اور کیا ہونا تھا۔کھیل کو کھیل سمجھ کر نہیں کھیلا گیا بلکہ اسے موت اور زندگی کا سوال سمجھا گیا۔جب بات انسان کی زندگی پہ آتی ہے تو وہ اپنی دفاع کے لیے لڑنے پر آمادہ ہو جاتا ہے ۔لیکن کھیل تفریح کے طور پر لیا جاتا ہے ۔بھلے تفریح کرتے ہوئے کون لڑتا ہے۔مگر سچ ہے کہ ہم نے بہت بڑی غلطی کی وہ بھی اجتماعی طور پر۔
کھیل کا مقصد آپس میں پیار و محبت،شفقت اور اخوت کے جذبے کو فروغ دینا ہے ۔دہشت گردی کرنا بلکل نہیں ۔کھیل سے لطف اٹھایا جاتا ہے چوٹ نہیں ۔کھیل میں ایک دوسرے کو ہاتھ دیا جاتا ہے ہاتھ توڑا نہیں جاتا۔ہمیں پہلے کھیل کے اصول و ضوابط کو سمجھنے اور ان پر منظم ہوکر کھیلنے کی ضرورت ہے۔تاکہ دیکھنے والے ایک مہذب اور شائستہ علاقے کی حیثیت سے دیکھں ۔
اسکردو کھیل کے گراؤنڈ میں CCTV کیمرے نصب کیے جائیں، ایڈووکیٹ خواہر کلثوم ایلیاء شگری
فیصلوں کا بوجھ، توقعات کے حصار اور مصنوعی ذہانت کا واہمہ. ڈاکٹر فیصل سعید ٹورانٹو، کینیڈا
column in urdu Happened




