سفید کوٹ کے پیچھے چھپا بازار .کالم نگار لیکچرار عزت علی پارا چنار
کبھی کبھی معاشرے کے کچھ سوال ایسے ہوتے ہیں جنہیں زبان پر لاتے ہوئے انسان خود اپنے الفاظ سے خوف زدہ ہونے لگتا ہے۔ یہ بھی انہی سوالوں میں سے ایک ہے کہ ڈاکٹر آخر ڈاکٹر کیوں بنتا ہے؟ کیا اس لیے کہ بیمار انسان کی نبض میں زندگی کی آخری رمق کو محسوس کرکے اسے موت کے منہ سے واپس لائے؟ کیا اس لیے کہ کسی ماں کی آنکھوں میں اپنے بچے کی زندگی کی امید بن کر اترے؟ یا اس لیے کہ سفید کوٹ کو ایک ایسے کاروباری لباس میں بدل دے جس کی جیب میں ہر مریض کی مجبوری کا حساب لکھا ہو؟
یہ سوال تمام ڈاکٹروں کے لیے نہیں، بلکہ اس رویّے کے لیے ہے جو طب کو خدمت سے تجارت اور مریض کو انسان سے گاہک بنا دیتا ہے۔
ڈاکٹر کا مقام معاشرے میں ہمیشہ غیر معمولی رہا ہے۔ ایک استاد علم دیتا ہے، ایک وکیل حق کی جنگ لڑتا ہے، ایک انجینئر عمارت تعمیر کرتا ہے، مگر ڈاکٹر کے سامنے انسان اپنی زندگی رکھ دیتا ہے۔ مریض اپنا جسم، اپنا خوف، اپنی امید اور بعض اوقات اپنی زندگی ڈاکٹر کے حوالے کرتا ہے۔ یہی اعتماد طب کے پیشے کو محض ایک پیشہ نہیں رہنے دیتا، اسے اخلاقی ذمہ داری میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اسی لیے جب کوئی ڈاکٹر اپنے فرائض کو محض آمدن کے ترازو میں تولنے لگے تو مسئلہ صرف فیس کا نہیں رہتا، اعتماد کے ٹوٹنے کا مسئلہ بن جاتا ہے۔
پاکستان کا طبی نگران ادارہ PM&DC بھی موجودہ اخلاقی ضابطے میں مریضوں کے تحفظ، پیشہ ورانہ ذمہ داری اور عوام کے اعتماد کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ 2026 میں PM&DC نے نظرثانی شدہ Code of Ethics نافذ کرنے کا اعلان بھی کیا، جس کا مقصد پیشہ ورانہ احتساب اور مریضوں کے تحفظ کو مضبوط کرنا بتایا گیا۔
مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں سرکاری ہسپتال کا ڈاکٹر سرکاری اوقات میں اپنی ذمہ داری سے غافل ہو، مگر نجی کلینک میں وقت کی پابندی کے ساتھ موجود ہو۔ یہاں سوال صرف ڈاکٹر سے نہیں، پورے نظام سے ہے۔
اگر ایک سرکاری ملازم کو ریاست عوام کی خدمت کے لیے مقرر کرتی ہے، تنخواہ دیتی ہے اور مخصوص اوقات میں اس کی خدمات عوام کے لیے مختص کرتی ہے، تو ان اوقات میں غیر حاضری محض ایک شخص کی غیر حاضری نہیں یہ اس غریب مریض کے حق سے محرومی ہے جس کے پاس نجی ہسپتال کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں۔
ایک غریب آدمی سرکاری ہسپتال کے دروازے پر اس امید سے پہنچتا ہے کہ یہاں اس کی بیماری کا علاج اس کی جیب نہیں بلکہ اس کی ضرورت دیکھ کر ہوگا۔ مگر اگر اسے وہاں ڈاکٹر نہ ملے اور وہی ڈاکٹر چند گھنٹوں بعد نجی کلینک میں دستیاب ہو تو غریب کے لیے یہ محض طبی مسئلہ نہیں رہتا، یہ احساسِ محرومی بن جاتا ہے۔
پاکستان کے صحت کے نظام پر عالمی ادارۂ صحت کی ایک تحقیقی جائزہ رپورٹ میں بھی سرکاری صحت کے شعبے میں عملے کی کمی، غیر حاضری اور صحت کی سہولیات تک مریضوں کی محدود رسائی جیسے مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی۔ لیکن یہاں ایک بنیادی فرق سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ہر نجی کلینک چلانے والا ڈاکٹر بددیانت نہیں، اور ہر زیادہ فیس لینے والا ڈاکٹر قصاب نہیں۔ ایک ڈاکٹر نے برسوں تعلیم حاصل کی، تربیت حاصل کی، اپنی مہارت اور وقت صرف کیا ، اس کی پیشہ ورانہ خدمات کی مناسب اجرت کا حق اپنی جگہ موجود ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب دولت مقصد بن جائے اور مریض ذریعہ۔ مجھے ایک ایسے ڈاکٹر کا واقعہ سننے کو ملا جس نے سرکاری ملازمت اس وجہ سے چھوڑ دی کہ وہاں آمدن کم اور پابندیاں زیادہ تھیں، جبکہ نجی شعبے میں زیادہ آمدن اور زیادہ آزادی میسر تھی۔ یہ واقعہ اگر درست ہے تو متعلقہ شخص کا اپنا فیصلہ ہے، لیکن اس واقعے کے ذریعے ایک بڑا سوال ضرور پیدا ہوتا ہے۔ کیا طب کو صرف اس لیے اختیار کیا جائے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ دولت کمائی جا سکے؟ اگر کسی ڈاکٹر کے لیے ہر مریض صرف ایک فیس، ہر آپریشن صرف ایک رقم اور ہر بیماری صرف ایک کاروباری موقع بن جائے تو پھر سفید کوٹ اپنی معنویت کھونے لگتا ہے۔
