گلگت بلتستان کے علماء پر اعتراض کرنے والوں کو جواب . محمد بشیر حیدری
قارئین کرام! آج اس تحریر کے اس ذریعے آپ سب کی توجہ ایک ایسے اہم مسئلے کہ طرف راغب کرنا چاہتا ہوں جس کہ ہماری معاشرے کو بہت زیادہ ضرورت ہے ،ہر بندے ،ہر جوان کو اس کا شعور ہونا چاہیے ۔
گزشتہ چند دنوں سے سوشل میڈیا پر علماء بلتستان پر کیچڑ اچھالنے والے چند لوگوں کی پوسٹوں کو دیکھ رہا ہوں جن کے نہ سر ہیں نہ پیر ،مگر اس کے باوجود اس موضوع پر لکھنا میں اپنی شرعی زمہ داری سمجھتا ہوں کیونکہ علماء ہماری عزت ہیں ہمارا وقار ہیں اور ہمارا فخر ہیں ۔
دنیا میں یہ روز اول سے ہوتا آیا ہے کہ بد طینت لوگ ہمیشہ نیک طینت لوگوں کے خلاف ہوتے ہیں اور اس کے پیچھے یا انکی اپنی دشمنی ہوتی ہے یا پھر کسی اور بڑے کے کہنے پہ یہ ہوتا ہے ،ایسی ہی کیفیت گلگت بلتستان کے علماء کے ساتھ ہے کہ بعض افراد جن کو باقاعدہ اسی کام کیلیے معاشرے میں انسٹال (install)کیا جاتا ہے علماء کے خلاف زبان درازی کرتے ہیں اور انکی توہین کے بہانے نکالتے ہیں ۔
گلگت بلتستان میں جب بھی کوئی مشکل وقت آن پہنچا ہے ہر وقت علماء کرام نے اسکے لیے اقدامات کیے ہیں اور وہاں کے باسیوں کو ان مشکلات سے اللہ کی مدد سے دور کیا ہے اور وہاں کے عوام علماء کی بات کو من و عن تسلیم بھی کرتے ہیں لہذا وہاں مذہبی فضا قائم ہے اور اللہ کے فضل سے قائدین کی مرہون منت امن و امان ،اتحاد اور بھائی چارے کے فضا قائم ہے۔ اور یہ بات بعض طبقوں کو کھٹکتی ہے کہ ایسا کیوں ہے ؟
یہاں علماء کی بات کیوں مانی جاتی ہے؟
یہاں علماء کو سر کا تاج کیوں مانا جاتا ہے؟
یہاں ہر فیصلے میں علماء کو کیوں شامل کیا جاتا ہے؟
یہاں ہر میدان میں یہاں تک کہ کھیل کے میدانوں میں بھی علماء کی رائے کو تسلیم کیوں کیا جاتا ہے؟
یہ وہ باتیں ہیں جن کی بناء پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت علماء کو عوام کی نظر میں بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کام کیلیے مقامی لوگوں ،بازاری لوگوں اور درباری ملاؤں کو استعمال کیا جاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے علماء کی ساکھ کو بالخصوص مرکزیت کو نقصان پہنچایا جائے کیونکہ ان کو معلوم ہے گلگت بلتستان کے عوام علماء کے ایک حکم پر لبیک کہتے ہوئے جان و مال کی قربانی دینے تک کیلیے تیار رہتے ہیں چاہے وہ قائد ملت جعفریہ بلتستان شیخ محمد حسن جعفری صاحب ہوں ، قائد ملت جعفریہ گلگت سید راحت حسین الحسینی ہوں،سید باقر الحسینی ہوں،آغا علی رضوی ہوں یا کوئی اور عالم دین ۔
مگر دشمن اس سے بخوبی آگاہ ہے اور چاہتا ہے کہ جوانوں ،بزرگوں کو ان سے متنفر کرے ،لہذا ایک مسئلہ ایسا اٹھایا جاتا ہے جو عوام میں مقبول ہو جائے مثلاً کوئی کہے گا فلاں عالم کی گاڑی دیکھو ،فلاں عالم کا گھر دیکھو فلاں شیخ کا پلاٹ دیکھو ،اور ان چیزوں سے انکی بدنامی کا سامان کرنا چاہتا ہے مگر انکو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ عوام بھی اندھے نہیں ہیں وہ جانتے ہیں کون انکا دشمن ہے کون دوست ،کون ساتھی ہے کون باغی، لہذا اب عوام ایسے لوگوں سے آشنا ہوئے ہیں اور وقت کی ضرورتوں کو سمجھتے ہیں ۔
ایک عالم کے پاس گاڑی کے ہونے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟
کیا ایک عالم کو اچھی زندگی گزارنے کا کوئی حق نہیں؟
کیا ایک عالم کو اپنے بچوں کو اچھے سکول ،کالج میں پڑھانے کا کوئی حق نہیں ؟
عوام آگاہ ہے اور اب دشمن کے دھوکے میں نہیں آتی ۔
