محبوب کے اعضائے رئیسہ: عاشق کی میڈیکل رپورٹ . یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
طب میں “اعضائے رئیسہ” کی اصطلاح سنتے ہی آدمی سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ دل، دماغ اور جگر جیسے اعضاء کا ذکر ہو تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ابھی کوئی ڈاکٹر سفید کوٹ پہن کر آئے گا اور کہے گا: “مریض کی حالت نازک ہے” لیکن اردو شاعری میں یہی اصطلاح ذرا مختلف انداز اختیار کر لیتی ہے۔ یہاں “اعضائے رئیسہ” وہ نہیں جن کے بند ہونے سے انسان مر جائے بلکہ وہ ہیں جن کے جلوے سے عاشق جیتا اور جن کے فراق میں مرتا ہے۔ گویا طب میں زندگی “اعضائے رئیسہ” کی محتاج ہے اور شاعری میں اعضائے رئیسہ زندگی کو مصیبت میں ڈالنے کے لیے کافی ہیں۔
سب سے پہلے محبوب کی “آنکھیں” ہیں۔ شاعری نے آنکھوں کو اتنی اہمیت دے رکھی ہے کہ لگتا ہے انسان کے باقی تمام اعضاء محض معاون عملہ ہیں۔ محبوب نے ایک نظر کیا ڈالی، عاشق کا بلڈ پریشر بڑھ گیا، دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اور دماغ نے فوری طور پر استعفیٰ دے دیا۔ شاعر فرماتا ہے کہ آنکھیں تیر چلاتی ہیں، خنجر چلاتی ہیں، قتل کرتی ہیں اور کبھی کبھی صرف ایک نظر سے پوری غزل لکھوا دیتی ہیں۔ حیرت ہے کہ اتنے خطرناک ہتھیار لے کر محبوب بازار میں آزادانہ گھومتا ہے اور حکومت نے ابھی تک کوئی لائسنس بھی جاری نہیں کیا۔
پھر آتا ہے “دل” جو محبت کی دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم عضو ہے۔ طب کہتی ہے دل خون پمپ کرتا ہے مگر شاعری کہتی ہے دل محبوب کے نام پر دھڑکتا ہے، ٹوٹتا ہے، جلتا ہے، بہلتا ہے، مچلتا ہے اور کبھی کبھی “ہاتھ سے نکل” بھی جاتا ہے۔ عاشق ہر مسئلے کا ذمہ دار دل کو قرار دیتا ہے۔ امتحان میں فیل ہو جائے تو دل پریشان، محبوب جواب نہ دے تو دل اداس، محبوب کسی اور سے بات کر لے تو دل ٹوٹا ہوا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ عاشق کا دل عضو کم اور محکمۂ شکایات زیادہ ہے۔
محبوب کی “زلفیں” بھی اعضائے رئیسہ کی فہرست میں خاص مقام رکھتی ہیں۔ شاعر نے زلفوں کو زنجیر، رات، بادل، سانپ اور جانے کیا کیا بنا دیا ہے۔ عاشق کا دعویٰ ہے کہ وہ زلفوں کے پیچ و خم میں گرفتار ہے۔ اب اگر آج کے دور میں کوئی عاشق واقعی زلفوں میں پھنس جائے تو غالب امکان ہے کہ وہ پہلے موبائل نکال کر سیلفی بنائے گا، پھر دوستوں کو بھیجے گا اور آخر میں بالوں کے برانڈ کا نام پوچھے گا۔ البتہ کلاسیکی عاشق اتنا سادہ تھا کہ زلفوں کے ایک پیچ کو بھی فلسفۂ حیات سمجھ لیتا تھا۔
“لبوں” کا معاملہ بھی کچھ کم دلچسپ نہیں۔ محبوب کے لب شاعری میں گلاب کی پنکھڑی، شہد، شراب اور نہ جانے کتنی اشیائے خوردنی و غیر خوردنی سے تشبیہ پاتے ہیں۔ عاشق کو محبوب کے لبوں سے زیادہ اس بات کی فکر رہتی ہے کہ وہ لب کیا کہہ رہے ہیں۔ محبوب صرف اتنا کہہ دے، “آپ یہاں؟” تو عاشق اگلے چھ ماہ اس جملے کے ممکنہ معانی پر غور کرتا رہتا ہے۔ اگر یہی جملہ موبائل پر “آپ یہاں؟” کی صورت میں آ جائے تو عاشق اس کا اسکرین شاٹ لے کر تین دوستوں، دو کزنوں اور ایک خود ساختہ ماہرِ محبت سے مشورہ کرے گا۔
