جنگ سے نفرت، امن سے محبت۔۔۔ نعرہ یا حقیقت؟ یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
“جنگ سے نفرت اور امن سے محبت” یہ الفاظ سننے میں کتنے خوب صورت ہیں۔ اسکول کی دیوار پر لکھے جائیں تو دل کو بھاتے ہیں، کسی تقریر میں ادا ہوں تو تالیاں بجتی ہیں، کسی عالمی کانفرنس کے اعلامیے کا حصہ بنیں تو انسان کو امید بندھتی ہے کہ شاید اب دنیا واقعی بدلنے والی ہے مگر ذرا ٹھہریے! کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا انسان نے جنگ کو دل سے مسترد کر دیا ہے اور امن کو اپنی اجتماعی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے؟ یا یہ بھی ان بے شمار نعروں میں سے ایک ہے جنہیں ہم دہراتے تو بہت ہیں، مگر ان پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے؟ یہ سوال آج پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہے۔
ہم ایک ایسی دنیا میں رہتے ہیں جہاں انسان نے علم اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ناقابلِ تصور ترقی کرلی ہے۔ چند لمحوں میں ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک پیغام پہنچ جاتا ہے۔ مصنوعی ذہانت انسان کے پیچیدہ مسائل حل کرنے میں مدد دے رہی ہے۔ طب نے ان بیماریوں کے علاج دریافت کرلیے ہیں جو کبھی موت کا حتمی فرمان سمجھی جاتی تھیں۔ انسان خلا کی وسعتوں میں جھانک رہا ہے اور سمندر کی گہرائیوں کو ناپ رہا ہے لیکن اس تمام ترقی کے باوجود انسان ابھی تک انسان کو مارنے کے طریقے ایجاد کرنے میں بھی مصروف ہے۔ یہ ہماری تہذیب کا سب سے بڑا تضاد ہے۔
ایک طرف ہم زندگی کو طول دینے کے لیے نئی دوائیں بنا رہے ہیں، دوسری طرف ایسی جنگی ٹیکنالوجی تیار کر رہے ہیں جو چند لمحوں میں ہزاروں زندگیاں ختم کرسکتی ہے۔ ایک طرف بچے کو تعلیم دینے کے لیے اسکول تعمیر ہوتے ہیں، دوسری طرف وہی بچے بمباری سے اپنے اسکول کا ملبہ دیکھنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ ایک طرف دنیا بھوک ختم کرنے کے منصوبے بناتی ہے، دوسری طرف جنگیں لاکھوں لوگوں کو بے گھر اور خوراک سے محروم کردیتی ہیں۔
سوال پھر وہی ہے: کیا ہم واقعی امن چاہتے ہیں؟
شاید اس کا جواب “ہاں” بھی ہے اور “نہیں” بھی۔
عام انسان یقیناً امن چاہتا ہے۔ وہ اپنے گھر میں سکون چاہتا ہے، اپنے بچوں کو ہنستا کھیلتا دیکھنا چاہتا ہے، روزگار چاہتا ہے، عزت چاہتا ہے، صحت چاہتا ہے اور مستقبل کے بارے میں امید رکھنا چاہتا ہے۔ دنیا کا کوئی عام باپ یہ نہیں چاہتا کہ اس کا بیٹا میدانِ جنگ میں جائے اور تابوت میں واپس آئے۔ کوئی ماں یہ نہیں چاہتی کہ اس کی اولاد بموں کی آواز میں پروان چڑھے۔ کوئی بچہ یہ نہیں چاہتا کہ اس کے کھلونوں کی جگہ بندوقیں اور اس کے اسکول کی جگہ پناہ گاہ بن جائے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جنگیں عام لوگ شروع نہیں کرتے۔