یہ لوگ جو علماء پہ بھونکتے ہیں انکی عقل شاید گھاس چرنے گئی ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ علماء ہمیشہ غریب رہیں،تاکہ انکے محتاج رہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے میرا نظریہ ہے بلکہ میرا کیا یہ بزرگ علماء کرام اور مجتہدین کا نظریہ ہے کہ ” علماء کو محتاج نہیں ہونا جاہیے یعنی اپنی زندگی میں محتاج نہیں ہونا چاہیے Indepenpendent ہونا چاہیے تاکہ وہ دنیا کے بدلے دین کو نہ بیچے”۔کیونکہ اگر عالم دین محتاج ہوگا ،اسکے گھر میں فاقے ہونگے تو وہ ممبر و محراب سے وہی کہے گا جو لوگ چاہیں گے اور وہ مخلوق کی مرضی کے بدلے خدا کی ناراضگی مول لے گا ۔اور امام حسین علیہ السلام کا مشہور قول ہے کہ “وہ قوم کبھی فلاح نہیں پا سکتی جو مخلوق کی مرضی کے عوض خدا کی ناراضگی خرید لیتی ہے۔”
لہذا علماء جب مستقل ہونگے تو وہ نڈر ہونگے اور دین کو اسکے حقیقی طریقے سے پہنچائیں گے ،اور یہ جو اعتراض کرتے ہیں وہ خود بھی مجبور ہیں کیونکہ انکے گلے کی رسی کسی اور کے ہاتھوں میں ہوتی ہے جس سے انکو کنٹرول کیا جارہا ہوتا ہے اور وہ فیس بک،واٹس ایپ ،ٹک ٹاک پر علماء کے خلاف پوسٹس کرتے ہیں مگر الحمدللہ انکو عوام کی طرف سے منہ کی کھانی پڑتی ہے۔
عوام اور جوانوں کو کھلی دعوت شعور ہے کہ ایسے لوگوں کو پہچانیں چائے وہ سیاسی بندہ ہو، ایک درباری یا بکاو عالم ہو ،ایک استاد ہو یا کوئی عام بندہ انکو انکے بلوں میں واپس بھیج دیں اور بالخصوص جوانوں سے گزارش ہے کہ اگر آپکا کوئی استاد یونیورسٹی یا کالج میں آپکو غلط رخ ہی ملے کی جانے کی کوشش کرے تو اٹھ کھڑے ہوں انکو یہ کہہ کے ٹوکنے کی ہمت پیدا کریں کہ استاد جی اس پر اپنا سبجیکٹ پڑھائیں ہمارے علماء کے خلاف کوئی بات نہ کریں کیونکہ علماء کرام ہماری ریڈ لائن ہیں جن سے ہم کبھی دستبردار نہیں ہونگے اور الحمد اللہ ہم نے یہ ثابت بھی کیا ہے کئی موقعوں پر،چاہے وہ مالی تعاون ہو یا ان کے لیے آواز اٹھانی ہو ہم نے ہمیشہ علماء کا ساتھ دیا ہے اور انشاءاللہ ہمیشہ دیتے رہیں گے کیونکہ علماء ہمارے محسن ہیں اور ہم اپنے محسنوں کو کبھی فراموش نہیں کرتے ،ہم احسان فراموش نہیں ہیں ،ہم جانتے ہیں انہی علماء کی مرہون منت ہیں کہ ہم آج مسلمان ہیں اور دنیا میں اچھے مسلمانوں کی فہرست میں جانے جاتے ہیں اور ہر جگہ گلگت بلتستان کے لوگوں کی تعریفیں ہوتی ہیں ۔
میں خود پنجاب میں ہوں اور خدا کی قسم میں کہہ سکتا ہوں کئی بار مجھے فخر محسوس ہوا ہے اپنے علماء کی خدمات پر کہ انہوں نے ہمیں راہ راست پر گامزن رکھا ہوا ہے ،اور ہمیں ہر حوالے سے مذہبی آشنائی کرائی ہے ،بلتستان کا ایک عام جوان بھی تین چار سال مدرسہ پڑھے ہوئے ایک طالب علم کے برابر نہ ہو تو اس سے کم بھی نہیں ہے کیونکہ وہ کم از کم اپنے ضروری احکام سے تو آگاہ ہے ۔یہ سب علماء کے احسانات ہیں جن کے ہم مقروض ہیں ، ہم علماء کے احسانات کے تلے ہیں ہمیں مسلمان بنانے کیلیے(امیر کبیر،شمس الدین عراقی ،بوا شاہ عباس ،شیخ علی برولمو سسر دیگر جن کے نام ذہن میں نہیں آرہے) انکے کلمہ پڑھانے سے لیکر آغا باقر حفظہ اللہ کے واٹر ڈائیورجن کی خدمات تک ہم انکے احسانات کے مقروض ہیں ۔
لہذا علماء کی قدر کریں انکی خدمات کو مد نظر رکھیں ،انکے مقام کو مدنظر رکھیں کیوں کہ ایک عالم آسانی سے عالم نہیں بنتا بلکہ اسکے پیچھے سالوں کی محنت ہوتی ہے اور اللہ نے انکو بہت بڑا مقام عطا کیا ہوا ہے ،انکی عزت کریں ،اور ایسے لوگوں کے منہ بند کریں جو علماء پہ بھونکتے ہیں ۔
علماء ہماری پہچان علماء ہماری آن
Gilgit-Baltistan news




