Thriving Places 0

کالم : آباد عبادت گاہیں، ویران انسانیت. لیکچرار عزت علی پارا چنار
ہمارا المیہ یہ نہیں کہ ہماری مسجدیں آباد ہیں، ہماری عبادت گاہوں میں چراغاں ہے، اذانوں کی صدائیں فضاؤں میں گونجتی ہیں اور سجدہ گاہیں نمازیوں سے پُر ہیں بلکہ ہمارا اصل المیہ یہ ہے کہ عبادت گاہوں کی رونقوں کے باوجود معاشرے کا ایک بڑا طبقہ بھوک، افلاس، محرومی اور بے کسی کی تاریکیوں میں بھٹک رہا ہے۔ محراب و منبر سے تقویٰ، اخوت اور مساوات کے درس دیے جاتے ہیں، مگر انہی درس گاہوں کے سایے میں کوئی بھوکا پیٹ لیے رات بسر کرتا ہے، کوئی نادار باپ اپنے بچوں کی بھوک سے بے بس ہو کر آنسو بہاتا ہے اور کوئی مجبور ماں اپنی اولاد کو تسلی دینے کے لیے جھوٹی امیدوں کے چراغ روشن کرتی ہے۔
یہ کیسا تضاد ہے کہ ہم اپنے رب کے حضور سر جھکانے میں تو پیش پیش ہیں، مگر اپنے ہی جیسے انسانوں کے دکھوں کے سامنے ہماری گردنیں اکڑ جاتی ہیں؟ ہماری زبانوں پر ذکرِ الٰہی جاری ہے، مگر ہمارے دلوں میں انسانیت کی پیاس کیوں نہیں جاگتی۔ ہم عبادت گاہوں کی تعمیر پر لاکھوں کروڑوں خرچ کرنے کے لیے آمادہ ہیں، مگر کسی بھوکے کے لیے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتے ہوئے ہمارے ہاتھ کیوں لرزنے لگتے ہیں۔ ہم مساجد کے بلند میناروں کو اپنی عظمت کی علامت سمجھتے ہیں، مگر اپنے ہمسائے کے گھر میں جلتے ہوئے فاقوں کے الاؤ سے بے خبر کیوں رہتے ہیں۔
یاد رکھیے! عبادت محض چند رسوم کی ادائیگی، چند الفاظ کی تکرار اور چند لمحوں کی ریاضت کا نام نہیں، عبادت تو انسان کے باطن میں ایسی روشنی پیدا کرنے کا نام ہے جو اسے دوسروں کے درد کا احساس عطا کرے، جو اس کے دل میں محتاجوں کے لیے رحم، یتیموں کے لیے شفقت اور بھوکوں کے لیے دسترخوان بچھانے کا جذبہ پیدا کرے۔ اگر ہماری عبادت ہمیں انسانوں کے دکھوں سے بے نیاز کر دے، اگر ہمارے سجدے ہمارے اندر احساسِ ذمہ داری بیدار نہ کریں اور اگر ہماری مذہبی وابستگی ہمارے کردار میں ہمدردی، دیانت اور انصاف پیدا نہ کر سکے تو ہمیں اپنے طرزِ عمل پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔
معاشرے کی حقیقی خوبصورتی صرف بلند و بالا عمارتوں، آراستہ عبادت گاہوں اور پُررونق اجتماعات میں نہیں، بلکہ اس احساس میں پنہاں ہے کہ کوئی انسان بھوکا نہ سوئے، کوئی یتیم بے آسرا نہ رہے، کوئی بیوہ بے یارومددگار نہ ہو اور کوئی مجبور اپنی بنیادی ضروریات کے لیے در در کی ٹھوکریں نہ کھائے۔ مذہب ہمیں صرف خدا سے تعلق استوار کرنا نہیں سکھاتا، بلکہ اس تعلق کی روشنی میں مخلوقِ خدا کے حقوق پہچاننے کا شعور بھی عطا کرتا ہے۔
افسوس کہ ہم نے دین کی ظاہری علامتوں کو تو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیا، مگر اس کی روح، اس کے اخلاقی تقاضوں اور اس کے پیغامِ مساوات کو اکثر پسِ پشت ڈال دیا۔ ہم نے عبادت گاہوں کو آباد کرنے کا اہتمام تو کیا، مگر دلوں کو آباد کرنے کی فکر نہ کی۔ ہم نے چراغوں کی روشنی بڑھائی، مگر ان گھروں کے اندھیروں کو نظرانداز کر دیا جہاں بھوک، بیماری اور بے روزگاری نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ معاشرے کی سب سے بڑی عبادت کسی بھوکے کو کھانا کھلانا، کسی مجبور کا سہارا بننا اور کسی دکھی دل کو تسلی دینا بھی ہے۔ مسجدوں کی رونق اپنی جگہ، مگر اس رونق کا حقیقی حسن تب نمایاں ہوتا ہے جب اس کی دہلیز سے نکلنے والا انسان اپنے گردوپیش کے دکھوں کو محسوس کرے، کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھامے اور کسی محروم کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیرنے کا وسیلہ بنے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ خدا کی عبادت اور انسانیت کی خدمت ایک دوسرے کی ضد نہیں، بلکہ ایک ہی اخلاقی شعور کے دو اہم مظاہر ہیں۔ جس معاشرے میں عبادت گاہیں آباد ہوں مگر انسانیت بھوک سے نڈھال ہو، وہاں محض عبادت گاہوں کی رونق پر فخر کرنے کے بجائے انسانوں کی محرومیوں کو دور کرنے کی فکر بھی لازم ہے۔ کیونکہ اصل المیہ مسجدوں کا آباد ہونا نہیں، بلکہ ان کے سائے میں انسانیت کا بھوکا رہ جانا ہے اصل سوال یہ نہیں کہ ہمارے سجدے کتنے طویل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہمارے دل کتنے وسیع ہیں اور ہمارے دسترخوان پر دوسروں کے لیے کتنی گنجائش ہے۔

Thriving Places

50% LikesVS
50% Dislikes

کالم : آباد عبادت گاہیں، ویران انسانیت. لیکچرار عزت علی پارا چنار

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں