ہجرت کے بعد اردو سے میرا رشتہ: امریکا میں اردو ادب کی نئی جہات. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
ہجرت صرف گھر، شہر یا ملک بدلنے کا نام نہیں۔ میرے نزدیک ہجرت انسان کے اندر بھی ایک سفر شروع کرتی ہے۔ آدمی جب اپنی مٹی سے دور ہوتا ہے تو اسے اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنی یادوں اور اپنے فکری ورثے کی قدر پہلے سے کہیں زیادہ محسوس ہونے لگتی ہے۔ کچھ رشتے فاصلوں سے کمزور پڑ جاتے ہیں مگر زبان کا رشتہ ایسا ہے جو دوری کے ساتھ بعض اوقات اور بھی گہرا ہو جاتا ہے۔ امریکا آمد کے بعد اردو کے ساتھ میرا تعلق بھی اسی نوعیت کے ایک نئے تجربے سے گزرا ہے۔
میں اوائل فروری 2024ء میں پاکستان سے امریکا منتقل ہو کر (ہیوسٹن) ٹیکساس میں مقیم ہوا۔ پاکستان میں رہتے ہوئے اردو میرے لیے زندگی کا ایک فطری حصہ تھی لیکن امریکا آ کر پہلی مرتبہ شدت سے احساس ہوا کہ زبان صرف بولنے کا وسیلہ نہیں بلکہ شناخت کو محفوظ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔ خصوصاً تارکینِ وطن کے لیے مادری زبان ماضی اور حال کے درمیان ایک ایسا پل ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ اپنی تہذیبی جڑوں سے وابستہ رہتے ہیں۔
ہیوسٹن میں قیام کے دوران مجھے امریکا کے کثیرالثقافتی معاشرے کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں دنیا کے مختلف خطوں سے آئے ہوئے لوگ اپنی زبانوں، ثقافتوں اور روایات کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ اس ماحول میں اردو کے لیے امکانات بھی بے شمار ہیں اور چیلنجز بھی۔ سب سے بڑا چیلنج شاید یہ ہے کہ ہماری نئی نسل اردو سے کس حد تک جڑی رہے گی؟
یہ سوال میرے لیے محض ایک ادبی یا لسانی سوال نہیں بلکہ ایک ذاتی اور تہذیبی سوال بھی ہے۔
میرے خیال میں یہ حقیقت تسلیم کرنا ضروری ہے کہ امریکا میں پلنے والی اردو داں نسل کا ماحول پاکستان سے بالکل مختلف ہے۔ اس کی تعلیم، پیشہ ورانہ زندگی، سماجی روابط اور روزمرہ کا بڑا حصہ انگریزی زبان میں ہوتا ہے۔ اگر اردو صرف گھر کے بزرگوں سے بات چیت یا سال میں چند ثقافتی تقریبات تک محدود ہو جائے تو نئی نسل کے لیے اس کا دائرۂ استعمال بتدریج سکڑ سکتا ہے۔ اس صورتِ حال میں صرف اردو سے محبت کا اظہار کافی نہیں، ہمیں اردو کو نئی نسل کی علمی، فکری اور تخلیقی زندگی سے بھی جوڑنا ہوگا۔
میرے نزدیک یہی وہ مقام ہے جہاں ادب اپنا حقیقی کردار ادا کرتا ہے۔
ادب کسی زبان کو محض محفوظ نہیں کرتا، اسے زندہ رکھتا ہے۔ شاعری، افسانہ، تحقیق، تنقید، مکالمہ، تعلیم اور صحافت۔۔یہ سب زبان کے زندہ رہنے کے راستے ہیں۔ اگر ہم اردو کو صرف ماضی کی عظیم شاعری اور ادبی روایت تک محدود کر دیں گے تو نئی نسل کے لیے یہ ایک خوب صورت مگر دور کی چیز بن جائے گی۔ ہمیں اسے موجودہ عہد کے سوالات، جدید تعلیم، ٹیکنالوجی اور عالمی مسائل سے جوڑنا ہوگا۔
اسی احساس نے امریکا آنے کے بعد میری ادبی سرگرمیوں کو ایک نئی سمت دی۔
میں نے مختلف ادبی اور فکری پلیٹ فارمز کے ساتھ اپنی وابستگی کو محض ادبی مصروفیت نہیں سمجھا بلکہ اسے اردو کے وسیع تر فروغ کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا۔ عالمی بزمِ اردو، بزمِ اردو انٹرنیشنل کینیڈا، اندازِ بیاں اور (برطانیہ)، دریچۂ ادب پاکستان، ماورا ورلڈ لٹریری فورم امریکا، حصارِ ادب عالمی، تحریکِ توازن اردو ادب، ہم زبان ( بزمِ علم وادب) جدہ سعودی عرب، تخلیق کار انٹر نیشنل اور دیگر ادبی و فکری فورمز سے وابستگی کے دوران مجھے یہ تجربہ ہوا کہ اردو دنیا کے مختلف ملکوں میں بکھرے ہوئے لوگوں کو ایک مشترکہ فکری رشتے میں جوڑنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
آج اردو صرف پاکستان یا ہندوستان تک محدود زبان نہیں رہی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں اردو بولنے، پڑھنے اور لکھنے والے موجود ہیں۔ اس عالمی اردو معاشرے کی اپنی ایک الگ شناخت ابھر رہی ہے۔ کینیڈا، امریکا، برطانیہ، خلیجی ممالک اور دنیا کے دوسرے خطوں میں اردو کے ادبی حلقے سرگرم ہیں۔ ان حلقوں کو اگر جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط کیا جائے تو اردو ادب ایک مضبوط عالمی ادبی نیٹ ورک کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ ڈیجیٹل عہد نے اردو کو یہ تاریخی موقع فراہم کیا ہے۔
