Entire Home 0

بیوی… صرف رشتہ نہیں، ایک پورا گھر ہے ایک لفظ “Home” اور ازدواجی زندگی کا پورا فلسفہ . محمد عابد رشید
ایک دن ایک بیٹی نے اپنے والد کا موبائل اٹھایا۔ کسی کام سے نمبر تلاش کرتے ہوئے اس کی نظر اپنی والدہ کے محفوظ نمبر پر پڑی۔ نام دیکھ کر وہ چند لمحوں کے لیے رک گئی۔ وہاں والدہ کا نام نہیں، صرف ایک لفظ لکھا تھا:
“Home”
بیٹی نے حیرت سے اپنے والد سے پوچھا:
“بابا! آپ نے ممی کا نام Home کیوں لکھ رکھا ہے؟”
والد نے مسکرا کر جواب دیا:
“بیٹا! انسان دنیا میں کہیں بھی چلا جائے، کتنی ہی دور نکل جائے، کتنی ہی مصروفیات میں گھِر جائے، آخرکار سکون اسے اپنے گھر میں ہی ملتا ہے۔ میرے لیے تمہاری ماں صرف میری بیوی نہیں… وہ میرا گھر ہے۔”
بیٹی خاموش ہو گئی، مگر شاید اس ایک جملے نے اسے زندگی کا ایک ایسا سبق دے دیا جسے کوئی کتاب بھی اتنی خوبصورتی سے نہیں سمجھا سکتی تھی۔
گھر صرف دیواروں کا نام نہیں
ہم اکثر گھر کو اینٹوں، سیمنٹ، فرنیچر اور خوبصورت پردوں سے جوڑتے ہیں، حالانکہ گھر کی اصل خوبصورتی ان چیزوں میں نہیں ہوتی۔
گھر وہاں بنتا ہے جہاں انسان اپنی تھکن اتار سکے، جہاں خاموشی بھی سمجھی جائے، جہاں آنکھوں میں چھپی پریشانی کو لفظوں کا محتاج نہ ہونا پڑے، جہاں ناکامی پر طعنہ نہیں بلکہ حوصلہ ملے اور جہاں دنیا بھر کی تلخیوں کے بعد دل کو یہ اطمینان ہو کہ کوئی ہے جو میرا منتظر ہے۔
اور اکثر اس “گھر” کی روح ایک عورت ہوتی ہے۔
وہ عورت جو اپنا گھر چھوڑ کر آپ کا گھر بساتے ہوئے آتی ہے
ایک عورت جب شادی کے بعد اپنے والدین کا گھر چھوڑتی ہے تو صرف ایک گھر نہیں چھوڑتی، وہ اپنی عادتیں، اپنی سہولتیں، اپنی یادیں اور اپنی دنیا کا ایک بڑا حصہ پیچھے چھوڑ آتی ہے۔
وہ ایک نئے گھر میں آتی ہے اور آہستہ آہستہ اسے اپنا بنا لیتی ہے۔
وہ کبھی بیوی بن کر ساتھ دیتی ہے، کبھی دوست بن کر سنتی ہے، کبھی ماں بن کر فکر کرتی ہے، کبھی مشیر بن کر راستہ دکھاتی ہے اور کبھی خاموش رہ کر بھی بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔
وہ اپنی خواہشیں مؤخر کرکے بچوں کی ضرورتیں پوری کرتی ہے، شوہر کی پریشانی کو محسوس کرتی ہے اور گھر کے سکون کے لیے کئی بار اپنی تکلیف بھی چھپا لیتی ہے۔
مگر عجیب بات یہ ہے کہ جس عورت کی موجودگی سے گھر آباد رہتا ہے، اسی کی خاموش محنت اکثر سب سے زیادہ نظرانداز کر دی جاتی ہے۔
محبت صرف “I Love You” کہنے کا نام نہیں
محبت یہ نہیں کہ سال میں ایک دن پھول دے دیے جائیں۔
محبت یہ ہے کہ روزمرہ کی زندگی میں ایک دوسرے کی عزت کی جائے۔
محبت یہ ہے کہ شوہر تھکا ہوا گھر آئے تو بیوی اس کے چہرے سے تھکن پڑھ لے، اور بیوی سارا دن گھر سنبھالنے کے بعد تھک جائے تو شوہر اس کی خاموشی سمجھ لے۔
محبت یہ ہے کہ اختلاف ہو تو لہجہ نہ بدلے۔
غصہ آئے تو عزت نہ چھینے۔
غلطی ہو تو انسان کو اس کی غلطی سے بڑا سمجھا جائے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ایک دوسرے کو اپنا سمجھ کر، ایک دوسرے کی قدر کی جائے۔
کبھی سوچا ہے؟ اگر “Home” ہی خالی ہو جائے تو…
انسان پوری دنیا میں کامیاب ہو سکتا ہے۔
اس کے پاس دولت ہو سکتی ہے، شہرت ہو سکتی ہے، بڑی گاڑی، خوبصورت گھر اور بے شمار تعلقات ہو سکتے ہیں۔
لیکن اگر گھر میں سکون نہیں تو یہ سب کچھ ادھورا محسوس ہوتا ہے۔
اسی لیے بیوی کے موبائل نمبر کے سامنے لکھا ہوا ایک چھوٹا سا لفظ “Home” دراصل بہت بڑی حقیقت بیان کرتا ہے۔
گھر وہ جگہ نہیں جہاں انسان صرف رہتا ہے؛
گھر وہ جگہ ہے جہاں انسان خود کو محفوظ، محترم اور اپنا محسوس کرتا ہے۔
اپنی بیوی کو صرف ذمہ داری نہیں، نعمت سمجھیں
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے شریکِ حیات کی قدر اُس وقت نہ کریں جب وہ بیمار ہو، ناراض ہو یا زندگی سے دور ہو جائے۔
قدر آج کریں۔
اس کی محنت کو آج سراہیں۔
اس کے ساتھ آج نرمی سے بات کریں۔
کبھی بغیر کسی وجہ کے اس کا شکریہ ادا کریں اور کبھی اس سے صرف اتنا کہہ دیں:
“تم میری زندگی کا حصہ نہیں، میری زندگی کے سکون کا ایک بڑا سبب ہو۔”
شاید یہ جملہ اس کے لیے کسی قیمتی تحفے سے زیادہ معنی رکھتا ہو۔
آخر میں بس اتنا:
دنیا انسان کو بہت سے پتے دیتی ہے،
مگر سکون کا پتہ اکثر ایک ہی ہوتا ہے—
“Home”
اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہیں گھر صرف رہنے کے لیے نہیں، لوٹنے کے لیے ملتا ہے۔

Entire Home

کالم : آباد عبادت گاہیں، ویران انسانیت. لیکچرار عزت علی پارا چنار

منصوبوں میں فردا کے بدل جائے تو اچّھا. ماضی کی کسک دل سے نکل جائے تو اچّھا . نقد ونظر بر غزل۔یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

محبوب کے اعضائے رئیسہ: عاشق کی میڈیکل رپورٹ . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان

50% LikesVS
50% Dislikes

بیوی… صرف رشتہ نہیں، ایک پورا گھر ہے ایک لفظ “Home” اور ازدواجی زندگی کا پورا فلسفہ . محمد عابد رشید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں