Relationships 0

عورت ہی عورت کی دشمن؟ – رشتے، فریب اور معاشرتی رویے. بتول فاطمہ
ہمارے گھروں میں عورت کا ہونا کسی برکت سے کم نہیں۔ بیٹی، بہو، بہن، بیوی، ماں یا بھابھی—یہ سارے رشتے مل کر ہی ایک ہنستے بستے خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں۔ لیکن اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ انہی رشتوں کے بیچ ایسی ناچاقیاں اور کٹھن صورتحال پیدا ہو جاتی ہے کہ لوگ بلاجھجھک کہہ دیتے ہیں، “عورت ہی عورت کی دشمن ہے”۔ بات شاید اتنی سادہ نہیں ہے، لیکن اس بات سے انکار بھی ممکن نہیں کہ گھریلو سطح پر یہ کھینچ تان اور منفی رویے کئی زندگیوں کا سکون چھین لیتے ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ جب تک رشتوں میں ایک دوسرے کا احساس اور برداشت نہ ہو، کوئی بھی تعلق زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اگر آپ کسی رشتے کو خوش اسلوبی سے نبھا نہیں سکتے، تو کم از کم دوسروں کا جینا حرام کرنے کا حق بھی کسی کے پاس نہیں ہونا چاہیے۔ حسد، جلن اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی یہ دوڑ آخر میں صرف اور صرف خاندانی سکون کو برباد کرتی ہے۔
کسی کی پیٹھ پیچھے باتیں بنانا، بلاوجہ کی الزام تراشی، دوسروں کی زندگی میں جھانکنا اور افواہیں پھیلانا—یہ وہ خاموش زہر ہے جو ہنستے کھیلتے گھروں کو دوزخ بنا دیتا ہے۔ جب گھر کی ایک عورت دوسری کے خلاف یہ رویہ اپناتی ہے، تو بات صرف ان دونوں تک نہیں رہتی۔ اس کی لپیٹ میں مرد بھی آ جاتے ہیں۔ اکثر مردوں کے دل میں اپنی بہن، ماں یا بیوی کے لیے جو کھٹاس پیدا ہوتی ہے، اس کی شروعات انہی چھوٹی چھوٹی باتوں اور کان بھرنے سے ہوتی ہے۔
البتہ ہر جگہ معاملہ ایسا ہی ہو، یہ کہنا غلط ہوگا۔ سب عورتیں ایسی نہیں ہوتیں اور نہ ہی ہر مسئلے کی ذمہ دار صرف عورت ہوتی ہے۔ تربیت کی کمی، بات نہ سمجھنے کی ضدی عادت اور باہمی بات چیت کا نہ ہونا بھی اس بگاڑ کی بڑی وجہ ہے۔ جب تک ہم بیٹھ کر ٹھنڈے دل سے ایک دوسرے کی بات نہیں سنیں گے، مسئلے یوں ہی برقرار رہیں گے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم رشتوں کو تماشا بنانے کے بجائے ان کی قدر کریں۔ اگر عورتیں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے کے بجائے ایک دوسرے کا سہارا بن جائیں، تو آدھے سے زیادہ مسائل خود ہی ختم ہو جائیں گے۔ غیبت اور کردار کشی کا چسکہ چھوڑ کر جب ہم ایک دوسرے کا احترام کرنا سیکھیں گے، تبھی ہمارے گھروں میں سچا امن آ سکے گا۔

50% LikesVS
50% Dislikes

عورت ہی عورت کی دشمن؟ – رشتے، فریب اور معاشرتی رویے. بتول فاطمہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں