کالم : خبر، افواہ اور ہمارا یقین. لیکچرار عزت علی پارا چنار
آج کا انسان شاید تاریخ کے اس دور میں زندہ ہے جہاں خبر پہنچنے میں وقت نہیں لگتا، مگر خبر کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے وقت نکالنے کی زحمت کوئی نہیں کرتا۔ صبح آنکھ کھلنے سے پہلے موبائل کی اسکرین روشن ہوتی ہے اور رات آنکھ بند ہونے تک انگلیاں خبروں، تبصروں، ویڈیوز اور پیغامات کے ہجوم میں گردش کرتی رہتی ہیں۔ ایک جملہ، ایک تصویر یا چند سیکنڈ کی ویڈیو لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے مگر سوال یہ ہے کہ جو کچھ ہم دوسروں تک پہنچا رہے ہیں، کیا ہم نے خود بھی جاننے کی کوشش کی ہے کہ وہ سچ ہے یا محض ایک افواہ؟
ہمارے معاشرے کا ایک عجیب المیہ یہ ہے کہ ہم خبر کو تحقیق سے نہیں، اپنی خواہش سے پرکھنے لگے ہیں۔ جو بات ہمارے خیالات کے مطابق ہو، ہم اسے بغیر تحقیق کے سچ مان لیتے ہیں، اور جو بات ہماری رائے کے خلاف ہو، اسے فوراً جھوٹ قرار دے دیتے ہیں۔ گویا اب حقیقت کا معیار حقیقت نہیں رہی بلکہ ہماری پسند اور ناپسند بن چکی ہے۔
سوشل میڈیا نے معلومات کے دروازے ضرور کھول دیے ہیں، مگر اسی کے ساتھ افواہوں کے لیے بھی ایک ایسی شاہراہ بنا دی ہے جس پر کوئی ٹریفک پولیس موجود نہیں۔ ایک شخص نے کچھ سنا، دوسرے نے اس میں اپنی طرف سے ایک جملہ شامل کیا، تیسرے نے اسے یقین کے ساتھ آگے بڑھایا اور چوتھے نے اسے ’’مصدقہ خبر‘‘ بنا کر پیش کر دیا۔ یوں ایک معمولی بات، چند گھنٹوں میں ایسا روپ اختیار کر لیتی ہے کہ اصل حقیقت کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔ سب سے زیادہ افسوس ناک صورت حال اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کسی فرد، ادارے یا خاندان کے بارے میں غیر مصدقہ بات پھیلائی جاتی ہے۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ الفاظ صرف آواز نہیں ہوتے بعض الفاظ کسی کی عزت، روزگار، تعلقات اور زندگی تک کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایک غلط خبر کو حذف کرنا آسان ہے، مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بدگمانی کو لوگوں کے ذہنوں سے مٹانا ہمیشہ ممکن نہیں ہوتا۔
ہم نے عجیب زمانہ دیکھا ہے کہ لوگ کسی نامعلوم شخص کی بنائی ہوئی ویڈیو پر فوراً یقین کر لیتے ہیں، لیکن ایک مستند وضاحت سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ہم عنوان پڑھ کر فیصلہ کر لیتے ہیں، خبر پڑھے بغیر رائے قائم کر لیتے ہیں اور تحقیق کیے بغیر اسے آگے پہنچا دیتے ہیں۔ اس رویے نے ہمیں صرف غلط معلومات کا شکار نہیں بنایا بلکہ ہماری اجتماعی سوچ کو بھی کمزور کیا ہے۔
اصل مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں، ہمارا رویہ ہے۔ موبائل فون ایک آلہ ہے اسے علم کا ذریعہ بھی بنایا جا سکتا ہے اور جہالت کا ذریعہ بھی۔ سوشل میڈیا ایک بازار ہے جہاں سچ بھی موجود ہے اور جھوٹ بھی، تحقیق بھی موجود ہے اور پروپیگنڈا بھی، علم بھی موجود ہے اور جہالت بھی۔ فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس بازار سے کیا خریدتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم ’’فوراً شیئر کرنے‘‘ کی عادت کو ’’پہلے تحقیق کرنے‘‘ کی عادت میں تبدیل کریں۔ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے چند بنیادی سوالات خود سے پوچھیں یہ خبر کہاں سے آئی؟ اس کا اصل ماخذ کیا ہے؟ کیا کسی معتبر ذریعے نے بھی اس کی تصدیق کی ہے؟ تصویر یا ویڈیو پرانی تو نہیں؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر یہ خبر غلط ہوئی تو میرے شیئر کرنے سے کس کو نقصان پہنچ سکتا ہے؟
ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ سکھانے کی ضرورت نہیں کہ موبائل کیسے استعمال کرنا ہے انہیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ موبائل پر آنے والی ہر چیز سچ نہیں ہوتی۔ انہیں اختلافِ رائے کا ادب، تحقیق کی عادت، خبر اور رائے میں فرق اور معلومات کے ذمہ دارانہ استعمال کا شعور دینا ہوگا۔
ایک مہذب معاشرہ وہ نہیں جہاں ہر شخص کے پاس بولنے کا حق ہو بلکہ وہ ہے جہاں ہر شخص اپنے الفاظ کی ذمہ داری بھی سمجھتا ہو۔ آزادیِ اظہار اگر ذمہ داری سے خالی ہو جائے تو وہ معاشرتی تعمیر کے بجائے انتشار کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
آج ہمیں معلومات کی کمی نہیں، سچائی کی تلاش کی کمی ہے۔ ہمارے پاس ہزاروں ذرائع ہیں، مگر تحقیق کے لیے چند لمحے نہیں۔ ہمارے پاس ہر موضوع پر رائے ہے، مگر ہر رائے کے پیچھے علم نہیں۔ ہم دوسروں کو درست کرنے میں جلدی کرتے ہیں، مگر اپنی معلومات درست کرنے میں دیر۔
شاید ہمیں اپنے زمانے کی سب سے بڑی بیماری کا علاج کسی نئی ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ اپنے اندر تلاش کرنا ہوگا۔ خبر سن کر فوراً یقین کرنے کے بجائے ایک لمحہ رکنا ہوگا، سوچنا ہوگا، تحقیق کرنا ہوگا۔ کیونکہ ہر وہ بات جو ہماری اسکرین پر نمودار ہوتی ہے، ضروری نہیں کہ حقیقت بھی ہو۔ کبھی کبھی خاموش رہ جانا، غلط بات آگے بڑھانے سے زیادہ دانش مندی ہوتی ہے اور ’’مجھے معلوم نہیں‘‘ کہنا، جھوٹی یقین دہانی سے کہیں زیادہ باوقار۔
News, Rumors,




