ایک نیا فیشن: چھوٹے بچوں کی بزرگوں سے دوستی. طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
کچھ باتیں واقعی ہضم نہیں ہوتیں۔ ہمارے ایک استاد ہمیشہ یہ نصیحت کیا کرتے تھے کہ:
“بچو! اپنے سے کم عمر اور اپنے سے زیادہ عمر کے افراد سے ہرگز دوستی نہ کرو۔”
یہ باتیں پہلے سمجھ نہیں آتی تھیں کہ استاد جی ایسا کیوں فرماتے ہیں، لیکن جیسے جیسے ہم بڑے ہوئے، یہ باتیں سمجھ آنے لگی۔ ہمارے بزرگ بالکل درست کہتے تھے کہ جب تک انسان خود بالغ یا سمجھدار نہ ہو جائے، ہم عمر کے علاوہ کسی اور سے دوستی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں اب یہ ایک نیا فیشن بنتا جا رہا ہے اور بڑے عمر کے لوگوں کی چھوٹے بچوں سے دوستیاں عام ہوتی جا رہی ہیں۔ انتہائی ناگوار لگتا ہے جب چالیس سال کا کوئی شخص کسی چودہ، پندرہ سال کے بچے کو “جانی” یا “جان” جیسے الفاظ سے پکارتا ہے۔ مجھے خود اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ ان بچوں کے والدین کہاں سوئے ہوئے ہیں!
حال ہی میں ایک تیس سالہ شخص گاڑی میں تقریباً سولہ سال کے ایک لڑکے کے ساتھ جا رہا تھا، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ وہ اس کا “دوست” ہے۔ اسی طرح ایک اور گاڑی کے ڈرائیور نے اپنے ساتھ ایک بچے کو بٹھا رکھا تھا؛ جب بچے نے سگریٹ مانگی تو اس نے فوراً نکال کر دے دی۔ ہمیں لگا کہ شاید یہ اس کا اپنا بیٹا ہے، لیکن بعد میں علم ہوا کہ وہ بھی اس کا دوست ہے۔
کتنے ہی ذہین بچے ہماری آنکھوں کے سامنے اس قسم کی دوستیوں کے باعث بے راہ روی کا شکار ہو چکے ہیں، کتنوں نے اپنی تعلیم چھوڑ دی ہے اور کتنے ہی بچے ایسے دوستوں کی صحبت میں پڑ کر معاشرے میں فساد اور گند کا باعث بن رہے ہیں۔ کتنے ہی ایسے لڑکے ہیں جو نشے کی لت میں پڑ چکے ہیں، اور کتنے ہی بچوں نے صرف ڈرائیونگ سیکھنے کے چکر میں اپنی عزت تک داؤ پر لگا دی ہے۔ اس طرح کی مثالیں بھی موجود ہیں جہاں ایسے بچوں کا استعمال کر کے کئی بے گناہ لڑکیوں کے گھر اجاڑ دیے گئے۔
ہمیں بدچلن، بدکار، کم ظرف یا بدتمیز کہنے سے پہلے ذرا اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں۔ آپ معاشرے کے لیے ناسور پیدا کر رہے ہیں۔ محض بچے پیدا کر کے آپ نے معاشرے پر کوئی احسان نہیں کیا، ان کی صحیح تربیت کرنا بھی آپ ہی کا فرض ہے۔
ہمیں اپنے بچپن کے دوستوں کو کسی محفل میں “جانی” یا “جان” کہتے ہوئے جھجھک محسوس ہوتی ہے، لیکن آپ کا بچہ خود اپنے باپ کی عمر کے لوگوں کے لیے ایسے الفاظ بلا جھجھک استعمال کر رہا ہوتا ہے۔
خدارا!
یہ اولاد آپ کی ہے اور آپ ہی کی وارث ہے۔ غلط ہمسفر اور غلط دوستیاں انسان کو تباہ و برباد کر دیتی ہیں۔ اپنی اولاد پر کڑی نظر رکھیں اور ان کے دوستوں کے احوال سے بھی باخبر رہیں۔
ہر رشتے کی ایک حد اور ہر بات کا ایک معیار ہوتا ہے۔ کوئی “دوست”، کوئی “بیٹا” تو کوئی “بزنس پارٹنر” کہہ کر آپ کے بچوں کی زندگیاں برباد کر رہا ہے۔ اگر آپ اپنے بچے کو اٹھارہ سال کی عمر تک سنبھال نہیں سکتے، تو خود کو ان کا ماں باپ کہہ کر ان پر اور اس معاشرے پر ظلم نہ کریں۔
تحریر پسند آئے تو آگے ضرور شیئر کریں۔
Befriending the Elderly




