افسانہ: حرفِ دعا . ناہید مرزا
رات اپنے آخری پہر میں داخل ہو چکی تھی۔ کھڑکی کے شیشوں پر بارش کی بوندیں مسلسل دستک دے رہی تھیں۔ کمرے میں مدھم روشنی پھیلی تھی اور میز پر رکھا موبائل فون خاموش پڑا تھا، مگر اس خاموشی کے اندر بھی ایک خبر چیخ رہی تھی۔
حادثہ ہوا تھا۔
خبر مختصر تھی، مگر اس کے اثرات بے حد وسیع۔ اس نے کئی بار فون ملایا، مگر دوسری طرف خاموشی تھی۔ ہر گزرتا لمحہ اس کے دل پر ایک نئے سوال کی طرح اتر رہا تھا۔ اسکرین پر وہی نام روشن تھا، مگر جواب کہیں نہیں تھا۔ کبھی وہ فون کو گھورتی، کبھی سینے سے لگا لیتی، جیسے اس طرح خاموشی کے پار موجود شخص تک پہنچ جائے گی۔
اسے پہلی بار شدت سے محسوس ہوا کہ کسی انسان کی موجودگی ہماری زندگی میں کتنی گہری جگہ بنا سکتی ہے۔ جب تک کوئی ہمارے پاس ہوتا ہے، ہم اس کی اہمیت کو معمول سمجھتے رہتے ہیں، مگر اس کے چھن جانے کا امکان سامنے آ جائے تو زندگی کے سارے معمولی پیمانے بکھر جاتے ہیں۔
اس نے آنکھیں موند لیں۔ ہونٹ ہلے، مگر آواز نہ نکلی۔ پھر بے اختیار ہاتھ اٹھا دیے۔
“یا اللہ! انہیں کچھ نہ ہو۔”
بس اتنی سی دعا تھی، مگر اس لمحے اسے محسوس ہوا، جیسے اس کے اندر کی پوری دنیا اسی ایک جملے میں سمٹ آئی ہو۔ آنکھوں کے سامنے کئی منظر ایک ساتھ ابھرے: ایک مسکراتا ہوا چہرہ، بے فکری سے کہی گئی باتیں، وہ معمولی سی ناراضگیاں جنہیں وہ کبھی اہم نہیں سمجھتی تھی۔ اچانک اسے ڈر لگا کہ کہیں یہی معمولی لمحے اس کی آخری یادیں نہ بن جائیں۔
محبت شاید یہی ہے کہ کسی کے لیے اٹھنے والا خوف، اپنے خوف سے کہیں بڑا ہو جائے۔
کچھ دیر بعد فون کی گھنٹی بجی۔ وہ فوراً فون کی طرف بڑھی۔ دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا کہ اسے لگا، شاید دوسری طرف موجود شخص بھی اس کی دھڑکن سن لے گا۔ اس نے کال اٹھائی۔
“میں ٹھیک ہوں۔”
یہ چند لفظ جیسے اس کے اندر رکی ہوئی سانس کے لیے راستہ بن گئے۔ اس نے آنکھیں بند کر لیں۔
“سچ؟”
اس کی آواز میں یقین سے زیادہ تصدیق کی بے قراری تھی۔
“ہاں، بالکل ٹھیک ہوں۔”
وہ جواب دینا چاہتی تھی، مگر آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اسے سمجھ نہیں آیا کہ شکر ادا کرے، ناراض ہو، روئے یا ہنسے۔ دل چاہا کہ اسے ڈانٹے کہ اس نے اتنی دیر کیوں کی، پھر خیال آیا کہ اگر وہ واقعی جواب نہ دیتا تو؟ اس خیال نے اس کے اندر ایک سرد لہر دوڑا دی۔
شاید بعض خوشیاں بھی انسان کو بے زبان کر دیتی ہیں، کیونکہ ان کے ساتھ گزرے ہوئے خوف کی پرچھائیاں بھی جڑی ہوتی ہیں۔
چند دن بعد اس نے اسے ایک خط لکھا۔ کئی بار قلم اٹھایا، کئی بار رکھ دیا۔ کچھ جملے لکھ کر کاٹ دیے، کچھ احساسات کاغذ پر آنے سے پہلے ہی آنکھوں میں اتر آئے۔ آخرکار خط میں شکایت بھی تھی، محبت بھی اور وہ خوف بھی، جسے زبان پر لانا آسان نہیں ہوتا۔
اس نے لکھا کہ اگر کبھی ایسا ہو جاتا تو وہ کہاں جاتی؟ کس دروازے پر دستک دیتی؟ کس سے پتہ پوچھتی کہ وہ کہاں ہے؟ یہ سوال لکھتے ہوئے اس کے ہاتھ رک گئے، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ وہ دراصل حادثے کے بارے میں نہیں، اپنے اندر کے اس خلا کے بارے میں لکھ رہی تھی جو اس کے بغیر پیدا ہو جاتا۔