فرض کیجیے کسی آپریشن کی فیس دو لاکھ روپے ہے۔ دو لاکھ لینا بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ ڈاکٹر ظالم یا لالچی ہے، آپریشن کی نوعیت، پیچیدگی، ہسپتال کے اخراجات، عملے، آلات، ڈاکٹر کی تخصص اور دیگر حقیقی اخراجات سب اہم عوامل ہیں۔ لیکن سوال وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں مریض کی مجبوری قیمت بڑھانے کا سبب بن جائے۔
مریض کے پاس اکثر انتخاب نہیں ہوتا۔ وہ درد میں ہوتا ہے۔ وہ خوف میں ہوتا ہے۔ اس کے سامنے ایک بیمار بچہ ہوتا ہے۔ ایک ماں ہوتی ہے۔ ایک باپ ہوتا ہے۔ کسی گھر کا واحد کمانے والا شخص ہوتا ہے۔اور دوسری طرف ڈاکٹر ہوتا ہے، جس کے پاس علم بھی ہے، اختیار بھی اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت بھی۔ یہ طاقت اگر رحم کے ساتھ استعمال ہو تو ڈاکٹر مسیحائی کی علامت بن جاتا ہے اور اگر مفاد اس طاقت پر غالب آجائے تو وہی طاقت استحصال کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اسی لیے ڈاکٹر کو یہ سوال اپنے آپ سے ضرور کرنا چاہیے۔ میں مریض کا علاج کر رہا ہوں یا اس کی مجبوری کا؟
یہ سوال صرف ڈاکٹروں کے لیے نہیں۔ معاشرے کے ہر پیشے کے لیے ہے۔ استاد اگر علم کو تجارت بنا دے، وکیل اگر انصاف کو قیمت بنا دے، تاجر اگر ضرورت کو استحصال بنا دے، صحافی اگر خبر کو سودا بنا دے اور سیاست دان اگر عوام کو سیڑھی بنا دے تو ہر جگہ ایک ہی بیماری جنم لیتی ہے: انسان پسِ پشت چلا جاتا ہے اور مفاد سامنے آ جاتا ہے۔
لیکن ڈاکٹر کے معاملے میں اس کا اثر زیادہ گہرا ہے، کیونکہ یہاں معاملہ انسان کی زندگی سے متعلق ہے۔
ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اسی معاشرے میں ایسے ڈاکٹر بھی موجود ہیں جو دور دراز علاقوں میں خدمت انجام دیتے ہیں، غریب مریضوں کی مدد کرتے ہیں، رات گئے ہسپتال پہنچتے ہیں، اپنی استطاعت سے بڑھ کر مریضوں کے لیے آسانی پیدا کرتے ہیں اور بعض اوقات اپنی فیس معاف کر دیتے ہیں۔ ایسے ڈاکٹر دراصل اس سفید کوٹ کی عزت کو زندہ رکھتے ہیں۔
لہٰذا تنقید ڈاکٹر کے پیشے پر نہیں، پیشے کی تجارت پر ہونی چاہیے۔
ہمیں ڈاکٹروں سے یہ نہیں کہنا چاہیے کہ وہ پیسہ نہ کمائیں۔ ہم صرف یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ پیسہ کمانے کی دوڑ میں مریض کہاں کھڑا ہے؟
ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ڈاکٹر نجی کلینک نہ چلائے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص سرکاری ملازمت میں ہے تو کیا وہ اپنے سرکاری فرائض، مقررہ اوقات اور ادارے کی ذمہ داری پوری کر رہا ہے؟
ہمیں یہ نہیں کہنا چاہیے کہ ڈاکٹر فیس نہ لے۔ سوال یہ ہے کہ کیا فیس شفاف، معقول اور مریض کی عزت و مجبوری کا لحاظ رکھنے والی ہے؟
کیونکہ مسئلہ دولت نہیں، دولت کی پرستش ہے۔ مسئلہ فیس نہیں، مریض کو فیس میں تبدیل کر دینا ہے۔ مسئلہ نجی کلینک نہیں، سرکاری ذمہ داری کو نجی مفاد کے نیچے دفن کر دینا ہے۔
اور شاید سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے بعض جگہوں پر احتساب کے دروازے اتنے تنگ کر دیے ہیں کہ شکایت کرنے والا مریض خود کو بے بس محسوس کرتا ہے۔
Behind the White Coat




