Pakistani Workers in Saudi Arabia 0

سعودیہ میں پاکستانی مزدور کی آواز کون بنے گا؟ ۔ ایس ایم مرموی
سعودی عرب میں مقیم پاکستانی محنت کش آج ایک عجیب کشمکش سے گزر رہا ہے ایک طرف روزگار کی غیر یقینی صورتِ حال تو دوسری طرف محدود آمدنی، اور تیسری طرف رہائش و قانونی دستاویزات سے متعلق اخراجات کا دباؤ خصوصاً وہ مزدور جو ایک ہزار سے پندرہ سو ریال ماہانہ کماتا ہے یا دیہاڑی پر زندگی گزار رہا ہے، اس کے لیے چند ہزار ریال کا اضافی بوجھ بھی معمولی بات نہیں۔
سوشل میڈیا اور مختلف حلقوں میں اقامہ و متعلقہ فیسوں کے بارے میں 9,700 ریال تک کے اعداد و شمار گردش کر رہے ہیں مگر ایسی اطلاعات کو حتمی سرکاری فیصلہ سمجھنے سے پہلے سرکاری تصدیق ضروری ہے اصل مسئلہ اس مخصوص رقم سے بھی بڑا ہے اگر ایک مزدور کی آمدنی محدود ہو اور اس کے سامنے سالانہ بھاری اخراجات کھڑے ہوں تو وہ اپنے بچوں کا پیٹ پالے یا کاغذی و قانونی اخراجات پورے کرے؟
ذرا اس مزدور کا تصور کیجیے جو پورا مہینہ گرمی دھوپ اور مشقت میں گزارنے کے بعد ایک ہزار یا پندرہ سو ریال کماتا ہے اس میں کمرے کا کرایہ، کھانا، موبائل، آمدورفت، گھر پاکستان رقم بھیجنا قرض کی قسط اور بچوں کے اخراجات شامل ہیں وہ پہلے ہی اپنی آمدنی کو کئی حصوں میں تقسیم کر چکا ہوتا ہے اب اگر اچانک کوئی بڑا قانونی یا انتظامی خرچ سامنے آجائے تو اس کے پاس بچتا کیا ہے؟ اقامہ کی بڑھتی ہوج فیس جو 9700 ہے محنت کش اقامہ بنائے گا یا گھر پالے گا یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی محنت کشوں کے مسائل کو صرف ایک فیس یا ایک قانون کے تناظر میں نہیں بلکہ مجموعی معاشی صورتِ حال کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ماضی میں بھی سعودی عرب میں غیرملکی کارکنوں سے متعلق فیسوں کو آمدنی کے تناسب سے رکھنے کی تجاویز سامنے آ چکی ہیں۔ 2021 میں شوریٰ کے ایک رکن نے غیرملکی کارکنوں سے متعلق کاروباری فیسوں کو اجرت کے تناسب سے کرنے کی تجویز دی تھی، جبکہ غیرملکی کارکنوں نے بھی کم آمدنی والے افراد پر مالی بوجھ کم کرنے کی ضرورت پر بات کی تھی یعنی یہ سوال آج پہلی مرتبہ نہیں اٹھ رہا پاکستان میں جب بھی سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بات ہوتی ہے تو “برادر اسلامی ملک دیرینہ دوستی اور “مشترکہ مفادات” جیسے الفاظ سنائی دیتے ہیں بلکہ موجودہ حالات میں یکطرفہ محبت میں سرکار کہتی ہے سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ تصور ہوگا تو ہماری سرکار ان محنت کشوں کو کیوں بھولتی ہے انکے مسائل سے بھ خبر کیوں ہے یہاں بیٹھا سفیر سوائے چائے پینے کے کر کیا رہا ہے ان محنت کشوں کے آواز کون بنے گا جو اسوقت مشکلات کا شکار ہیں چھ چھ مہینے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے پریشان بیٹھے ہیں سعودی عرب میں جو پاکستانی مزدور دن رات محنت کر رہا ہے کیا وہ بھی پاکستانی ہے یا نہیں؟ اگر وہ پاکستانی ہے تو اس کی پریشانی بھی پاکستان کے لیے اہم ہونی چاہیےاگر دونوں ممالک کے تعلقات واقعی عوامی سطح پر بھی برادرانہ ہیں تو پھر اس بھائی چارے کا ایک چہرہ اس مزدور کی مشکل میں بھی نظر آنا چاہیے محبت صرف بڑے بیانات سے ثابت نہیں ہوتی