جنگ کے فیصلے اکثر طاقت کے مراکز میں ہوتے ہیں۔ نقشے میزوں پر بنتے ہیں، حکمتِ عملیاں بند کمروں میں تیار ہوتی ہیں اور پھر ان فیصلوں کا بوجھ عام انسان اٹھاتا ہے۔ حکمران تقریریں کرتے ہیں، سفارت کار بیانات جاری کرتے ہیں، تجزیہ کار ٹیلی وژن پر بحث کرتے ہیں لیکن جنگ کے اصل معنی اس ماں سے پوچھے جائیں جس کا بیٹا واپس نہیں آیا، اس بچے سے پوچھے جائیں جس نے اپنے والد کو ملبے میں کھو دیا یا اس خاندان سے پوچھے جائیں جسے راتوں رات اپنا گھر چھوڑ کر کسی نامعلوم سمت میں ہجرت کرنا پڑی۔
جنگ دراصل محاذ پر موجود فوجیوں سے زیادہ گھروں میں موجود بے گناہوں کو زخمی کرتی ہے۔
ہم جنگ کو اکثر نقشے پر دیکھتے ہیں۔ سرحد کے اس پار اور اس پار۔ سرخ اور نیلے رنگ کی لکیروں میں۔ فوجی طاقت، میزائل، ٹینک اور طیاروں کے اعداد و شمار میں لیکن جنگ کی اصل تصویر ان اعداد و شمار سے بہت مختلف ہوتی ہے۔ اس تصویر میں ایک بوڑھا شخص اپنے اجڑے ہوئے گھر کے سامنے کھڑا ہے۔ ایک بچی اپنی ماں کا ہاتھ پکڑے ملبے میں کچھ تلاش کر رہی ہے۔ ایک باپ اپنے زخمی بچے کو ہسپتال لے جانے کے لیے راستہ ڈھونڈ رہا ہے۔ ایک ماں اپنے بیٹے کی تصویر سینے سے لگائے بیٹھی ہے۔ یہ جنگ ہے اور اگر یہ جنگ ہے تو پھر امن کیا ہے؟
امن صرف توپوں کی خاموشی کا نام نہیں۔ امن محض جنگ بندی کا دوسرا نام بھی نہیں۔ اگر گولیاں رک جائیں لیکن دلوں میں انتقام کی آگ جلتی رہے تو اسے مکمل امن نہیں کہا جاسکتا۔ اگر بمباری بند ہوجائے مگر ظلم، ناانصافی اور محرومی باقی رہیں تو خاموشی کو امن سمجھنا خود فریبی ہوگی۔
امن دراصل انصاف، برداشت، مکالمے اور انسانی وقار کا مجموعہ ہے۔
ایک ایسا معاشرہ جہاں انسان اپنی بات کہہ سکے، اختلاف کرسکے، اپنے حق کے لیے آواز اٹھا سکے اور پھر بھی اسے دشمن قرار نہ دیا جائے، وہ حقیقی امن کی طرف بڑھ رہا ہوتا ہے۔
اس کے برعکس جہاں اختلافِ رائے کو غداری، سوال کو بغاوت اور تنقید کو دشمنی سمجھا جائے، وہاں جنگ شاید توپوں سے شروع نہ ہوئی ہو مگر ذہنوں میں ضرور شروع ہوچکی ہوتی ہے۔
جنگ پہلے سرحد پر نہیں، انسان کے ذہن میں پیدا ہوتی ہے۔
جب ہم دوسرے انسان کو انسان سمجھنا چھوڑ دیتے ہیں، تب جنگ کے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ جب ہم مخالف قوم کو صرف ایک خطرہ سمجھتے ہیں، جب ہم دوسرے مذہب کے پیروکار کو حقیر سمجھنے لگتے ہیں، جب ہم سیاسی مخالف کو دشمن تصور کرتے ہیں، جب ہم اختلاف کرنے والے کو ختم کردینے کی خواہش پال لیتے ہیں تو ہم اپنے اندر ایک چھوٹی سی جنگ پیدا کرچکے ہوتے ہیں۔
اسی لیے عالمی امن کی بنیاد اقوام متحدہ کے کسی دفتر، کسی صدارتی محل یا کسی سفارتی کانفرنس میں نہیں بلکہ انسان کے رویے میں رکھی جاتی ہے۔
ہم اکثر امن کی بات کرتے ہوئے ایک عجیب دوہرا معیار اختیار کرتے ہیں۔ اپنے لوگوں کی جان ہمیں قیمتی محسوس ہوتی ہے مگر دوسرے فریق کے لوگ ہمیں صرف اعداد و شمار دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے شہر پر حملہ ہو تو ہم اسے ظلم کہتے ہیں لیکن دوسرے شہر کی تباہی کو کسی بڑے مقصد، قومی مفاد یا دفاع کے نام پر نظر انداز کردیتے ہیں۔
