Hunger and the Selling of Religion 0

عنوان: پیٹ کی مجبوری اور بکتا ہوا دین. سیدہ فضہ بتول، میانوالی
جناب! کسی کو برباد کرنا ہو تو اس کا دین اس کی معاشی مجبوری بنا دیجیے۔ باقی کا کام اس کا پیٹ خود ہی کر لے گا۔
جب کسی گھر میں بچہ پڑھائی میں نالائق نکلے، جسے دیکھ کر والدین کو لگے کہ یہ کسی مقابلے کا امتحان پاس کر سکتا ہے نہ کسی سائنسی یا تجارتی میدان میں آگے بڑھ سکتا ہے، تو بڑی سادگی اور فخر سے ایک جملہ بولا جاتا ہے: “اسے کسی مدرسے ڈال دو، کچھ نہیں تو دین ہی سیکھ لے گا!”
ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے! جس دین کو کائنات کی عقل، حکمت، تدبر اور پوری انسانیت کی رہنمائی کا مرکز ہونا چاہیے تھا، ہم نے اسے اپنی خاندانی ناکامیوں اور معاشی بیزاری کی آخری پناہ گاہ بنا دیا۔ جب ایک بچہ اس احساسِ کمتری کے ساتھ بڑا ہوتا ہے کہ وہ دنیا کے کسی کام کا نہیں تھا اس لیے اسے یہاں بھیج دیا گیا، اور سالوں بعد وہاں سے نکل کر اس کے پاس نہ کوئی عصری ڈگری ہوتی ہے، نہ کوئی جدید ہنر اور نہ معیشت کا کوئی اور راستہ تو اس کے پاس زندگی کی گاڑی چلانے کا صرف ایک ہی طریقہ بچتا ہے
دین کو اپنے روزگار کا ذریعہ بنانا!
اگر اس کے پاس اعلیٰ تعلیم ہوتی، کوئی سائنس، تجارتی یا فنونِ لطیفہ کی ڈگری ہوتی اور اس کی روزی روٹی کا انتظام کسی اور شعبے سے مضبوط ہوتا، تو اسے کبھی اپنے معاشی مفادات اور پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ممبر و محراب کو استعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ مگر جب دین ہی روزی روٹی کی واحد دکانداری بن جائے، تو پھر مارکیٹ کی ڈیمانڈ پوری کرنا مجبوری بن جاتا ہے۔
اور ہمارے اس جذباتی معاشرے کی مارکیٹ میں “تعصب، نفرت اور فرقہ وارانیت” سے زیادہ تیزی سے بکنے والی کوئی شے نہیں۔ عوام کی جذباتی تسکین کے لیے، اپنی دکانداری کو چمکانے کے لیے اور اپنے پیروکاروں کا مجمع اور چندہ برقرار رکھنے کے لیے ملا حضرات نکتہ چینی اور فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دیتے ہیں۔ جب تک ایک مسلک دوسرے مسلک کے خلاف نفرت نہیں بیچے گا، اس کی الگ پہچان اور معاشی بقا خطرے میں رہے گی۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو “روح کا سفر” سمجھنے کے بجائے “جسم کا پیٹ” پالنے کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ جب ایک عالمِ دین اپنے رزق کے لیے عوام کے چندوں، تعصبات اور مسلکی حمایت کا محتاج ہو جائے گا، تو وہ حق بات کہنے سے ڈرے گا اور وہی بولے گا جو اس کی دکان کو چلتا رکھے۔ یوں جو دین انسانوں کے دلوں کو جوڑنے اور اخلاق کی تربیت کے لیے آیا تھا، وہ معاشی مجبوریوں اور مذہبی تجارت کی نذر ہو کر انسانوں کو کاٹنے اور باہم لڑانے کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
دین کو پیٹ کی مجبوری بننے سے بچانے کے لیے محض نعرہ لگانا کافی نہیں، بلکہ اس کا ایک مکمل عمل درآمدی خاکہ (Action Plan) قائم کرنا ہوگا:
۱. خاندانی سطح پر ذہن سازی:
* ذہین بچوں کو وقف کرنا: اپنی اس سوچ کو بدلیے کہ مدرسہ صرف پڑھائی میں نالائق یا معذور بچوں کی جگہ ہے۔ گھر کے سب سے باصلاحیت اور ذہین بچے کو دینی علوم کے لیے چنیے تاکہ وہ حکمت سے معاشرے کی رہنمائی کر سکے۔
* بچوں کی دوہری تربیت: اگر بچے کو حافظ یا عالم بنا رہے ہیں، تو ساتھ ساتھ اس کو کسی عصری اسکول یا آن لائن ہنر (مثلًا ڈیجیٹل اسکلز، زبانیں) سے لازمی جوڑیں تاکہ وہ معاشی طور پر کسی کا محتاج نہ رہے۔
۲. مدارس کے نظام کی جدید سازی:
* عصری علوم اور ڈگریوں کا الحاق: مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید سائنس، ریاضی، تکنیکی علوم (IT) اور زبانوں کی تعلیم لازمی کی جائے، اور وفاق المدارس کے ڈگری سسٹم کو قومی تعلیم (Matric/FSc) اور یونیورسٹی لیول سے عملی طور پر جوڑا جائے تاکہ طالب علم صرف امامت کے بھروسے پر نہ رہے۔
* دستکاری اور فنی تعلیم (Vocational Training): ہر مدرسے میں ایک تکنیکی شعبہ قائم کیا جائے جہاں کمپیوٹر کوڈنگ، گرافک ڈیزائننگ یا دیگر تجارتی ہنر سکھائے جائیں۔ فارغ التحصیل عالم کے پاس ہاتھ کا ہنر ہو تاکہ وہ مسجد کے چندے کے بجائے اپنے ہنر سے حلال روزی کما سکے۔
* انبیاء کرام کے اسوہ پر عمل: تاریخ گواہ ہے کہ جلیل القدر علماء اور انبیاء اپنے ہاتھوں سے روزی کماتے تھے (کوئی درزی تھا، کوئی لوہار، کوئی تجارتی قافلے چلاتا تھا)۔ آئمہ اور مدرسین میں یہ سوچ بیدار کی جائے کہ دین کی خدمت بلا معاوضہ یا باوقار معیشت کے ساتھ ہونی چاہیے۔
۳. حکومتی اور معاشرتی سطح پر اقدامات:
مسجد و محراب کا مستقل اوقافی فنڈ: ریاستی یا محلے کے شفاف اوقافی نظام کے تحت مساجد کے آئمہ کا ایک باوقار اور طے شدہ اسکیل (Pay Scale) بنایا جائے، اور ان پر فرقہ وارانہ یا نفرت انگیز تقاریر کی سخت قانونی پابندی ہو تاکہ انہیں اپنا پیٹ پالنے کے لیے عوام کی مذہبی بلیک میلن…

عنوان: “وقت کا سبق”. محمد دلاور بلتستانی

دھوپ کے مسافر” کتاب سے لیا گیا اقتساب ملاحظہ فرمائیں .بتول فاطمہ

Hunger and the Selling of Religion

50% LikesVS
50% Dislikes

پیٹ کی مجبوری اور بکتا ہوا دین. سیدہ فضہ بتول، میانوالی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں