School Bag’s Complaint 0

بستے کی شکایت. آمینہ یونس ،بلتستانی
نام تو اس کا حمزہ تھا، سب گھر والے پیار سے اسے حمو کہتے تھے۔ حمو نے جب سے اسکول جانا شروع کیا تھا، گھر اکھاڑا بنا ہوا تھا۔ صبح حمو کو بڑی مشکل سے منانا پڑتا۔ کوئی اس کا منہ ہاتھ دھو رہا ہوتا، کوئی اس کی ٹائی ڈھونڈ رہا ہوتا تو کوئی اس کا بستہ اور کتابیں سنبھال رہا ہوتا۔ دادی بڑبڑانے لگتیں، ’’پتہ نہیں ایک درجن بچے ہوتے تو کیا حالت ہوتی گھر کی؟ یہاں تو کئی لوگ مل کر ایک بچے کو تیار کرنے میں گھنٹہ لگا دیتے ہیں۔‘‘ جب وہ اسکول جاتا تو چند گھنٹوں کے لیے گھر میں سکون چھا جاتا۔ حمو کی واپسی بھی طوفان سے کم نہ ہوتی۔ گھر میں قدم رکھتے ہی وہ ٹائی کو دشمن کی طرح گلے سے اتار پھینکتا، شرٹ لاؤنج میں، پینٹ کچن میں، بستہ کمرے میں اور خود ہاٹ پاٹ میں جا بیٹھتا۔ حمو کی اس ناقدری پر بستہ اس سے ناراض رہنے لگا۔ حمو اپنی مستی میں مگن رہتا اور اس کی طرف کوئی توجہ نہ دیتا۔ مگر ایک دن بستہ سسکیوں سے رونے لگا۔ حمو نے حیرت سے پوچھا، ’’میرے ساتھی، میرے قلم دان اور میری روشنی کا بوجھ اٹھانے والے ساتھی! کیا ہوا؟ آج تم کیوں رو رہے ہو؟ کیا کسی نے کچھ کہا؟‘‘ حمو کو ابھی بھی اپنی غلطی کا ادراک نہیں ہوا تھا۔ اپنی غلطی پوچھنے کے بجائے وہ دوسروں کے بارے میں پوچھ رہا تھا۔ بستہ تڑپ کر بولا، ’’حمو! کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں تمہارا ساتھی ہوں، تمہارا مددگار ہوں؟ مگر تم میرے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو، تمہیں معلوم ہے؟ جب بھی گھر آتے ہو، مجھے بے دردی سے ادھر اُدھر پھینک دیتے ہو، جیسے میں کوئی غلیظ شے ہوں۔‘‘ حمو چپ چاپ سنتا رہا۔ بستہ بولا، ’’حالانکہ علم کی روشنی سے تمہاری راہیں روشن کرنے میں میرا بھی ہاتھ ہے۔ میں تمہارا بوجھ اٹھاتا ہوں، تمہیں آسانی فراہم کرتا ہوں اور تمہارے ساتھ ساتھ رہتا ہوں، پھر بھی تمہاری نظر میں میری کوئی اہمیت نہیں۔‘‘ بستہ اپنے نادیدہ آنسو پونچھ رہا تھا اور حمو سر جھکائے سوچ رہا تھا، ’’واقعی بستہ صحیح کہہ رہا ہے۔ میں تو اپنے بچپنے کی وجہ سے اس کی اہمیت سے ناواقف تھا۔‘‘ حمو نے پیار سے بستے پر ہاتھ پھیرا اور کہا، ’’مجھے معاف کر دو، میرے ہمدم! آئندہ تمہیں شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔ میں تمہیں اتنا ہی عزیز رکھوں گا جتنے تم حق دار ہو۔‘‘ اس دن کے بعد حمو نے اپنی چیزوں کو سنبھال کر رکھنا سیکھ لیا۔ اب گھر میں ٹائی، شرٹ، پینٹ اور بستہ ادھر اُدھر بکھرے نظر نہیں آتے تھے۔ بستہ بھی خوش تھا، کیونکہ اسے اپنا ایک ایسا ساتھی مل گیا تھا جو صرف علم کی قدر کرنا ہی نہیں، علم کو سنبھالنے والی چیزوں کی قدر کرنا بھی سیکھ گیا تھا
School Bag’s Complaint

50% LikesVS
50% Dislikes

بستے کی شکایت. آمینہ یونس ،بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں