Ending Harassment 0

ہراسمنٹ کا خاتمہ، مرد کی تربیت سے آغاز. محمد عابد رشید
ہراسمنٹ صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی تربیت، سوچ اور رویوں کا آئینہ ہے۔ ہم اکثر خواتین کو محتاط رہنے، لباس، وقت اور راستے کی احتیاط کی نصیحت کرتے ہیں، مگر کبھی یہ سوال بھی کرنا چاہیے کہ مرد کو عزت، حدود اور کردار کی تربیت کون دے گا؟

ایک بیٹی کو یہ سکھانا ضروری ہے کہ وہ اپنے حقوق سے آگاہ ہو، مگر ایک بیٹے کو یہ سکھانا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کہ کسی عورت کی عزت، اس کی مرضی اور اس کی حدود کا احترام کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ کسی خاتون کو گھورنا، نازیبا جملے کہنا، غیر ضروری پیغامات بھیجنا، راستہ روکنا یا آن لائن تنگ کرنا معمولی شرارت نہیں، بلکہ ایک انسان کی عزت اور سکون پر حملہ ہے۔

تربیت گھر سے شروع ہوتی ہے۔ ماں باپ اگر اپنے بیٹے کو یہ سمجھا دیں کہ عورت صرف ماں، بہن یا بیٹی ہی نہیں بلکہ ایک مکمل انسان بھی ہے، جس کی عزت اور حدود کا احترام لازم ہے، تو معاشرے میں بہت سی برائیوں کو جنم لینے سے پہلے ہی روکا جا سکتا ہے۔

ہمیں بیٹیوں کو ڈرانے کے بجائے بیٹوں کو ذمہ دار بنانا ہوگا۔ انہیں طاقت کا مطلب کمزور کو دبانا نہیں بلکہ اپنے نفس اور رویے پر قابو پانا سکھانا ہوگا۔ حقیقی مردانگی کسی کو خوفزدہ کرنے میں نہیں، بلکہ اپنی نگاہ، زبان اور کردار کی حفاظت میں ہے۔

ہراسمنٹ کے خلاف قوانین اپنی جگہ ضروری ہیں، مگر دیرپا تبدیلی قانون کے ساتھ تربیت سے آئے گی۔ جب گھر اچھے مرد تیار کریں گے تو معاشرہ محفوظ بیٹیاں خود بخود پائے گا۔

Ending Harassment

100% LikesVS
0% Dislikes

ہراسمنٹ کا خاتمہ، مرد کی تربیت سے آغاز. محمد عابد رشید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں