Decline of Empathy 0

احساس کا زوال. کالم نگار، لیکچرار عزت علی پارا چنار
انسان نے صدیوں کی مسافت طے کرکے چاند پر قدم رکھ دیا، سمندروں کی تہہ میں اتر کر وہاں کے اسرار دریافت کرلیے، فضاؤں کو اپنی پروازوں سے مسخر کرلیا اور ٹیکنالوجی کے ایسے ایسے معجزے تخلیق کرلیے جن کا تصور کبھی محض خواب و خیال کی دنیا میں ممکن تھا۔ دنیا سمٹ کر ایک چھوٹی سی اسکرین میں سما گئی، فاصلے چند لمحوں میں طے ہونے لگے اور انسان نے اپنی سہولتوں میں بے پناہ اضافہ کرلیا، لیکن اس تمام تر ترقی کے باوجود ایک سوال آج بھی اپنی پوری شدت کے ساتھ ہمارے ضمیر کے دروازے پر دستک دے رہا ہے کہ کیا انسان نے ترقی کی اس دوڑ میں انسان ہونا بھی سیکھ لیا ہے؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب کسی سائنسی تجربہ گاہ میں نہیں، بلکہ ہمارے اپنے رویّوں، ہمارے معاشرتی تعلقات اور ہمارے اجتماعی ضمیر کی گہرائیوں میں پوشیدہ ہے۔
آج کا انسان بظاہر پہلے سے کہیں زیادہ باشعور، باخبر اور ترقی یافتہ ہے، مگر اس کے باطن میں ایک عجیب قسم کی ویرانی جنم لے رہی ہے۔ اس کے پاس رابطے کے بے شمار ذرائع ہیں، لیکن دلوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ اس کے پاس الفاظ کی فراوانی ہے، مگر احساس کی قلت ہے۔ وہ دنیا بھر کے حالات سے باخبر ہے، مگر اپنے پڑوس میں بسنے والے کسی مجبور انسان کی بے بسی سے بے نیاز ہے۔ وہ اجنبیوں کی تصاویر پر تعریفی کلمات لکھتا ہے، مگر اپنے ہی گھر میں کسی اداس چہرے کی خاموشی پڑھنے سے قاصر رہتا ہے۔
یہ کیسا عہد ہے کہ انسان کی آواز تو دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچ جاتی ہے، مگر اس کی آہ اپنے ہی معاشرے کے کانوں تک نہیں پہنچ پاتی؟ ہم نے زندگی کو آسان بنانے کے لیے بے شمار ایجادات کیں، مگر شاید زندگی کو خوب صورت بنانے والے بنیادی اصول کہیں پیچھے چھوڑ آئے۔ ہم نے دولت کمانے کے نت نئے طریقے دریافت کیے، مگر کسی غریب کے آنسو پونچھنے کا ہنر فراموش کردیا۔ ہم نے اپنی کامیابیوں کے لیے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کیں، مگر دوسروں کے دکھوں کو اپنے دل میں جگہ دینے کی وسعت کھو دی۔ ہم نے اپنے گھروں کو آرائش و زیبائش سے آراستہ کیا، مگر اپنے دلوں کے دریچوں پر خود غرضی کے پردے ڈال دیے۔
انسانیت کی موت ہمیشہ کسی بڑے سانحے کے ساتھ نہیں ہوتی بعض اوقات یہ کسی بھوکے کو دیکھ کر نظریں پھیر لینے، کسی مظلوم کی فریاد پر خاموش رہنے اور کسی بے سہارا کو تنہا چھوڑ دینے سے بھی واقع ہوتی ہے۔
ہمارے معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم نے انسان کی قدر و قیمت کا پیمانہ اس کی دولت، منصب، لباس اور ظاہری وجاہت کو بنا لیا ہے۔ کسی شخص کے پاس اگر مال و دولت کی فراوانی ہو تو اس کی معمولی بات بھی حکمت و دانائی کا درجہ حاصل کرلیتی ہے، لیکن اگر کوئی مفلس اپنی حق گوئی کے ساتھ سامنے آئے تو اس کی آواز کو اکثر بے وقعت سمجھ کر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ ہم انسانوں کو ان کے کردار سے نہیں، ان کے مرتبے سے پہچاننے لگے ہیں۔ حالاں کہ انسان کی اصل عظمت اس کی جیب میں موجود دولت سے نہیں، بلکہ اس کے دل میں موجود درد مندی سے متعین ہوتی ہے۔ وہ شخص حقیقت میں بڑا نہیں جس کے سامنے لوگ سر جھکانے پر مجبور ہوں، بلکہ بڑا وہ ہے جس کے وجود سے کسی ٹوٹے ہوئے دل کو سہارا ملے، کسی محروم کی آنکھوں میں امید جاگے اور کسی بے آسرا انسان کو تحفظ کا احساس نصیب ہو۔
