Harassment 0

ہراسمنٹ: خاموشی نہیں، ذمہ داری کا وقت. محمد عابد رشید
ہراسمنٹ صرف ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ایسا رویہ ہے جو کسی انسان کے سکون، عزت، اعتماد اور تحفظ کو متاثر کرتا ہے۔ ہماری بچیاں، بہنیں، مائیں اور خواتین گھر، تعلیمی اداروں، دفاتر، بازاروں اور سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ عزت اور تحفظ کی حق دار ہیں۔ انہیں خوف کے بجائے اعتماد کا ماحول دینا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ہراسمنٹ کئی شکلوں میں سامنے آ سکتی ہے۔ کسی خاتون یا بچی کو نازیبا الفاظ کہنا، نامناسب جملے کسنا یا بار بار تضحیک کرنا زبانی ہراسمنٹ ہے۔ بلا اجازت چھونا، راستہ روکنا یا نامناسب جسمانی حرکت جسمانی ہراسمنٹ میں شامل ہو سکتی ہے۔ جنسی نوعیت کے ناپسندیدہ اشارے، گفتگو یا مطالبات جنسی ہراسمنٹ کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں آن لائن ہراسمنٹ بھی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ نازیبا پیغامات، غیر ضروری رابطے، دھمکیاں، جعلی اکاؤنٹس، نامناسب تصاویر یا بلیک میلنگ کے ذریعے کسی خاتون کو پریشان کرنا بھی ہراسمنٹ ہے۔ اسی طرح کسی کا مسلسل پیچھا کرنا، نگرانی کرنا یا اس کی مرضی کے خلاف بار بار رابطہ کرنے کی کوشش تعاقب (Stalking) کے زمرے میں آ سکتی ہے۔

کام کی جگہوں اور تعلیمی اداروں میں بھی خواتین اور بچیوں کے لیے محفوظ ماحول ضروری ہے۔ کسی عہدے یا اختیار کا غلط استعمال، نامناسب مطالبات، دھمکیاں یا تعلیم و ملازمت میں نقصان پہنچانے کی کوشش کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔

اس مسئلے کا حل صرف خواتین کو احتیاط کا مشورہ دینا نہیں، بلکہ مردوں، والدین، تعلیمی اداروں، دفاتر اور پورے معاشرے کو اپنی ذمہ داری سمجھنا ہے۔ والدین اپنی بچیوں کے ساتھ ایسا اعتماد قائم کریں کہ وہ کسی بھی مشکل یا نامناسب رویے کے بارے میں بلا خوف بات کر سکیں۔ خواتین کو بھی یہ اعتماد ہونا چاہیے کہ ان کی بات سنی جائے گی اور انہیں موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے مناسب مدد فراہم کی جائے گی۔

اگر کسی بچی یا خاتون کو ہراسمنٹ کا سامنا ہو تو اسے خاموش رہنے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔ صورتحال کے مطابق قابلِ اعتماد فرد، ادارے یا متعلقہ قانونی فورم سے مدد لی جائے، اور جہاں مناسب ہو وہاں پیغامات، اسکرین شاٹس یا دیگر شواہد محفوظ رکھے جائیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ کسی عورت یا بچی کو ہراسمنٹ کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ لباس، تعلیم، ملازمت، سوشل میڈیا کا استعمال یا کسی بھی ذاتی انتخاب کو کسی دوسرے شخص کے نامناسب رویے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

ہمیں ایسا معاشرہ بنانا ہے جہاں بیٹی کو گھر سے باہر نکلتے وقت خوف نہ ہو، عورت کو اپنے کام کی جگہ پر عدم تحفظ محسوس نہ ہو اور کسی بھی خاتون کو اپنی عزت کے تحفظ کے لیے تنہا جدوجہد نہ کرنا پڑے۔

ہراسمنٹ کے خلاف آواز اٹھانا صرف خواتین کی نہیں، ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ خاموشی مسئلے کو ختم نہیں کرتی؛ شعور، ذمہ داری، بروقت مدد اور قانون کا درست استعمال ہی محفوظ معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔

Harassment

50% LikesVS
50% Dislikes

ہراسمنٹ: خاموشی نہیں، ذمہ داری کا وقت. محمد عابد رشید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں