ہراسمنٹ: خاموشی سے آواز تک، ذمہ داری سب کی. محمد عابد رشید
ہراسمنٹ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے رویوں، تربیت اور اجتماعی ذمہ داری کا آئینہ ہے۔ کسی عورت کو ہراساں کرنے کا کوئی جواز نہیں؛ نہ اس کے لباس، ملازمت، تعلیم، سوشل میڈیا پر موجودگی اور نہ ہی اس کے کسی طرزِ عمل کو بنیاد بنا کر کسی کو اس کی عزت مجروح کرنے کا حق حاصل ہے۔
ہراسمنٹ کے خاتمے کے لیے سب سے پہلے مرد کو اپنی نگاہ، زبان اور رویے کی ذمہ داری سمجھنا ہوگی۔ والدین کو بچوں کی تربیت میں احترام، حدود اور اخلاق کو اہمیت دینا ہوگی، تعلیمی اداروں اور دفاتر کو محفوظ ماحول اور مؤثر شکایتی نظام فراہم کرنا ہوگا، جبکہ معاشرے کو متاثرہ فرد کو الزام دینے کے بجائے اس کا ساتھ دینا ہوگا۔
ہماری خواتین اور بیٹیاں بھی اپنے حقوق، اپنی حدود اور دستیاب قانونی و ادارہ جاتی راستوں سے باخبر رہیں۔ نامناسب پیغامات، دھمکی، دباؤ یا کسی بھی قسم کی ہراسانی کو معمول سمجھ کر برداشت نہ کریں۔ جہاں ممکن ہو شواہد محفوظ کریں، کسی قابلِ اعتماد شخص کو اعتماد میں لیں اور ضرورت پڑنے پر متعلقہ ادارے سے رجوع کریں۔ سوشل میڈیا پر بھی ذاتی معلومات اور نجی معاملات شیئر کرتے ہوئے احتیاط ضروری ہے، کیونکہ احتیاط خوف نہیں بلکہ شعور اور سمجھ داری ہے۔
لیکن اس کے ساتھ ایک اصول ہمیشہ یاد رہنا چاہیے: احتیاط کی ذمہ داری، ہراسمنٹ کا جواز نہیں بن سکتی۔ اگر کسی خاتون کے ساتھ زیادتی ہو تو پہلا سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ “وہ وہاں گئی کیوں؟” یا “اس نے جواب کیوں دیا؟” بلکہ سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس کے ساتھ غلط کیا ہوا اور ہم اس کے ساتھ کیسے کھڑے ہو سکتے ہیں؟
ایک محفوظ معاشرہ وہ نہیں جہاں خواتین کو خاموش رہنے کا مشورہ دیا جائے، بلکہ وہ ہے جہاں انہیں باوقار زندگی، محفوظ ماحول اور اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کا اعتماد حاصل ہو۔
ہراسمنٹ کے خلاف جنگ صرف خواتین کی جنگ نہیں۔ مرد، خواتین، والدین، اساتذہ، ادارے، قانون اور معاشرہ—سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
کیونکہ عزت کسی ایک جنس کا حق نہیں، انسانی وقار ہے؛ اور اس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
Harassment from Silence




