رشتے مطلب سے نہیں، خلوص سے زندہ رہتے ہیں. محمد عابد رشید
زندگی کے سفر میں کبھی ایسا وقت بھی آتا ہے جب انسان کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ دنیا کا ہر رشتہ مطلبی ہے، ہر تعلق وقتی ہے اور ہر شخص اپنی ضرورت تک ساتھ ہے۔ خوشیوں میں تو بہت سے لوگ شریک ہوتے ہیں، مگر اصل چہرے اُس وقت سامنے آتے ہیں جب انسان مشکل میں ہو، حالات سازگار نہ ہوں اور اسے سہارے کی ضرورت ہو۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر رشتہ مطلبی نہیں ہوتا، ہر تعلق جھوٹا نہیں ہوتا۔
ماں کی بے غرض محبت، باپ کی خاموش قربانیاں، بہن بھائیوں کی خیرخواہی، شریکِ حیات کا مشکل وقت میں ساتھ اور ایک سچے دوست کی بے لوث وفاداری—یہ وہ رشتے ہیں جنہیں کسی مفاد کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔
سچا رشتہ وہ نہیں جو صرف خوشیوں میں آپ کے ساتھ مسکرائے، بلکہ وہ ہے جو آپ کے آنسوؤں میں بھی آپ کا ہاتھ تھامے۔ جو آپ کی غیر موجودگی میں آپ کی عزت کی حفاظت کرے، آپ کی غلطی پر خوشامد کے بجائے اصلاح کرے اور آپ کی کامیابی پر دل سے خوش ہو۔
رشتوں کی اصل پہچان الفاظ سے نہیں، وقت اور رویوں سے ہوتی ہے۔
بعض اوقات ایک شخص کی بے وفائی ہمیں پوری دنیا سے بدگمان کر دیتی ہے، مگر کسی ایک کے رویے کو سب کے لیے معیار بنا دینا بھی انصاف نہیں۔ آج بھی دنیا میں ایسے لوگ موجود ہیں جو بغیر کسی غرض کے محبت کرتے ہیں، خاموشی سے دعا دیتے ہیں، ضرورت کے وقت ساتھ کھڑے ہوتے ہیں اور بدلے میں صرف خلوص چاہتے ہیں۔
مطلبی تعلقات ضرورت ختم ہوتے ہی کمزور پڑ جاتے ہیں، مگر سچے رشتے ضرورت کے بغیر بھی دل سے جڑے رہتے ہیں۔
اس لیے اگر زندگی میں کوئی ایسا شخص موجود ہے جو آپ کے اچھے وقت میں خوش اور برے وقت میں پریشان ہوتا ہے، جو آپ کی عزت کو اپنی عزت سمجھتا ہے اور آپ کی خاموشی بھی سمجھ لیتا ہے، تو اسے معمولی نہ سمجھیں۔
کیونکہ دنیا میں دولت دوبارہ کمائی جا سکتی ہے، بہت سے لوگ دوبارہ مل سکتے ہیں، مگر سچا خلوص، بے غرض محبت اور مخلص رشتے بار بار نہیں ملتے۔
رشتوں کو پرکھنے سے پہلے انہیں وقت دیں، اور دوسروں سے خلوص کی توقع رکھنے سے پہلے خود بھی کسی کے لیے ایک سچا رشتہ بن کر دکھائیں۔
آخرکار انسان کے پاس دولت نہیں، وہی رشتے باقی رہ جاتے ہیں جنہیں اس نے خلوص، محبت اور وفا سے نبھایا ہوتا ہے۔
Relationships Survive on Sincerity




