زندگی کی تلخی. ڈاکٹر محمد ارشد
زندگی کی تلخیاں
زندگی ہمیشہ خوشیوں، مسکراہٹوں اور آسانیوں کا نام نہیں۔ انسان کی زندگی میں ایسے کئی مرحلے آتے ہیں جہاں اسے خوشیوں کے ساتھ غم، کامیابی کے ساتھ ناکامی، اپنوں کی محبت کے ساتھ بے رخی اور امید کے ساتھ مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بعض اوقات انسان کو ایسے حالات سے گزرنا پڑتا ہے جن کا اس نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوتا۔ یہی وہ لمحات ہوتے ہیں جو انسان کی اصل شخصیت کو سامنے لاتے ہیں اور اسے زندگی کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کا موقع دیتے ہیں۔ زندگی کی تلخیاں بظاہر انسان کے لیے تکلیف کا باعث بنتی ہیں، لیکن اگر غور کیا جائے تو یہی تلخ تجربات انسان کی تربیت بھی کرتے ہیں۔ آسان حالات میں ہر شخص مطمئن اور خوش رہ سکتا ہے، مگر مشکل وقت میں اپنے حوصلے کو قائم رکھنا ہی اصل کامیابی ہے۔ جب انسان بار بار مشکلات سے گزرتا ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ زندگی صرف خواہشات کے مطابق چلنے کا نام نہیں بلکہ حالات کو سمجھنے، قبول کرنے اور ان کے ساتھ بہتر انداز میں آگے بڑھنے کا نام بھی ہے۔ کبھی انسان کو اپنوں کی بے رخی دکھ دیتی ہے۔ جن لوگوں سے محبت اور خلوص کی امید ہوتی ہے، انہی کی خاموشی یا بدلتا ہوا رویہ دل کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ ایسے مواقع پر انسان کے دل میں کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوا، کس سے غلطی ہوئی اور وہ رشتہ پہلے جیسا کیوں نہیں رہا۔ لیکن وقت کے ساتھ انسان سمجھ جاتا ہے کہ ہر تعلق ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں ایک خاص وقت کے لیے آتے ہیں اور ہمیں کوئی نہ کوئی سبق دے کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔
اسی طرح حالات کی سختی بھی انسان کو بہت کچھ سکھاتی ہے۔ جب راستے بند نظر آتے ہیں اور مسائل ایک کے بعد ایک سامنے آتے ہیں تو انسان کو اپنے اندر موجود قوت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مشکل وقت میں انسان کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس قدر صبر کر سکتا ہے، کتنی مشکلات برداشت کر سکتا ہے اور کس حد تک اپنے مقصد کے لیے جدوجہد جاری رکھ سکتا ہے۔ یہی تجربات انسان کو مضبوط بناتے ہیں۔ زندگی کی ہر تلخی اپنے ساتھ ایک سبق لے کر آتی ہے۔ کبھی یہ ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر مسکرانے والا ہمارا خیر خواہ نہیں ہوتا۔ کبھی یہ احساس دلاتی ہے کہ خاموشی بھی ایک زبان ہے اور بعض اوقات الفاظ سے زیادہ گہری بات کہہ دیتی ہے۔ کبھی ناکامی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کامیابی صرف منزل حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ بار بار گرنے کے بعد دوبارہ اٹھنے کا نام بھی ہے۔ انسان کو یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ ہر مشکل ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی۔ حالات چاہے کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں، وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ رات کے بعد صبح ضرور آتی ہے اور اندھیرے کے بعد روشنی کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اسی طرح زندگی میں آنے والی پریشانیاں بھی ایک نہ ایک دن ختم ہو جاتی ہیں۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان مشکل وقت میں مایوسی کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دے۔
بعض اوقات انسان اپنی مشکلات کو دوسروں سے چھپا لیتا ہے۔ چہرے پر مسکراہٹ رکھتا ہے اور لوگوں کو یہ دکھانے کی کوشش کرتا ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے، جبکہ اندر سے وہ کئی جنگیں لڑ رہا ہوتا ہے۔ ایسے خاموش دکھ انسان کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں۔ اس لیے ہمیں دوسروں کے ظاہری حالات دیکھ کر ان کی زندگی کے بارے میں فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ ممکن ہے جو شخص ہمارے سامنے مسکرا رہا ہو، وہ اندر سے کسی گہرے دکھ کا سامنا کر رہا ہو۔ تلخ تجربات انسان کو لوگوں کی پہچان بھی سکھاتے ہیں۔ اچھے وقت میں بہت سے لوگ ہمارے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، لیکن مشکل وقت میں صرف وہی لوگ باقی رہتے ہیں جن کے دل میں حقیقی خلوص ہوتا ہے۔ اسی لیے مشکلات کو صرف تکلیف سمجھنے کے بجائے ایک ایسے آئینے کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے جو ہمیں رشتوں اور لوگوں کی حقیقت دکھاتا ہے۔
زندگی میں سب سے ضروری چیز امید ہے۔ جب انسان کے پاس امید باقی رہتی ہے تو وہ بڑے سے بڑے مشکل مرحلے سے بھی گزر سکتا ہے۔ اپنے رب پر یقین، اپنی محنت پر اعتماد اور مستقبل کے بارے میں مثبت سوچ انسان کو دوبارہ کھڑا ہونے کا حوصلہ دیتی ہے۔ اگر آج حالات خراب ہیں تو ضروری نہیں کہ کل بھی ایسے ہی رہیں گے۔ انسان کو اپنا کردار ادا کرتے ہوئے کوشش جاری رکھنی چاہیے اور نتیجہ اپنے رب پر چھوڑ دینا چاہیے۔ زندگی کی تلخیاں دراصل زندگی کا وہ حصہ ہیں جن سے کوئی بھی انسان مکمل طور پر بچ نہیں سکتا۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی شخص ان تلخیوں سے ٹوٹ جاتا ہے اور کوئی انہی تجربات سے سیکھ کر پہلے سے زیادہ مضبوط بن جاتا ہے۔ ہمیں مشکلات کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ اپنی تربیت کا ذریعہ سمجھنا چاہیے۔ زندگی ہمیں ہر دن کچھ نہ کچھ سکھاتی ہے۔ کبھی خوشی کے ذریعے اور کبھی غم کے ذریعے۔ کبھی کامیابی ہمیں سبق دیتی ہے اور کبھی ناکامی ہمیں وہ حقیقت سمجھا دیتی ہے جو کامیابی کے دوران نظر نہیں آتی۔ اس لیے زندگی کے تلخ لمحوں سے نفرت کرنے کے بجائے ان سے ملنے والے سبق کو سمجھنا چاہیے۔ آخرکار زندگی کی تلخیاں عارضی ہوتی ہیں، مگر ان سے ملنے والا سبق اکثر پوری زندگی انسان کے ساتھ رہتا ہے۔ مشکل وقت ہمیں صبر سکھاتا ہے، ناکامی ہمیں جدوجہد کا حوصلہ دیتی ہے، بے رخی ہمیں خودداری کا مطلب سمجھاتی ہے اور تنہائی ہمیں اپنے آپ سے ملاقات کا موقع دیتی ہے۔ اس لیے جب زندگی میں کوئی تلخ مرحلہ آئے تو خود کو کمزور نہ سمجھیں۔ ممکن ہے یہی مرحلہ آپ کی شخصیت کی تعمیر کا وہ حصہ ہو جو آنے والے وقت میں آپ کو زیادہ مضبوط، سمجھدار اور پُراعتماد انسان بنا دے۔
Bitterness of Life