یہی رویہ امن کے راستے میں سب سے بڑی دیوار ہے۔
انسانی جان کی کوئی قومیت نہیں ہوتی۔
لاش کا کوئی پاسپورٹ نہیں ہوتا۔ آنسو کسی سرحد کو نہیں مانتے۔ یتیمی کسی مذہب کی پابند نہیں۔ ایک ماں کا دل دنیا کے کسی بھی حصے میں ہو، اپنے بچے کے لیے اسی طرح دھڑکتا ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جسے جنگی جنون سب سے پہلے بھلانے کی کوشش کرتا ہے۔
جنگ کے حامی ہمیشہ کوئی نہ کوئی جواز پیش کرتے ہیں۔ کبھی قومی سلامتی، کبھی سرحدوں کا تحفظ، کبھی تاریخی حق، کبھی بدلہ اور کبھی مستقبل کی نسلوں کا دفاع۔ بعض اوقات واقعی ریاستوں کو اپنے دفاع کا حق بھی حاصل ہوتا ہے۔ دنیا اتنی سادہ نہیں کہ ہر تنازع کو صرف ایک جملے میں حل کردیا جائے۔ لیکن دفاع اور تباہی، ضرورت اور انتقام، طاقت اور ظلم کے درمیان فرق برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
کیونکہ اگر ہر فریق اپنے ہر اقدام کو “دفاع” قرار دینے لگے تو پھر جنگ کبھی ختم نہیں ہوگی۔
ایک حملہ دوسرے حملے کو جنم دے گا، ایک انتقام دوسرے انتقام کو۔ پھر نسلیں گزرتی رہیں گی اور دشمنی وراثت بنتی جائے گی۔
یہی وجہ ہے کہ حقیقی امن کے لیے صرف جنگ روکنا کافی نہیں، نفرت کی نسل روکنا بھی ضروری ہے۔
ایک بچہ اگر اپنے والدین سے صرف یہ سنے کہ فلاں قوم ہماری دشمن ہے، فلاں لوگ برے ہیں، فلاں گروہ سے نفرت کرنا ضروری ہے تو وہ بچپن ہی سے ایک ایسی ذہنی سرحد کے اندر قید ہوجاتا ہے جسے بعد میں مٹانا مشکل ہوتا ہے۔
ہمیں بچوں کو صرف تاریخ کی جنگیں نہیں پڑھانی چاہئیں؛ انہیں یہ بھی پڑھانا چاہیے کہ جنگوں کی قیمت کس نے ادا کی۔ انہیں صرف فاتح بادشاہوں کے نام نہیں بتانے چاہئیں؛ انہیں ان گمنام انسانوں کی کہانیاں بھی سنانی چاہئیں جنہوں نے جنگوں میں اپنے گھر، خواب اور زندگی کھو دی۔
شاید تب تاریخ ہمارے بچوں کے لیے صرف امتحان کا مضمون نہیں بلکہ انسانیت کا سبق بن جائے۔
آج کی دنیا میں جنگ کا ایک اور خطرناک پہلو بھی ہے: جنگ کی صنعت۔
جہاں جنگ ہوتی ہے وہاں صرف فوجیں نہیں لڑتیں، مفادات بھی متحرک ہوجاتے ہیں۔ اسلحہ ایک بڑی عالمی صنعت ہے۔ جنگ جتنی طویل ہوگی، تباہی جتنی زیادہ ہوگی، تعمیرِ نو اور اسلحے دونوں کے لیے اتنا ہی زیادہ سرمایہ درکار ہوگا۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیا کے بعض طاقتور معاشی مفادات امن سے زیادہ کشیدگی میں فائدہ دیکھ سکتے ہیں۔
اس کے مقابلے میں امن کی معیشت خاموش ہوتی ہے۔
امن اسکول بناتا ہے۔ امن ہسپتال بناتا ہے۔ امن سڑکیں بناتا ہے۔ امن روزگار پیدا کرتا ہے۔ امن تجارت کو فروغ دیتا ہے۔ امن سائنس کو انسان کی خدمت میں لگاتا ہے۔ امن نوجوان کو بندوق کے بجائے کتاب دیتا ہے۔
سوچیے، ایک میزائل بنانے پر خرچ ہونے والی دولت اگر کسی غریب ملک کے بچوں کی تعلیم پر خرچ ہوجائے تو کتنی زندگیاں بدل سکتی ہیں؟
ایک بم سے شہر تباہ کیا جاسکتا ہے، مگر ایک اسکول سے نسلیں تعمیر کی جاسکتی ہیں۔