جواب آیا:
“محبت کو پتے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ دعا بن کر پہنچ جاتی ہے۔”
وہ دیر تک اس جملے کو دیکھتی رہی۔ آنکھیں لفظوں پر تھیں، مگر ذہن اس آواز کو سن رہا تھا جس میں یہ جملہ کہا گیا تھا۔ دل میں ایک نرم سی گرمی اتری، مگر ساتھ ہی ایک انجانا خوف بھی جاگا: اگر دعا راستہ بنا سکتی ہے تو کیا کبھی دعا کسی کو واپس بھی لا سکتی ہے؟
پھر اسے محسوس ہوا کہ انسان نے دنیا کے ہر رشتے کے لیے پتے، نام اور شناختیں مقرر کر رکھی ہیں، مگر محبت ان سب سے آزاد ہے۔ محبت کسی مکان میں نہیں رہتی؛ وہ احساس میں بسیرا کرتی ہے۔ اسے راستہ نہیں بتایا جاتا، وہ خود اپنا راستہ بنا لیتی ہے۔
اسی خیال نے اسے ایک اور سوال تک پہنچا دیا۔
اگر محبت اتنی گہری ہے، تو پھر ہم اسے زبان پر کیوں نہیں لا پاتے؟
وہ اکثر محسوس کرتی تھی کہ سامنے بیٹھے ہوئے بہت کچھ کہنا چاہتی ہے، مگر الفاظ اچانک اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ دل میں جملے مکمل ہوتے، مگر ہونٹوں تک پہنچتے پہنچتے بکھر جاتے۔ اسے ڈر لگتا تھا کہ کہیں اس کے الفاظ اس احساس کو چھوٹا نہ کر دیں، جسے وہ اپنے اندر پوری شدت سے محسوس کرتی ہے۔ تنہائی میں قلم اٹھاتے ہی وہی احساس بے اختیار صفحے پر اترنے لگتا۔
ایک روز اس نے پوچھا:
“ایسا کیوں ہے کہ بات کرتے ہوئے لفظ کم پڑ جاتے ہیں اور لکھتے ہوئے دل کھل جاتا ہے؟”
وہ مسکرایا۔
“شاید اس لیے کہ بولتے ہوئے تمہیں میری آنکھوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔”
وہ خاموش رہی اور نظریں جھکا لیں۔
وہ بولا:
“اور لکھتے ہوئے تمہارے سامنے صرف کاغذ ہوتا ہے۔ وہاں تم اپنے احساس سے نہیں ڈرتیں۔”
وہ پہلی بار اس جواب پر مسکرائی۔ اسے لگا، جیسے اس نے اس کے اندر چھپی ہوئی بات پڑھ لی ہو۔
زبان ہمیشہ احساس کی مکمل ترجمان نہیں ہوتی۔ بعض اوقات آنکھیں وہ کہہ دیتی ہیں، جسے زبان ادا کرنے سے قاصر رہتی ہے، اور کبھی خاموشی ایسی گفتگو بن جاتی ہے، جس کے لیے الفاظ کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ انسان اکثر اپنے جذبات سے نہیں، ان کے ظاہر ہو جانے سے ڈرتا ہے۔
اس نے آہستہ سے کہا:
“میں زیادہ بول نہیں پاتی۔”
اسے اندیشہ تھا کہ شاید وہ اسے کم گو یا بے تعلق سمجھے گا۔
وہ بولا:
“تو کیا ہوا؟ کم سخن ہونا بھی ایک ادا ہے۔ خاموشی بھی تو صدا ہے۔”
یہ جملہ اس کے دل میں اتر گیا۔ اسے پہلی بار محسوس ہوا کہ اس کی خاموشی کوئی کمی نہیں، شاید اس کی شخصیت کا وہ حصہ ہے، جسے سمجھنے کے لیے ہر کسی کے پاس صبر نہیں ہوتا۔
وقت گزرتا گیا اور ان کے درمیان لفظوں سے زیادہ احساس کا رشتہ گہرا ہوتا گیا۔ اب اسے ہر بات کہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تھی۔ کبھی وہ صرف اس کے چہرے کو دیکھ کر سمجھ جاتا کہ دن کیسا گزرا ہے، اور کبھی وہ اس کے خاموش بیٹھنے سے جان لیتی کہ اس کے اندر کوئی بے نام بوجھ ہے۔
