Changed My Perspective 0

ایک گفتگو جس نے میری سوچ بدل دی. بتول فاطمہ
کچھ مہینے پہلے فیس بک پر میری ایک خاتون سے بات ہوئی۔ وہ بہت باوقار، سمجھدار اور خوش اخلاق تھیں۔ بعد میں معلوم ہوا کہ وہ طلاق یافتہ ہیں اور ایک بیٹی کی ماں بھی ہیں۔ میں نے کبھی ان سے ان کی طلاق کی وجہ نہیں پوچھی، کیونکہ ہر انسان کی زندگی میں کچھ ایسے زخم ہوتے ہیں جنہیں کریدنا مناسب نہیں ہوتا۔
اس دوران میں نے عورت مارچ کے حوالے سے ایک پوسٹ لکھی جس میں، میری رائے میں، “میرا جسم، میری مرضی” ایک نامناسب نعرہ تھا۔ انہوں نے میری پوسٹ کی مخالفت کی۔ میں نے ان سے بڑے ادب سے پوچھا کہ وہ میری بات سے اختلاف کیوں کر رہی ہیں؟
انہوں نے کہا، “شاید آپ کے ساتھ کبھی ہراسمنٹ نہیں ہوئی، یا آپ کے خاندان میں کسی کے ساتھ ایسا نہیں ہوا، لیکن بہت سی عورتیں ایسی ہیں جن کی زندگی اس کرب سے گزری ہے۔”
پھر انہوں نے اپنی زندگی کے کچھ واقعات سنائے۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن میں انہیں نامناسب رویوں اور بیڈ ٹچ کا سامنا کرنا پڑا۔ شادی کے بعد بھی وہ محفوظ نہ رہ سکیں۔ ان کے شوہر دوسری عورتوں کو غور سے دیکھتے، ان کے لباس پر تبصرے کرتے اور گالی گلوچ کو معمول سمجھتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے کہا، “مجھے دکھ اس بات کا ہوتا تھا کہ جتنی باریکی سے وہ غیر عورتوں کو دیکھتے تھے، اتنی توجہ شاید کبھی مجھے بھی نہیں دی۔ اگر اسلام نے عورت کو پردے کا حکم دیا ہے تو مرد کو بھی اپنی نگاہیں جھکانے کا حکم دیا ہے۔”
ان کی یہ بات سن کر میں خاموش ہوگئی۔ اس لیے نہیں کہ میرے پاس جواب نہیں تھا، بلکہ اس لیے کہ ان کے الفاظ کے پیچھے ایک تلخ حقیقت تھی۔ ایک لڑکی ہونے کے ناطے میں بھی جانتی ہوں کہ اچھے اور برے لمس میں کیا فرق ہوتا ہے۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ ہراسمنٹ صرف سڑکوں پر نہیں، بلکہ بہت سے گھروں کے اندر بھی ہوتی ہے۔
اس گفتگو کے بعد میں نے خود سے ایک سوال کیا کہ اگر ہم ایک اسلامی معاشرے میں رہتے ہیں تو پھر دین کا حکم صرف عورت کے پردے تک ہی کیوں محدود کر دیا جاتا ہے؟ مرد کو بھی تو نظریں جھکانے، عورت کی عزت کرنے، زبان کی حفاظت کرنے اور اپنے کردار کو پاکیزہ رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ جب تک مرد اللہ، اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات، شریعت اور حقیقی اسلامی تربیت کو نہیں سمجھے گا، تب تک صرف عورت پر ذمہ داری ڈالنے سے معاشرہ درست نہیں ہوگا۔
اس خاتون کی ایک بات آج بھی میرے ذہن میں محفوظ ہے۔ انہوں نے کہا، “مجھے مردوں سے نفرت ہے اب ، اور میں اپنی بیٹی کی حفاظت اس طرح کرتی ہوں جس طرح شاید ہماری مائیں ہماری نہیں کر پائیں۔ میں نے اپنی بیٹی کو اپنا دوست بنایا ہے تاکہ وہ مجھ سے ہر بات بلا خوف کہہ سکے۔”
اس گفتگو نے مجھے احساس دلایا کہ بعض اوقات ہم کسی مسئلے پر رائے تو قائم کر لیتے ہیں، مگر اس درد کو نہیں جانتے جس سے گزر کر لوگ وہ رائے بناتے ہیں۔ اس دن مجھے اپنی پوسٹ پر افسوس ہوا میں نے سیکھا کہ اختلاف ضرور ہونا چاہیے، لیکن کسی کے تجربات کو سمجھے بغیر فیصلہ کرنا انصاف نہیں۔ بعض حقیقتیں کتابوں سے نہیں، انسانوں کے زخموں سے سیکھنے کو ملتی ہیں۔

شگر ، یونین کونسل الچوڑی میں گزشتہ ایک ماہ سے جاری بجلی کی بندش پر شدید تشویش، حکومت اور متعلقہ محکمہ سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ . شگر ڈسٹرکٹ کونسل الچوڑی کے امیدوار عمران حسین شگری

عنوان: پیٹ کی مجبوری اور بکتا ہوا دین. سیدہ فضہ بتول، میانوالی

عنوان: “وقت کا سبق”. محمد دلاور بلتستانی

Changed My Perspective

50% LikesVS
50% Dislikes

ایک گفتگو جس نے میری سوچ بدل دی. بتول فاطمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں