ہم اتنے لاپروا کیوں؟ محمد عابد رشید
ہم اتنے لاپروا کیوں ہو گئے ہیں؟
یہ سوال بظاہر بہت سادہ ہے، مگر اگر ہم چند لمحے رک کر اپنے اردگرد دیکھیں تو اس کے اندر ہماری پوری معاشرتی زندگی کی ایک تلخ تصویر چھپی ہوئی نظر آتی ہے۔ ہم سب مصروف ہیں، لیکن کس کام میں مصروف ہیں؟ ہم سب کے پاس وقت کم ہے، مگر آخر وقت جا کہاں رہا ہے؟ ہم اپنوں کے لیے فرصت نہیں نکالتے، مگر غیر ضروری مصروفیات کے لیے گھنٹوں ضائع کر دیتے ہیں۔ ہمیں موبائل دیکھنے کا وقت ہے، سوشل میڈیا پر گھنٹوں گزارنے کا وقت ہے، دوسروں کی زندگیوں پر تبصرے کرنے کا وقت ہے، مگر ماں باپ کے پاس چند منٹ بیٹھنے کا وقت نہیں۔ بچوں سے بات کرنے کا وقت نہیں، بہن بھائیوں کا حال پوچھنے کا وقت نہیں، دوست کی خیریت دریافت کرنے کا وقت نہیں۔ ہم شاید یہ بھول گئے ہیں کہ زندگی صرف بڑی کامیابیوں کا نام نہیں، بلکہ چھوٹی چھوٹی ذمہ داریوں کو نبھانے کا نام بھی ہے۔ کبھی ہم صحت کے معاملے میں لاپروا ہوتے ہیں، کبھی رشتوں کے معاملے میں، کبھی اپنے فرائض کے معاملے میں۔ حادثہ ہونے کے بعد احتیاط یاد آتی ہے، بیماری کے بعد صحت کی قدر سمجھ آتی ہے، کسی اپنے کے دور چلے جانے کے بعد اس کی موجودگی کی اہمیت محسوس ہوتی ہے۔ اصل المیہ یہ ہے کہ ہم اکثر قدر تب کرتے ہیں جب وقت ہمارے ہاتھ سے نکل چکا ہوتا ہے۔ہمیں اپنے بچوں کے بدلتے رویوں کا علم نہیں ہوتا، والدین کی خاموشی کا مطلب سمجھ نہیں آتا، شریکِ حیات کی تھکن دکھائی نہیں دیتی، بہن کی پریشانی محسوس نہیں ہوتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہے، حالانکہ بعض اوقات ہمارے اپنے لوگ اندر ہی اندر ہماری توجہ کے منتظر ہوتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ لاپرواہی صرف دوسروں کو نقصان نہیں پہنچاتی، یہ انسان کو خود بھی اندر سے کمزور کر دیتی ہے۔ سڑک پر معمولی سی بے احتیاطی کسی گھر کا چراغ بجھا سکتی ہے۔ زبان سے نکلا ہوا ایک سخت جملہ کسی رشتے میں برسوں کی دوری پیدا کر سکتا ہے۔ ایک نظرانداز کیا گیا پیغام کسی ایسے شخص کو مزید تنہا کر سکتا ہے جو پہلے ہی کسی مشکل میں مبتلا ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی زندگی میں تھوڑا سا ٹھہراؤ پیدا کریں۔
اپنے والدین کو وقت دیں۔
اپنے بچوں کو سنیں۔
اپنے شریکِ حیات کے احساسات سمجھیں۔
اپنے دوستوں کی خیریت پوچھیں۔
اپنی صحت کا خیال رکھیں۔
اپنے فرائض کو بوجھ نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھیں۔ اور سب سے بڑھ کر، اپنے رویے پر نظر رکھیں۔ زندگی بہت تیزی سے گزر رہی ہے۔ جو وقت آج ہمارے پاس ہے، ضروری نہیں کہ کل بھی ہمارے پاس ہو۔ جو لوگ آج ہمارے ساتھ ہیں، ضروری نہیں کہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں۔ اس لیے زندگی کو صرف گزاریں نہیں، محسوس بھی کریں۔ کسی کے لیے چند لمحے نکالنا، کسی کی بات خاموشی سے سن لینا، کسی پریشان انسان کو حوصلہ دے دینا اور کسی اپنے کو یہ احساس دلا دینا کہ “میں تمہارے ساتھ ہوں” شاید ہمارے نزدیک معمولی بات ہو، مگر کسی کی پوری دنیا بدل سکتی ہے۔ آئیے آج خود سے ایک سوال کریں: کیا ہم واقعی مصروف ہیں، یا صرف اپنی ترجیحات میں لاپروا ہو گئے ہیں؟ شاید اس سوال کا جواب ہمیں اپنی زندگی بدلنے کی پہلی وجہ دے دے۔
تشدد کے سائے میں مرتا ہوا معاشرہ. نسرین امیرزمان
شگر تارکول و لنک روڈز سمیت تمام رننگ اسکیموں پر فوری عملی کام شروع کیا جائے، ذکاوت علی نصرالدین
شگر تارکول و لنک روڈز سمیت تمام رننگ اسکیموں پر فوری عملی کام شروع کیا جائے، ذکاوت علی نصرالدین
Careless