چند دہائیاں پہلے اگر امریکا میں رہنے والا کوئی شخص پاکستان یا ہندوستان کے کسی شاعر، ادیب یا محقق سے براہِ راست ادبی رابطہ کرنا چاہتا تو اس کے لیے خاصی محنت درکار ہوتی تھی۔ آج ایک آن لائن نشست، ویڈیو کانفرنس، ڈیجیٹل رسالہ یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم چند لمحوں میں دنیا کے مختلف حصوں کے اہلِ قلم کو ایک جگہ جمع کر سکتا ہے۔ جغرافیائی فاصلے کم ہوئے ہیں اور ادبی رابطوں کے امکانات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔
لیکن ڈیجیٹل دنیا اپنے ساتھ ایک چیلنج بھی لائی ہے: مواد کی فراوانی کے باوجود معیار کی کمی۔
آج ہر شخص لکھ سکتا ہے، ہر تحریر فوراً شائع ہو سکتی ہے اور ہر رائے چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ ایسے ماحول میں مستند، معیاری اور فکری طور پر مضبوط اردو مواد کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ میرے خیال میں مستقبل کی اردو ادبی تنظیموں کو صرف پروگرام منعقد کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں معیاری مطالعے، تحقیق، تنقیدی مکالمے اور علمی مواد کی تیاری پر بھی توجہ دینا ہوگی۔
یہی وجہ ہے کہ میں نے ادب اور تعلیم کے باہمی تعلق کو ہمیشہ اہم سمجھا ہے۔
تفہیمِ فکرِ اقبال، اساسِ تحقیق، تعلیم سب کے لیے اور امتحانات کی تیاری جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے میری کوشش یہی رہی ہے کہ اردو کو صرف ادبی ذوق کی زبان نہ سمجھا جائے بلکہ اسے علم، تحقیق اور فکری تربیت کے وسیلے کے طور پر بھی استعمال کیا جائے۔ میری نظر میں اگر اردو میں تحقیق کا ذوق پیدا نہیں ہوگا، اگر نئی نسل اس زبان میں سوال کرنا نہیں سیکھے گی اور اگر اسے جدید علمی موضوعات پر اظہار کا موقع نہیں ملے گا تو ہماری زبان کی بقا کا خواب ادھورا رہے گا۔
میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ملٹی نیشنل فارماسیوٹیکل اداروں (مارکیٹنگ) اور موبائل ٹیلی کام سیکٹر میں بطور پراجیکٹ اور کنٹریکٹ مینیجر کام کیا ہے۔ اس تجربے نے مجھے منصوبہ بندی، نظم و ضبط، ٹیم ورک، رابطہ کاری اور تسلسل کی اہمیت سکھائی۔ ادب کی دنیا میں آنے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ یہ صلاحیتیں ادبی سرگرمیوں کو منظم اور مؤثر بنانے میں بھی کام آ سکتی ہیں۔
میرے لیے ادبی تنظیم کاری کا مطلب صرف ایک پروگرام منعقد کر دینا نہیں۔ اس کے پیچھے ایک پورا عمل ہوتا ہے: موضوع کا انتخاب، اہلِ علم سے رابطہ، پروگرام کی منصوبہ بندی، مختلف ممالک میں موجود افراد کو جوڑنا، نئی آوازوں کو موقع دینا، مواد کو محفوظ کرنا اور پھر اس علمی سرمایہ کو زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچانا۔
میں سمجھتا ہوں کہ اردو ادب کو آج ایسے ہی منظم اور مربوط ادبی اداروں کی ضرورت ہے۔
میرے لیے اردو کی خدمت کسی اعزاز، عہدے یا شناخت کی طلب نہیں بلکہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کا احساس وقت کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ ہجرت نے مجھے یہ سکھایا کہ اپنی زبان سے حقیقی وفاداری صرف اسے یاد کرنے میں نہیں بلکہ اسے نئی نسل کے لیے قابلِ فہم، قابلِ استعمال اور قابلِ احترام بنانے میں ہے۔ امریکا میں رہتے ہوئے میری کوشش ہے کہ اردو کو ماضی کی یادگار کے طور پر نہیں بلکہ مستقبل کی زبان کے طور پر دیکھا جائے۔ ایسی زبان جو جدید تعلیم، تحقیق، ڈیجیٹل دنیا، تخلیقی اظہار اور عالمی مکالمے میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکے۔ اگر ہماری اجتماعی کوششوں سے ایک نوجوان اردو کی طرف متوجہ ہوتا ہے، ایک قاری کتاب سے رشتہ جوڑتا ہے، ایک قلم کار کو اظہار کا موقع ملتا ہے یا دنیا کے کسی دوسرے خطے میں موجود اہلِ اردو سے فکری رابطہ قائم ہوتا ہے تو میں اسے اپنی ادبی جدوجہد کی سب سے بڑی کامیابی سمجھوں گا۔ میری خواہش ہے کہ آنے والی نسلیں اردو کو صرف اپنے بزرگوں کی زبان کہہ کر نہ پکاریں بلکہ اسے اپنی سوچ، اپنی تخلیق اور اپنی شناخت کی زندہ زبان سمجھیں۔ یہی میری ہجرت کے بعد اردو سے وابستگی کا حاصل بھی ہے اور میری آئندہ ادبی کاوشوں کا بنیادی مقصد بھی۔
ایک گفتگو جس نے میری سوچ بدل دی. بتول فاطمہ
Urdu Literature in America




