مقابلہ زندگی ہے، انا نہیں. محمد عابد رشید
زندگی میں مقابلہ ضرور کریں، مگر مقابلہ کسی کو شکست دینے کے لیے نہیں، خود کو بہتر بنانے کے لیے کریں۔ مقابلہ کرنا کوئی جرم نہیں، بلکہ یہ زندگی کی علامت ہے۔ جو انسان آگے بڑھنے کی کوشش چھوڑ دیتا ہے، وہ دراصل اپنی ترقی کے دروازے خود بند کر لیتا ہے۔ مسئلہ مقابلہ کرنے میں نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے مقابلے کو صرف ہار اور جیت کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ یاد رکھیں! ہار اور جیت زندگی کا آخری فیصلہ نہیں، بلکہ زندگی کے سفر کے دو اہم مرحلے ہیں۔ کبھی جیت ہمارے قدم چومتی ہے اور کبھی ہار ہمیں اپنے اندر جھانکنے کا موقع دیتی ہے۔ جیت ہمیں خوشی ضرور دیتی ہے، مگر ہار ہمیں وہ سبق سکھاتی ہے جو اکثر کامیابی کے شور میں سنائی نہیں دیتا۔ ہار ہمیں بتاتی ہے کہ کہاں کمی رہ گئی، کہاں مزید محنت کی ضرورت ہے اور کہاں اپنی حکمتِ عملی بدلنی چاہیے۔ اصل خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب مقابلہ کسی مثبت مقصد کے بجائے انا، ضد اور دوسروں کو نیچا دکھانے کا ذریعہ بن جائے۔ انا کی بنیاد پر کیا جانے والا مقابلہ انسان کو کامیابی سے زیادہ نفرت کے قریب لے جاتا ہے۔ پھر مقصد اپنی منزل حاصل کرنا نہیں رہتا بلکہ دوسرے کو گرانا بن جاتا ہے۔ ایسی دوڑ میں شاید وقتی فتح مل جائے، مگر دل کا سکون، رشتوں کی خوبصورتی اور انسانیت کا وقار کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔
حقیقی مقابلہ تو اپنے آپ سے ہونا چاہیے۔
کل میں کیا تھا اور آج کہاں کھڑا ہوں؟
کل میری سوچ کیا تھی اور آج اس میں کتنی پختگی آئی؟
کل میں نے جو غلطی کی، کیا آج اسے دہرانے سے بچ رہا ہوں؟
اگر انسان روزانہ اپنا موازنہ اپنے گزرے ہوئے کل سے کرنے لگے تو اسے دوسروں سے آگے نکلنے کی بے چینی کم اور خود کو بہتر بنانے کی خواہش زیادہ محسوس ہوگی۔
زندگی ایک ایسی دوڑ ہے جس میں ہر شخص کی منزل، رفتار اور راستہ الگ ہے۔ کسی کی رفتار تیز ہے تو کسی کا سفر طویل؛ کسی کو کامیابی جلد مل جاتی ہے اور کسی کو برسوں کی محنت کے بعد۔ اس لیے کسی کی کامیابی دیکھ کر حسد نہیں، حوصلہ پیدا کریں اور کسی کی ناکامی دیکھ کر تمسخر نہیں، ہمدردی کریں۔
دوڑ میں ضرور شامل ہوں، مگر کسی کو گرانے کے لیے نہیں؛ خود کو بلند کرنے کے لیے۔
جیت ملے تو شکر کریں، ہار ملے تو صبر کریں، اپنی غلطیوں کا جائزہ لیں اور دوبارہ کوشش کریں۔ کیونکہ اصل کامیابی صرف منزل حاصل کرنے کا نام نہیں، بلکہ ہر ٹھوکر کے بعد پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر اٹھنے کا نام ہے۔
آخرکار یاد رکھیں، زندگی مقابلہ ضرور ہے، مگر انا نہیں۔
مقابلہ اگر کردار، محنت، علم اور صلاحیت سے ہو تو انسان کو بلند کرتا ہے؛ اور اگر انا، ضد اور حسد سے ہو تو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔
اس لیے دوسروں کو شکست دینے سے پہلے اپنے کل کو شکست دیں، اپنی کمزوریوں پر قابو پائیں اور ہر نئے دن اپنے آپ کا پہلے سے بہتر انسان بننے کی کوشش کریں۔
کیونکہ زندگی کا اصل مقصد کسی سے آگے نکلنا نہیں، بلکہ ہر دن اپنے آپ سے بہتر ہونا ہے۔
Life Is a Competition,