ایک جنگ چند دنوں میں شہر اجاڑ سکتی ہے، مگر ایک پرامن معاشرہ دہائیوں میں ترقی کی بنیاد مضبوط کرتا ہے۔
اسی لیے جنگ طاقت کا مظاہرہ ہوسکتی ہے مگر امن تعمیر کی طاقت ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ امن پسند ہونا بزدلی نہیں۔
بدقسمتی سے بعض معاشروں میں نرم لہجے کو کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ جو شخص جنگ کے بجائے مذاکرات کی بات کرے اسے بزدل کہہ دیا جاتا ہے۔ جو انتقام کے بجائے انصاف کا مطالبہ کرے اسے کمزور سمجھا جاتا ہے۔ حالاں کہ جنگ شروع کرنا شاید نسبتاً آسان ہے، لیکن جنگ ختم کرنا، دشمن کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا اور خون کے بدلے خون کی روایت کو روک دینا کہیں زیادہ بہادری کا کام ہے۔
جنگ کا اعلان چند منٹ میں ہوسکتا ہے؛ امن کی تعمیر نسلیں مانگتی ہے۔
ہماری روزمرہ زندگی بھی ہمیں یہی سبق دیتی ہے۔ گھر میں دو افراد کا جھگڑا ہو تو ایک سخت جملہ معاملہ بڑھا دیتا ہے مگر صبر اور گفتگو اسے ختم کرسکتے ہیں۔ دو خاندانوں کے درمیان اختلاف ہو تو انا کئی نسلوں تک دشمنی چلا سکتی ہے، لیکن ایک معافی کئی دہائیوں کی دوری ختم کرسکتی ہے۔
قوموں کے درمیان بھی یہی اصول کام کرتا ہے۔
بات چیت بند ہوجائے تو غلط فہمیاں بڑھتی ہیں۔ غلط فہمیاں خوف پیدا کرتی ہیں۔ خوف بداعتمادی کو جنم دیتا ہے اور بداعتمادی بالآخر تصادم کی طرف لے جاتی ہے۔
اس لیے مذاکرات کمزوری نہیں؛ اکثر جنگ سے بچنے کی آخری اور سب سے مضبوط کوشش ہوتے ہیں۔
آج دنیا کو صرف طاقتور فوجوں کی نہیں، طاقتور سفارت کاری، مضبوط اخلاقی اصول اور زندہ انسانی ضمیر کی بھی ضرورت ہے اور امن صرف حکمرانوں کی زمہ داری نہیں،
ہم عام لوگ بھی اس جنگی ذہنیت کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں جب ہم سوشل میڈیا پر نفرت پھیلاتے ہیں، مخالف کی موت پر جشن مناتے ہیں، جھوٹی خبروں کو بغیر تحقیق آگے بڑھاتے ہیں، مختلف قوموں یا گروہوں کے خلاف تعصب کو معمول سمجھتے ہیں اور ہر اختلاف کو دشمنی بنا دیتے ہیں۔
امن کا آغاز شاید کسی بڑے عالمی معاہدے سے نہیں بلکہ ہمارے ایک چھوٹے سے رویے سے ہوسکتا ہے۔
ایک نرم لفظ سے، ایک معافی سے، ایک برداشت سے، ایک مکالمے سے، ایک ایسے فیصلے سے جس میں ہم یہ سوچیں کہ سامنے والا بھی انسان ہے۔
اگر ہم چاہتے ہیں کہ دنیا جنگ سے پاک ہو تو ہمیں اپنے گھروں، تعلیمی اداروں، سیاسی جماعتوں، مذہبی مجالس اور میڈیا میں مکالمے کی ثقافت پیدا کرنا ہوگی۔ ہمیں نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ طاقت کا مطلب دوسروں کو کچلنا نہیں، بلکہ اپنے غصے پر قابو پانا بھی طاقت ہے۔
آخرکار تہذیب کی اصل آزمائش یہی ہے۔
انسان کے پاس طاقت ہو اور وہ ظلم نہ کرے۔
اس کے پاس انتقام کا موقع ہو اور وہ انصاف کو میں کریں، اپنے مفادات کے لیے جنگ کو جائز قرار دیتے رہیں، دوسروں کے دکھ کو معمولی سمجھیں، طاقتور کے ظلم کو نظر انداز کریں اور کمزور کے حق کو بھلا دیں تو پھر امن کا ن ترجیح دے۔