ہماری اجتماعی زندگی میں بے حسی اس قدر سرایت کرچکی ہے کہ دوسروں کے دکھ اب ہمیں زیادہ دیر تک مضطرب نہیں رکھتے۔ کسی گھر میں فاقہ ہو، کسی ماں کی گود اجڑ جائے، کسی بچے کے خواب غربت کی بھینٹ چڑھ جائیں یا کسی مجبور باپ کی آنکھیں بے بسی سے نم ہوجائیں، تو ہم چند لمحوں کے لیے افسوس کا اظہار کرتے ہیں اور پھر اپنی مصروفیات میں ایسے محو ہوجاتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ یہ محض معاشرتی بے حسی نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کی کمزوری کا ایک ایسا مظہر ہے جس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
سوشل میڈیا نے ہمیں ایک ایسا آئینہ فراہم کیا ہے جس میں ہم اپنی زندگی کے خوب صورت پہلوؤں کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ہماری خوشیاں، ہماری کامیابیاں، ہماری تقریبات اور ہماری آسائشیں چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ مگر اس چمکتی ہوئی دنیا کے پس پردہ کتنے ایسے چہرے ہیں جو مسکراہٹوں کے نقاب تلے اپنے دکھ چھپائے بیٹھے ہیں، کتنے ایسے لوگ ہیں جو دوسروں کی خوشیوں کو دیکھ کر اپنے محرومیوں بھرے شب و روز کا حساب کرتے ہیں، اور کتنے ایسے انسان ہیں جن کی خاموشی کسی گہری فریاد سے کم نہیں ہوتی۔
ہم نے اپنی خوشیوں کی تشہیر تو سیکھ لی، مگر کسی کے غم میں شریک ہونے کا سلیقہ ابھی تک پوری طرح نہیں سیکھ سکے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ترقی کے مفہوم پر ازسرِنو غور کریں۔ ترقی محض بلند عمارتوں، جدید شاہراہوں، تیز رفتار انٹرنیٹ اور جدید ترین مشینوں کا نام نہیں، ترقی اس وقت بامعنی بنتی ہے جب معاشرے کا کمزور ترین فرد بھی عزت، تحفظ اور بنیادی سہولتوں کے ساتھ زندگی گزار سکے۔ جب کسی بچے کو غربت کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ ہونا پڑے، جب کسی بیمار کو علاج کے لیے اپنی بے بسی کا اشتہار نہ بنانا پڑے، جب کسی مزدور کی محنت کو اس کا جائز معاوضہ ملے اور جب کسی انسان کو محض اس کی معاشی حیثیت کی بنیاد پر حقیر نہ سمجھا جائے۔
ایک مہذب معاشرے کی پہچان اس کے امیروں کی آسائشوں سے نہیں، بلکہ اس کے غریبوں کی حالت سے ہوتی ہے۔
انسانیت کی بحالی کے لیے ضروری نہیں کہ ہم کوئی عظیم الشان منصوبہ شروع کریں یا دنیا کو بدلنے کا دعویٰ کریں۔ کبھی کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھنا، کسی غم زدہ انسان کی بات توجہ سے سننا، کسی مجبور کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر اس کی مدد کرنا اور کسی مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنا بھی انسانیت کی آبیاری کے لیے کافی ہوتا ہے۔
ہمیں اپنے گھروں میں بچوں کو محض کامیابی کے راستے نہیں دکھانے چاہییں، بلکہ انہیں انسانوں سے محبت کرنے، دوسروں کے حقوق کا احترام کرنے اور کمزوروں کے ساتھ کھڑے ہونے کا شعور بھی دینا چاہیے۔ تعلیمی اداروں کو محض ڈگریاں تقسیم کرنے کے مراکز نہیں، بلکہ کردار سازی اور احساسِ ذمہ داری کے چراغ روشن کرنے والی درس گاہیں بننا چاہیے۔ معاشرے کے اہلِ ثروت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دولت کی حقیقی معنویت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ کسی محروم کی زندگی میں آسودگی کا سبب بنے۔

عنوان، کاش ، میری زبان پر Edit بٹن ہوتا. نسرین امیرزمان

سعودیہ میں پاکستانی مزدور کی آواز کون بنے گا؟ ۔ ایس ایم مرموی

50% LikesVS
50% Dislikes

احساس کا زوال. کالم نگار، لیکچرار عزت علی پارا چنار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں