عنوان مونچھیں. نسرین امیر زمان
مونچھیں بھی عجیب چیز ہیں۔ چہرے پر دو بالوں کی یہ مختصر سی پٹی بعض مردوں کے لیے صرف مونچھ نہیں بلکہ پوری شخصیت کا تعارف ہوتی ہے۔ کسی کی مونچھ دیکھ کر لگتا ہے کہ صاحب ابھی پنچایت کا فیصلہ سنانے والے ہیں، کسی کی مونچھ ایسی جیسے دو تتلیاں ناک کے نیچے آ کر آرام فرما رہی ہوں اور کسی کی ایسی کہ دور سے دیکھیں تو پہلے مونچھ نظر آتی ہے، صاحب بعد میں دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستانی مردوں میں مونچھوں کی بھی باقاعدہ اقسام پائی جاتی ہیں۔ سب سے مشہور قسم ہے پاکستانی مکھی مونچھ۔ نام سن کر ذہن میں مکھی آتی ہے، مگر صاحب اسے بڑے فخر سے رکھتے ہیں۔ یہ مونچھ اکثر اوپر کی طرف ذرا سی مڑی ہوتی ہے اور مالک جب آئینے کے سامنے اسے انگلیوں سے سیدھا کرتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قومی سلامتی کا کوئی اہم مسئلہ حل کر رہا ہو۔
پھر آتی ہے چوہدری مونچھ۔ یہ مونچھ اتنی باوقار ہوتی ہے کہ صاحب خاموش بھی بیٹھے ہوں تو لگتا ہے ابھی کہیں گے، “اوئے بھئی، پہلے میری بات سنو!” ایسی مونچھ رکھنے والے حضرات عموماً اپنی مونچھ کو شخصیت کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی غلطی سے کہہ دے کہ “آپ مونچھیں کیوں نہیں کٹوا لیتے؟” تو جواب ایسا ملتا ہے جیسے آپ نے ان سے آبائی زمین کا مطالبہ کر لیا ہو۔
ایک قسم ٹیڑھی مونچھ بھی ہوتی ہے۔ ایک طرف آسمان کی طرف، دوسری طرف زمین کی طرف۔ دیکھنے والا سوچتا رہ جاتا ہے کہ مونچھ نے بھی شاید زندگی کے مسائل سے تنگ آ کر اپنا راستہ الگ الگ اختیار کر لیا ہے۔ صاحب اسے برابر کرنے کی جتنی کوشش کرتے ہیں، مونچھ اتنی ہی آزادی پسند نکلتی ہے۔
کچھ حضرات پتلی مونچھ رکھتے ہیں۔ اتنی باریک کہ سامنے بیٹھا آدمی غور سے دیکھے تو یقین نہیں آتا کہ یہ مونچھ ہے یا قلم کی ہلکی سی لکیر۔ لیکن مالک کا اعتماد دیکھیے، مونچھ چاہے ایک بال کی ہو، انداز ایسا کہ جیسے پورا چہرہ اسی کے سہارے کھڑا ہے۔
پھر آتی ہے گھنی مونچھ۔ یہ مونچھ چہرے پر نہیں بلکہ چہرہ مونچھ کے نیچے دکھائی دیتا ہے۔ چائے پیتے وقت کپ پہلے مونچھ سے اجازت لیتا ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے ایک نوالہ منہ میں جاتا ہے اور دو مونچھوں میں پھنس جاتا ہے۔ پھر صاحب بڑے اطمینان سے رومال نکالتے ہیں اور مونچھوں کی صفائی ایسے کرتے ہیں جیسے کسی قیمتی نوادرات کی حفاظت کر رہے ہوں۔
کچھ مرد مونچھوں کو اتنا سنوارتے ہیں کہ صبح کا آدھا وقت بالوں اور باقی آدھا وقت مونچھوں میں گزر جاتا ہے۔ سر کے بال بکھرے ہوں تو کوئی مسئلہ نہیں، مگر مونچھ کا ایک بال اپنی جگہ سے ہل جائے تو فوراً آئینہ حاضر۔ انگلیاں حرکت میں، کنگھی حرکت میں اور چہرے پر ایسی سنجیدگی جیسے ملک کا بجٹ انہی مونچھوں کے سہارے پیش ہونا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ بعض مرد مونچھوں کو صرف مونچھ نہیں رکھتے بلکہ ان کے ساتھ ایک خاص انداز بھی رکھتے ہیں۔ مونچھوں کو تاؤ دیا، گردن ذرا اکڑائی، سینہ آگے کیا اور پھر چلنے کا انداز ایسا کہ گلی کا ہر شخص سمجھے گا ابھی کوئی فلمی ہیرو داخل ہوا ہے۔
اور کچھ حضرات ایسے بھی ہیں جو مونچھیں تو رکھتے ہیں مگر جب تصویر بنوانی ہو تو مونچھوں کو انگلیوں سے لازماً سنواریں گے۔ تصویر میں مسکراہٹ آئے نہ آئے، مونچھ اپنی جگہ بالکل درست ہونی چاہیے۔ یوں لگتا ہے جیسے تصویر خاندان کے البم کے لیے نہیں بلکہ مونچھوں کے شناختی کارڈ کے لیے بن رہی ہو۔
البتہ مونچھوں کا اصل کمال تب سامنے آتا ہے جب گھر میں کوئی بچہ اپنے والد کی مونچھ پکڑ لیتا ہے۔ والد صاحب کی ساری رعب دار شخصیت ایک لمحے میں ختم۔ جو صاحب باہر دوستوں کے درمیان مونچھوں کو تاؤ دے کر بیٹھے تھے، وہی گھر میں بچے کے ہاتھ سے اپنی مونچھ چھڑاتے ہوئے کہتے ہیں، “بیٹا آرام سے، ابو کی مونچھ ہے!”
حقیقت یہ ہے کہ مونچھیں صرف چہرے کے بال نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں ایک دلچسپ ثقافتی نشان بھی ہیں۔ کسی کے لیے شان، کسی کے لیے انداز، کسی کے لیے روایت اور کسی کے لیے بس شوق۔ مونچھ چھوٹی ہو یا بڑی، سیدھی ہو یا ٹیڑھی، پتلی ہو یا گھنی، اصل مزاح تو تب پیدا ہوتا ہے جب انسان مونچھ سے زیادہ اپنی مونچھ کے قصے سنانے لگے۔
کیونکہ آخر میں بات مونچھ کی نہیں، اعتماد کی ہے۔ البتہ اگر مونچھ اتنی بڑی ہو کہ آدمی سے پہلے کمرے میں داخل ہو جائے تو پھر اسے مونچھ نہیں، پیشگی اطلاع کہنا چاہیے!
Moustaches