محبت کا اصل امتحان کمزور کے مشکل وقت میں ہوتا ہے
پاکستانی سفارت خانے اور قونصلر ادارے ریاست کے بیرون ملک نمائندے ہوتے ہیں ان سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ پاکستانی شہریوں کے قانونی، انتظامی اور فلاحی مسائل کو متعلقہ حکام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں مگر وہ خاموش بیٹھے نظر آتے ہیں اپنی نوکری کو انجوائے کر رہے ہیں محنت کش جائے بھاڑ میں
جو شخص مہینوں سے روزگار کی تلاش میں ہے جو تنخواہ نہ ملنے سے پریشان ہے جسے قانونی دستاویزات کے اخراجات کا مسئلہ درپیش ہے جس کے بچے پاکستان میں اس کی رقم کے منتظر ہیں اس کے لیے سفارتی نمائندگی محض ایک رسمی اصطلاح نہیں ہونی چاہیے۔
سفارت کاری کا ایک رخ حکومتوں سے تعلق ہے، مگر دوسرا رخ اپنے شہریوں کے مسائل کی نمائندگی بھی ہے
یہ سوال شاید کچھ لوگوں کو ناگوار گزرے، مگر سوال کرنا ضروری ہے۔پاکستان میں جب سعودی عرب کے حوالے سے مذہبی یا سیاسی معاملات سامنے آتے ہیں تو ہمارے بہت سے مذہبی رہنما کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔سعودی عرب کی تعریف میں تقریریں ہوتی ہیں تعلقات پر گفتگو ہوتی ہے محبت اور عقیدت کے جذبات کا اظہار ہوتا ہے لیکن کیا کبھی اسی آواز میں سعودی عرب میں مقیم پاکستانی مزدور کی فریاد بھی شامل ہوگی؟
کیا کبھی کوئی عالم منبر سے یہ بھی کہے گا یہ پاکستانی مزدور بھی ہمارا بھائی ہے، اس کی مشکلات کا خیال رکھا جائے کیا کوئی یہ سوال بھی اٹھائے گا کہ کم آمدنی والے محنت کش کے لیے قانونی اور مالی بوجھ کو کس طرح قابلِ برداشت بنایا جا سکتا ہے؟ یہ سوال کسی ملک کے خلاف نہیں یہ صرف انسان کے حق میں سوال ہے اور اسلام کی اصل روح بھی یہی ہے کہ کمزور انسان کو تنہا نہ چھوڑا جائے مزدور صرف زرمبادلہ بھیجنے والی مشین نہیں حکومت نے بیرون ملک پاکستانی کو اکثر ایک عدد بنا دیا ہے اتنے ارب ڈالر زرمبادلہ آیا اتنے لاکھ پاکستانی بیرون ملک ہیں اتنی رقم پاکستان بھیجی گئی مگر ان اعداد کے پیچھے ایک انسان بھی ہے اس کا نام ہے اس کا گھر ہے اس کے بچے ہیں اس کے بوڑھے والدین ہیں اس کے قرض ہیں اس کے خواب ہیں اور سب سے بڑھ کر اس کی اپنی عزتِ نفس ہے وہ پاکستان سے اس لیے دور نہیں کہ اسے اپنے وطن سے محبت نہیں وہ اس لیے دور ہے کہ اسے اپنے خاندان کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا گھر چھوڑنا پڑا وہ سعودی عرب میں صرف اپنی روزی نہیں کما رہا، پاکستان کے لاکھوں گھروں کے چولہے بھی روشن رکھ رہا ہے۔اس لیے اسے صرف “اوورسیز پاکستانی” کہہ کر اعداد و شمار میں شامل کرنا کافی نہیں اس کے دکھ کو بھی پالیسی کا حصہ بنانا ہوگا یکطرفہ محبت کب تک؟