ایک شام دونوں آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ بہت کچھ کہنا تھا، مگر دونوں خاموش تھے۔ وہ کبھی اس کی طرف دیکھتی، پھر نظریں چرا لیتی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں آنکھیں وہ راز نہ کہہ دیں، جسے زبان اب تک چھپائے ہوئے ہے۔
اس نے پوچھا:
“کچھ کہنا ہے؟”
وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا:
“ہاں… مگر لفظ نہیں مل رہے۔”
وہ مسکرا دی۔
“پھر رہنے دیں۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ شاید اس وقت الفاظ کی ضرورت نہیں۔”
اور واقعی، اس لمحے خاموشی نے وہ سب کہہ دیا، جو شاید کئی صفحات بھی نہ کہہ پاتے۔ دونوں کے درمیان موجود وہ بے نام سکون ایک ایسی گفتگو بن گیا، جس میں کسی اقرار کی ضرورت نہیں تھی۔
وہ سوچنے لگی کہ محبت کا سب سے بلند مقام شاید اظہار نہیں، فہم ہے۔ کسی کو یہ یقین ہو جانا کہ سامنے والا اس کے کہے بغیر بھی اسے سمجھ سکتا ہے، انسان کے اندر ایک عجیب سا سکون اتار دیتا ہے۔
رات کو اس نے اپنی ڈائری کھولی۔ کچھ دیر خالی صفحے کو دیکھتی رہی۔ پھر لکھا:
“کسی کو چاہنا شاید یہ نہیں کہ اسے ہر وقت اپنے پاس رکھا جائے۔ محبت شاید یہ ہے کہ اس کی سلامتی اپنی خوشی کا حصہ بن جائے۔”
وہ رکی۔ حادثے والی رات پھر سے ذہن میں جاگ اٹھی۔ فون کی خاموش اسکرین، بے جواب کالیں، سینے میں اٹھتا ہوا خوف—سب کچھ واپس آ گیا۔ اس نے گہری سانس لی اور لکھا:
“محبت ملکیت نہیں، امانت ہے۔”
قلم رک گیا۔
امانت… یعنی ایسی چیز، جس پر اختیار نہیں، ذمہ داری ہوتی ہے۔ ایسی موجودگی، جسے اپنے پاس رکھنے سے زیادہ اس کی حفاظت ضروری ہوتی ہے۔ اسے حادثے والی رات یاد آئی، وہ دعا یاد آئی، اور پھر اس نے آخری جملہ لکھا:
“اور امانتوں کے لیے دعائیں مانگی نہیں جاتیں، ان کی حفاظت مانگی جاتی ہے۔”
اس نے ڈائری بند کی۔ آنکھیں موندیں تو دل میں پھر وہی چہرہ ابھرا۔ اس بار خوف پہلے جیسا تیز نہیں تھا، مگر پوری طرح ختم بھی نہیں ہوا تھا۔ شاید محبت کے ساتھ خوف کسی نہ کسی صورت موجود رہتا ہے، کیونکہ جسے کھونے کا ڈر نہ ہو، اسے پانے کی قدر بھی کہاں رہتی ہے۔
اس نے ایک بار پھر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے۔
اس بار دعا میں خوف کم تھا، شکر زیادہ۔ پھر بھی آواز کے اندر ایک لرزش باقی تھی، جیسے دل جانتا ہو کہ شکر کے باوجود حفاظت کی دعا کبھی ختم نہیں ہوتی۔
کیونکہ اسے معلوم ہو چکا تھا کہ محبت صرف کسی کو اپنے قریب چاہنے کا نام نہیں۔ محبت کبھی کسی کی خیریت میں اپنی خوشی تلاش کرتی ہے، کبھی خاموشی میں گفتگو کرتی ہے، کبھی فاصلے میں قربت محسوس کرتی ہے اور کبھی لفظوں سے نکل کر دعا بن جاتی ہے۔
اور شاید دنیا کے تمام رشتوں میں محبت ہی وہ واحد رشتہ ہے، جسے کسی پتے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
وہ دل سے نکلتی ہے…
اور دل تک پہنچ جاتی ہے۔
کیونکہ جہاں کسی کا دل کسی دوسرے دل کی سلامتی کے لیے دھڑک رہا ہو، وہاں محبت محض ایک جذبہ نہیں رہتی؛ وہ دعا، ذمہ داری اور ایسی امانت بن جاتی ہے، جس کی حفاظت انسان اپنے وجود سے بھی بڑھ کر کرنا چاہتا ہے۔
“یا اللہ! اسے سلامت رکھنا۔
Short Story Harf-e-Dua