“رخسار” بھی محبوب کے اعضائے رئیسہ میں شامل ہیں اور شاعر نے ان کے ساتھ بھی انصاف نہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی انصاف کیا ہے۔ کبھی رخسار کو گلاب کہا، کبھی شفق، کبھی چاند، کبھی پھول۔ یوں لگتا ہے کہ محبوب کا چہرہ قدرتی مناظر کا مکمل البم ہے۔ عاشق ایک رخسار دیکھتا ہے تو اسے گلاب نظر آتا ہے، دوسرا دیکھتا ہے تو شفق، اور اگر دونوں دیکھنے کے بعد بھی ہوش قائم رہے تو چاند یاد آ جاتا ہے۔ آج کا عاشق البتہ ان تشبیہات سے ایک قدم آگے ہے، وہ رخسار کو “فلٹر کے بغیر بھی خوبصورت” قرار دے کر اپنی محبت کو جدید ثابت کر دیتا ہے۔
مزے کی بات یہ ہے کہ محبوب کے اعضائے رئیسہ کی یہ فہرست کبھی مکمل نہیں ہوتی۔ شاعر جس عضو کو دیکھتا ہے، وہی رئیس قرار پاتا ہے۔ کبھی ابرو حکومت کرنے لگتے ہیں، کبھی پلکیں پردہ ڈال دیتی ہیں، کبھی گردن صراحی بن جاتی ہے اور کبھی چال قیامت۔ اگر شاعری کے تمام تشبیہاتی مقدمات کو عدالت میں پیش کیا جائے تو غالباً محبوب کے جسم کا کوئی عضو ایسا نہیں بچے گا جس پر کم از کم ایک صدی کے شعرا نے کوئی نہ کوئی الزام، تعریف یا تشبیہ عائد نہ کی ہو۔
اصل فرق شاید یہی ہے کہ طب میں اعضائے رئیسہ کی خرابی ڈاکٹر کے لیے پریشانی ہے جبکہ شاعری میں محبوب کے اعضائے رئیسہ کی خوبصورتی شاعر کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔ ایک شاعر نے آنکھوں پر غزل کہی، دوسرے نے زلفوں پر قصیدہ لکھا، تیسرے نے رخسار کو موضوع بنایا اور چوتھے نے سب کو ملا کر دیوان تیار کر دیا۔ یوں محبوب کے اعضائے رئیسہ نے صرف عاشق کی زندگی نہیں چلائی بلکہ اردو ادب کی صنعت بھی خوب چلائی۔
بلآخرکار یہ ماننا ہی پڑے گا کہ محبوب کے اعضائے رئیسہ دراصل وہ اعضاء ہیں جنہیں دیکھ کر عاشق کا دل طبی اصولوں کے خلاف دھڑکنے لگتا ہے، دماغ طبی مشوروں کے خلاف سوچنے لگتا ہے اور جگر شاعری کے مطابق “مضبوط” ہو جاتا ہے۔ طب کہتی ہے کہ دل، دماغ اور جگر سنبھالو تو زندگی سلامت رہے گی، شاعری کہتی ہے کہ محبوب کی آنکھ، زلف، لب اور رخسار سنبھال لو تو محبت سلامت رہے گی۔ مسئلہ صرف یہ ہے کہ طب کے ماہر علاج بتا دیتے ہیں، شاعری کے ماہر صرف مرض کو خوبصورت بنا کر پیش کرتے ہیں۔ اور عاشق بیچارہ ہر دور میں یہی سمجھتا رہتا ہے کہ اس کی بیماری کا علاج اگلی ملاقات میں ضرور ہو جائے گا۔
واقعہ، خبر اور رپورٹنگ: صحافت کے تین بنیادی ستون. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
بستے کی شکایت. آمینہ یونس ،بلتستانی
تخلیق کار انٹرنیشنل. 352 پروگرامز کی تاریخی کارکردگی – 1 سال 9 ماہ کے منفرد ادبی سفر کی شاندار روداد




