Dowry and the Daughter 0

جہیز اور بیٹی !! طہٰ علی تابشٓ بلتستانی
(تھکا ہار ساجد گھر میں داخل ہوتا ہے اور اپنی بیوی کو آواز دیتا ہے)
ساجد: او سکینہ بی! ذرا ایک گلاس پانی تو لانا۔

سکینہ بی: (آواز دے کر) ارے فریحہ! چل جلدی سے اپنے ابا کو پانی دے کر آ، میرا سر درد سے پھٹا جا رہا ہے۔

فریحہ: جی امی! لاتی ہوں۔
(فریحہ پانی لے کر آتی ہے)
ساجد: فریحہ بیٹا! تمہاری امی کو کیا ہوا ہے؟ اتنی خفا کیوں ہیں؟

فریحہ: ابا! صبح علی کے گھر والے آئے تھے، تب سے ان کا یہی حال ہے۔ مجھے بھی نہ جانے کیا کچھ سنا چکی ہیں۔ ابا! سچ پوچھیں تو اس سے بہتر ہے کہ میں شادی ہی نہ کروں۔

(ساجد اٹھ کر سکینہ بی کے پاس جاتا ہے)

ساجد: بیگم! کیا ہوا ہے؟ اتنی پریشان کیوں ہو؟

سکینہ بی: ساجد! پتا ہے مجھے بیٹیاں کیوں نہیں پسند؟ یہ دیکھو! ان کے سسرال والوں نے پانچ صفحات کی لمبی لسٹ بھیجی ہے۔ سائرہ بہن کہہ رہی تھیں کہ “بہن! اس سامان میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے، ورنہ معاشرے میں ہماری ناک کٹ جائے گی۔”

ساجد: (پرچوں کو ہاتھوں میں تھامے پریشانی سے) پرسوں ہی تو میں نے فریحہ کی یونیورسٹی کی 76 ہزار سمسٹر فیس بھری ہے، اور اب یہ ایک نیا خرچہ شروع ہو گیا۔

اس مہنگائی نے پہلے ہی کمر توڑ رکھی ہے اور اب ایک اور عذاب! فریحہ کو کیسے سمجھائیں کہ بیٹیاں نعمت سے زحمت کیسے بن جاتی ہیں۔

(دروازے کے پیچھے کھڑی فریحہ یہ سب سن رہی ہوتی ہے)

ساجد: (حساب لگاتے ہوئے) اگر اس لسٹ کا اندازاً حساب لگائیں تو کم از کم 21 لاکھ کا جہیز بنتا ہے، اور شادی کا دیگر خرچہ ملا کر کم از کم 7 لاکھ مزید لگ جائیں گے۔

سکینہ بی: میں صبح سے یہی سوچ سوچ کر پاگل ہو رہی ہوں۔ ایک تو بیٹی کی شادی کی عمر نکلتی جا رہی ہے، اور اوپر سے یہ ظالمانہ رسمیں ہمیں سڑک پر لے آئیں گی۔ ہماری کل جمع پونجی بھی ملا لیں تو مشکل سے 11 لاکھ بنتے ہیں۔ اب ان کا جہیز کیسے پورا ہوگا؟

ساجد: تم پریشان نہ ہو۔ ہم اپنا یہ گھر گروی رکھ کر بینک سے لون لے لیتے ہیں، اس طرح تمام اخراجات پورے ہو جائیں گے۔
سکینہ بی: ساجد! اگر ہم وقت پر لون واپس نہ کر سکے تو سر چھپانے کے لیے یہ چھت بھی نہیں رہے گی، ہم سڑک پر آ جائیں گے۔

ساجد: پھر تو ایک ہی راستہ بچتا ہے… جب تک جہیز کی رقم پوری نہیں ہوتی، تم سیٹھ صاحب کے گھر کے اندر کا کام سنبھالو اور میں باہر چوکیداری کر لیتا ہوں۔ ہم دونوں صبح کام ختم کر کےططط ہی گھر لوٹا کریں گے۔

(دروازے کے پیچھے کھڑی فریحہ زار و قطار رو رہی تھی اور پہلی بار اسے اپنے وجود پر شرمندگی محسوس ہو رہی تھی، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ سیٹھ صاحب کیسا انسان ہے۔)۔

۔۔۔

کہانی کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اور ان رسومات کو ختم کرنے میں اپنا حصہ ڈالے ۔

Dowry and the Daughter

50% LikesVS
50% Dislikes

جہیز اور بیٹی !! طہٰ علی تابشٓ بلتستانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں