Life’s Mirror 0

زندگی کا آئینہ . کچھ حقیقتیں جو کڑوی ضرور ہیں، مگر سچی ہیں. محمد عابد رشید
کیا ہم نے کبھی رک کر خود سے پوچھا ہے کہ زندگی آخر ہے کیا؟
کیا صرف دولت، عہدہ، شہرت اور آسائشوں کا نام زندگی ہے؟ یا پھر ان خاموش لمحوں کا نام بھی زندگی ہے، جن میں انسان ہجوم کے درمیان کھڑا ہو کر بھی خود کو تنہا محسوس کرتا ہے؟

زندگی کا آئینہ جب صاف ہو تو چہرے سے زیادہ کردار دکھاتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں انسان کو اپنی حقیقت نظر آتی ہے، مگر اکثر ہم اسے دیکھنے سے گریز کرتے ہیں۔

ہم سب چاہتے ہیں کہ لوگ ہمیں سمجھیں، ہماری عزت کریں، ہماری مجبوریوں کو محسوس کریں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم دوسروں کو بھی اسی طرح سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں؟

زندگی کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ جب انسان کے پاس پیسہ، اختیار یا عہدہ ہو تو اردگرد لوگوں کی کمی نہیں رہتی۔ لیکن جب حالات بدل جائیں تو وہی ہجوم آہستہ آہستہ چھٹنے لگتا ہے۔ تب انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ تعلقات کی تعداد اہم نہیں، تعلق کی سچائی اہم ہے۔

کیا یہ بھی حقیقت نہیں کہ ہم اکثر انسان کی قدر اس کے کردار سے زیادہ اس کی حیثیت دیکھ کر کرتے ہیں؟

غریب کی خاموشی ہمیں نظر نہیں آتی، مگر صاحبِ حیثیت کی معمولی بات بھی اہم لگتی ہے۔ کسی مجبور کے آنسو شاید چند لمحوں میں بھلا دیے جاتے ہیں، مگر طاقتور کے ایک جملے کو لوگ مدتوں یاد رکھتے ہیں۔ یہ ہمارے معاشرے کا وہ تلخ پہلو ہے جسے بدلنے کی ضرورت ہے۔

رشتوں کی دنیا بھی عجیب ہے۔ ہر خون کا رشتہ دل کے قریب نہیں ہوتا اور ہر غیر شخص اجنبی نہیں رہتا۔ کبھی ایک غیر انسان مشکل وقت میں اپنا بن جاتا ہے اور کبھی کوئی اپنا انسان ہی آزمائش کی گھڑی میں پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے۔

تو پھر سوال یہ ہے کہ رشتے نام سے بڑے ہیں یا نبھانے سے؟

وقت ہمیں ایک اور حقیقت بھی سکھاتا ہے کہ کچھ بھی مستقل نہیں۔ آج کی جوانی کل ماضی بن جاتی ہے، آج کی طاقت کل کمزوری میں بدل سکتی ہے اور آج کا اختیار کل کسی اور کے پاس ہو سکتا ہے۔ پھر انسان کس چیز پر غرور کرے؟

ہم دوسروں کو نیچا دکھانے میں وقت ضائع کرتے ہیں، جبکہ وقت خاموشی سے ہمیں نیچا دکھانے کے لیے نہیں بلکہ ہمیں حقیقت سمجھانے کے لیے آگے بڑھ رہا ہوتا ہے۔

زندگی میں سب سے مشکل کام شاید دوسروں کو معاف کرنا نہیں بلکہ اپنے آپ کو آئینے میں دیکھ کر اپنی غلطی تسلیم کرنا ہے۔ ہم دوسروں کی غلطیاں گننے میں ماہر ہیں، مگر اپنی کوتاہیوں کا حساب لینے سے گھبراتے ہیں۔

اور ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں۔ بعض اوقات خاموشی کمزوری نہیں بلکہ سمجھ داری ہوتی ہے۔ وقت بہت اچھا منصف ہے؛ وہ بغیر شور کیے لوگوں کے کردار سامنے لے آتا ہے۔

آخرکار ایک دن یہ سب کچھ پیچھے رہ جانا ہے۔ دولت، عہدہ، شہرت، گاڑی، مکان اور دنیاوی آسائشیں انسان کے ساتھ نہیں جائیں گی۔ ساتھ رہ جائیں گے تو صرف اعمال، کردار اور وہ دعائیں جو کسی کے دل سے ہمارے لیے نکلی ہوں گی۔

تو پھر کیوں نہ زندگی کو تھوڑا سا آسان بنا دیں؟

کسی ضرورت مند کا سہارا بنیں، کسی دکھی دل کو امید دیں، کسی کی عزت بچا لیں، کسی کی مجبوری کا مذاق نہ بنائیں اور جہاں ممکن ہو کسی کے لیے آسانی پیدا کر دیں۔

کیونکہ زندگی کا سب سے بڑا سوال یہ نہیں کہ ہم نے دنیا سے کیا حاصل کیا؟

اصل سوال یہ ہے کہ:

ہم نے دنیا کو کیا دیا؟
کتنے دل جوڑے؟
کتنے آنسو پونچھے؟
اور ہمارے جانے کے بعد کتنے لوگ ہمیں اچھے لفظوں میں یاد کریں گے؟

یہی زندگی کا اصل آئینہ ہے۔

اور اس آئینے میں نظر آنے والی کچھ حقیقتیں واقعی کڑوی ضرور ہیں، مگر سچی ہیں۔

Life’s Mirror

50% LikesVS
50% Dislikes

زندگی کا آئینہ . کچھ حقیقتیں جو کڑوی ضرور ہیں، مگر سچی ہیں. محمد عابد رشید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں