قلم اور کتاب. ڈاکٹر محمد ارشد
قلم صرف چند حروف لکھنے کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ سوچ، شعور اور احساسات کو الفاظ کا لباس پہنانے کا نام ہے۔ جبکہ کتاب محض کاغذ کے چند صفحات نہیں، بلکہ یہ انسان کے لیے علم، تجربے، تاریخ اور حکمت کا خزانہ ہوتی ہے۔
قلم وہ طاقت ہے جو خاموش انسان کی آواز بن جاتی ہے، اور کتاب وہ ساتھی ہے جو تنہائی میں بھی انسان کو علم کی روشنی فراہم کرتی ہے۔ تلوار جسم کو زخمی کر سکتی ہے، مگر قلم سوچ کو بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اسی لیے معاشروں کی تعمیر میں قلم اور کتاب کا کردار ہمیشہ بنیادی رہا ہے۔
ایک اچھا قلم وہ ہے جو سچ لکھے، حق کی ترجمانی کرے اور معاشرے میں مثبت سوچ پیدا کرے۔ اسی طرح ایک اچھی کتاب وہ ہے جو انسان کو صرف معلومات نہ دے بلکہ اسے سوچنے، سمجھنے اور اپنے کردار کو بہتر بنانے کا راستہ بھی دکھائے۔
آج کے جدید دور میں ٹیکنالوجی نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، مگر کتاب کی اہمیت آج بھی قائم ہے۔ کیونکہ معلومات انسان کو باخبر کرتی ہیں، جبکہ مطالعہ انسان کو باشعور بناتا ہے۔
آئیں! قلم کو ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں اور کتاب کو اپنا بہترین دوست بنائیں۔ کیونکہ قلم سے لکھی ہوئی بات نسلوں تک پہنچ سکتی ہے اور کتاب سے حاصل کیا گیا علم پوری زندگی انسان کا ساتھ دے سکتا ہے۔
قلم اٹھائیں، کتاب پڑھیں، شعور بانٹیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بنیں
column in urd Pen and Book