اس کے پاس جنگ کا راستہ کھلا ہو اور وہ امن کی کوشش کرے۔
اس کے پاس نفرت کی وجوہ موجود ہوں اور پھر بھی وہ انسانیت کو مقدم رکھے۔
تب ہم کہہ سکتے ہیں کہ “جنگ سے نفرت، امن سے محبت” صرف نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بن رہی ہے۔
لیکن اگر ہم امن کی بات صرف تقریروں میں کریں، اپنے مفادات کے لیے جنگ کو جائز قرار دیتے رہیں، دوسروں کے دکھ کو معمولی سمجھیں، طاقتور کے ظلم کو نظر انداز کریں اور کمزور کے حق کو بھلا دیں تو پھر امن کا نعرہ محض ایک خوب صورت جملہ رہ جائے گا۔
دنیا کو آج امن کے نعروں سے زیادہ امن کے کردار کی ضرورت ہے۔
ایسے کردار کی جو دشمن کو بھی انسان سمجھ سکے۔
ایسی سیاست کی جو ووٹ کے لیے نفرت نہ بیچے۔
ایسی صحافت کی جو سنسنی کے بجائے حقیقت دکھائے۔
ایسی تعلیم کی جو ذہنوں میں دیواریں نہیں، پل تعمیر کرے۔
ایسی سفارت کاری کی جو آخری گولی چلنے کا انتظار نہ کرے بلکہ پہلی گولی سے پہلے مذاکرات کا راستہ تلاش کرے
اور ایسے انسانوں کی جو یہ سمجھیں کہ دنیا صرف ہمارے لیے نہیں، آنے والی نسلوں کے لیے بھی ہے۔
ہم اپنے بچوں کو کس دنیا میں چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں؟
ایسی دنیا جہاں آسمان پر طیاروں کی آواز سن کر بچے ڈر جائیں؟
یا ایسی دنیا جہاں آسمان میں اڑتے طیارے صرف سفر کی علامت ہوں؟
ایسی دنیا جہاں سرحدیں خوف کی لکیر ہوں؟
یا ایسی دنیا جہاں سرحدیں شناخت تو ہوں، دشمنی کی وجہ نہ ہوں؟
ایسی دنیا جہاں کتاب سے زیادہ بندوق طاقتور ہو؟
یا ایسی دنیا جہاں قلم، علم اور مکالمہ انسان کی پہلی ترجیح ہوں؟
فیصلہ آج ہمیں کرنا ہے۔
کیونکہ جنگ صرف میدان میں نہیں ہوتی؛ اس کا فیصلہ ہمارے ذہنوں میں بھی ہوتا ہے۔
اور امن بھی صرف معاہدوں میں نہیں لکھا جاتا؛ وہ انسان کے رویے میں ظاہر ہوتا ہے۔
جنگ شاید انسان کی طاقت کا سب سے خوفناک اظہار ہے، مگر امن اس کی انسانیت کا سب سے خوب صورت ثبوت ہے۔
اس لیے “جنگ سے نفرت، امن سے محبت” کو اگر واقعی حقیقت بنانا ہے تو ہمیں صرف یہ نعرہ نہیں لگانا ہوگا، ہمیں اس کے تقاضے بھی قبول کرنا ہوں گے۔ انصاف، برداشت، مکالمہ، انسانی وقار اور دوسروں کے حقِ زندگی کا احترام۔۔یہی وہ ستون ہیں جن پر حقیقی امن کی عمارت کھڑی ہوسکتی ہے۔
ورنہ دنیا امن کے ترانے گاتی رہے گی، کانفرنسیں ہوتی رہیں گی، اعلامیے جاری ہوتے رہیں گے، اور کسی نہ کسی شہر میں ایک ماں اپنے بچے کو ملبے کے ڈھیر میں تلاش کرتی رہے گی۔
فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے۔
ہمیں ایسی دنیا بنانی ہے جہاں جنگ تاریخ کی کتابوں میں باقی رہ جائے اور امن انسان کی زندگی کی حقیقت بن جائے۔
تب شاید آنے والی نسلیں ہم سے یہ نہ پوچھیں کہ آپ نے جنگوں کے بارے میں کتنی تقریریں کی تھیں، بلکہ یہ کہیں:
“انہوں نے واقعی دنیا کو جنگ سے نکال کر امن کی طرف لے جانے کی کوشش کی تھی۔”
0