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات اپنی جگہ اہم ہیں اور ان کا احترام بھی اپنی جگہ مگر ہر تعلق میں باہمی ذمہ داری ہوتی ہے اگر پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو محبت، بھائی چارے اور دوستی کا نام دیتا ہے تو سعودی عرب میں مقیم پاکستانی محنت کش بھی اسی تعلق کا حصہ ہیں ان کے لیے آسانیاں پیدا کرنے، ان کی شکایات سننے اور ممکنہ ریلیف کے راستے تلاش کرنے کی کوشش بھی اسی دوستی کا تقاضا ہو سکتی ہے۔
ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ کم آمدنی والے محنت کش کی استطاعت کو بھی فیصلوں کے انسانی اثرات میں شمار کیا جائے پاکستانی حکومت سعودی حکام کے ساتھ اس معاملے پر سنجیدہ سفارتی گفتگو کر سکتی ہے پاکستانی سفارت خانہ مزدوروں کے مسائل کا ڈیٹا مرتب کر سکتا ہےمحنت کشوں کی شکایات سننے کے لیے مؤثر رابطہ نظام بنایا جا سکتا ہے اور جہاں سعودی قوانین و پالیسیوں کے اندر گنجائش ہو، وہاں کم آمدنی والے کارکنوں کے لیے ممکنہ سہولت یا ریلیف کی درخواست کی جا سکتی ہےآخر میں ایک سوال میں سعودی عرب کے خلاف نہیں میں پاکستان کے خلاف نہیں میں کسی سفارت کار یا عالم دین کے خلاف بھی ذاتی بات نہیں کر رہا میں صرف ایک مزدور کی زبان بن کر پوچھ رہا ہوں
جس مزدور کے پسینے سے پاکستان کے گھروں میں چولہے جلتے ہیں جب وہ خود مشکل میں ہو تو اس کی آواز کون بنے گا؟ وہ مزدور جو ایک ہزار یا پندرہ سو ریال کماتا ہے اگر اس کے سامنے ہزاروں ریال کا خرچ کھڑا ہو جائے تو وہ کہاں جائے؟
لہٰذا حکمرانوں، سفارت کاروں، سیاسی رہنماؤں اور مذہبی شخصیات سے صرف اتنی گزارش ہے سعودی عرب سے محبت ضرور کیجیے مگر سعودی عرب میں موجود پاکستانی مزدور کو بھی مت بھولیے وہ بھی انسان ہیں
کیونکہ دوستی صرف ریاستوں کے درمیان نہیں ہوتی؛
دوستی کا اصل حسن تب ہے جب عام انسان بھی اس کا فائدہ محسوس کرے اور اگر ایک مزدور مسلسل پکار رہا ہو اور کوئی اس کی آواز سننے والا نہ ہو تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے آخر اس کا ولی وارث کون ہے؟ ہم لکھتے اس لیے ہیں کہ خاموشی ٹوٹے۔

جب عقل ہجوم میں گم ہو جائے. کالم نگار: لیکچرار عزت علی پارا چنار

ایک ادبی سفر، ایک نیا پہچان . آمینہ یونس، بلتستانی

ہم اتنے لاپروا کیوں؟ محمد عابد رشید
Pakistani Workers in Saudi Arabia

50% LikesVS
50% Dislikes

سعودیہ میں پاکستانی مزدور کی آواز کون بنے گا؟ ۔ ایس ایم مرموی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں