قلم اور کتاب. شبیر حسین کمال
قلم اور کتاب انسانی زندگی کی وہ دو عظیم نعمتیں ہیں جنہوں نے دنیا کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ انسان نے جو کچھ سیکھا، سمجھا اور آنے والی نسلوں تک پہنچایا، اس میں قلم اور کتاب کا بہت بڑا حصہ ہے۔ قلم خیالات کو الفاظ دیتا ہے اور کتاب ان الفاظ کو محفوظ کرکے نسل در نسل منتقل کرتی ہے۔
قلم صرف لکھنے کا ایک ذریعہ نہیں بلکہ یہ انسان کے خیالات، احساسات اور علم کا ترجمان ہے۔ ایک اچھا قلم معاشرے میں شعور پیدا کر سکتا ہے، لوگوں کو حقیقت سے آگاہ کر سکتا ہے اور غلط راستے پر چلنے والوں کو درست راستے کی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔ تاریخ میں ایسے بہت سے قلم کار گزرے ہیں جنہوں نے اپنے قلم کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کی اور لوگوں کے دلوں میں علم و شعور کی روشنی پیدا کی۔
اسی طرح کتاب انسان کی بہترین ساتھی ہے۔ ایک اچھی کتاب خاموشی سے انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہے۔ جب انسان تنہا ہو تو کتاب اس کا ساتھ دیتی ہے، جب اسے کسی مسئلے کا سامنا ہو تو کتاب رہنمائی کرتی ہے اور جب وہ علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو کتاب اس کے لیے علم کا دروازہ کھول دیتی ہے۔
آج کے دور میں موبائل فون اور سوشل میڈیا نے ہماری زندگی میں بہت زیادہ جگہ بنا لی ہے۔ چند سیکنڈ میں معلومات ہمارے سامنے آ جاتی ہیں، لیکن ہر معلومات علم نہیں ہوتی۔ سوشل میڈیا پر بہت سی غیر مصدقہ باتیں بھی پھیلتی ہیں، جبکہ ایک اچھی کتاب ہمیں کسی موضوع کو سمجھنے، غور کرنے اور تحقیق کرنے کا موقع دیتی ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں کتاب اور قلم کو دوبارہ اہم مقام دیں۔ والدین اپنے بچوں کو کتاب پڑھنے کی عادت ڈالیں، اساتذہ طلبہ میں مطالعے کا شوق پیدا کریں اور نوجوان اپنی صلاحیتوں کو مثبت تحریر کے ذریعے معاشرے کی اصلاح کے لیے استعمال کریں۔
قلم اگر سچ لکھے اور کتاب اگر علم پھیلائے تو یہ دونوں معاشرے کی تعمیر کا مضبوط ذریعہ بن سکتے ہیں۔ قوموں کی ترقی صرف عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں ہوتی بلکہ علم، شعور اور تعلیم سے ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں کتاب کی قدر اور قلم کی حرمت باقی رہتی ہے، وہاں علم کی روشنی کبھی ختم نہیں ہوتی۔
قلم ہاتھ میں ہو اور کتاب سامنے ہو تو انسان صرف الفاظ نہیں پڑھتا، بلکہ اپنی سوچ اور اپنے مستقبل کو بھی بہتر بناتا ہے۔
والدین ایک نعمت۔ طہٰ علی تابش بلتستانی
Pen and Book




