منصوبوں میں فردا کے بدل جائے تو اچّھا. ماضی کی کسک دل سے نکل جائے تو اچّھا . نقد ونظر بر غزل۔یاسمین اختر طوبیٰ ریسرچ اسکالر گوجرہ، پاکستان
غزل
✍️کاملؔ جنیٹوی ضلع سنبھل (انڈیا)
منصوبوں میں فردا کے بدل جائے تو اچّھا
ماضی کی کسک دل سے نکل جائے تو اچّھا
اچّھی نہیں لگتی ہے مجھے طنز کی بارش
لہجہ ترا اے دوست سنبھل جائے تو اچّھا
حق حق ہے کسی نہ مٹا ہے، نہ مٹے گا
مصرع مرا باطل کو یہ کَھل جائے تو اچّھا
پھنکار میں جس کی ہے بھرا زہرِ تعصّب
اس سانپ کا پھن اب بھی کچل جائے تو اچّھا
الفاظ کا لشکر جو سرِ نوکِ قلم ہے
وہ پیکرِ اشعار میں ڈھل جائے تو اچّھا
رکھتا ہے تجھے دور حقیقت سے جو اکثر.
یہ قصرِ تصنّع ترا جل جائے تو اچّھا
جلتا ہے جو بے آگ مرے نام سے کاملؔ
اس تک بھی اگر میری غزل جائے تو اچّھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ غزل محض جذبات کی ترجمانی نہیں بلکہ فکر، تجربے، احتجاج اور اصلاحِ احوال کا ایک خوب صورت شعری امتزاج ہے۔ کاملؔ جنیٹوی نے نہایت سادہ، رواں اور بے تکلف لہجے میں اپنے عہد کے کئی اہم رویّوں کو موضوع بنایا ہے۔ مطلع ہی سے شاعر کی نگاہ مستقبل اور ماضی کے باہمی تعلق پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔ “منصوبوں میں فردا کے بدل جائے تو اچھا” میں بہتر مستقبل کی آرزو ہے، جب کہ “ماضی کی کسک دل سے نکل جائے تو اچھا” میں گزرے ہوئے دکھوں سے نجات کی خواہش۔ یوں غزل کا آغاز ہی ایک ایسی داخلی کیفیت سے ہوتا ہے جس میں امید بھی ہے اور تجربے کی تلخی بھی۔
دوسرے شعر میں شاعر کا لہجہ انسانی تعلقات کی نزاکت کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ “طنز کی بارش” ایک نہایت بلیغ ترکیب ہے جو محض طنزیہ گفتگو نہیں بلکہ مسلسل دل آزاری اور تعلقات میں پیدا ہونے والی تلخی کا پورا منظر سامنے لے آتی ہے۔ دوست سے “لہجہ سنبھالنے” کی درخواست میں شکایت کے ساتھ محبت بھی موجود ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں شاعر کا احتجاج دشمنی میں تبدیل نہیں ہوتا بلکہ اصلاح اور خیرخواہی کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ اس شعر کی تاثیر اسی فطری پن میں ہے کہ شاعر رشتہ توڑنے کے بجائے لہجہ بدلنے کی آرزو کرتا ہے۔
“حق حق ہے” والے شعر میں غزل کا فکری دائرہ مزید وسیع ہو جاتا ہے۔ شاعر کے نزدیک حق کی صداقت کسی فرد کے ماننے یا نہ ماننے کی محتاج نہیں، اسی لیے وہ اپنے مصرعے کے ذریعے باطل کے ایوانوں کو بے چین دیکھنا چاہتا ہے۔ یہاں شعر کہنا محض جمالیاتی سرگرمی نہیں رہتا بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری کا احساس بن جاتا ہے۔ اسی فکری تسلسل میں تعصب کے زہر سے بھرے سانپ کا استعارہ بھی نہایت مؤثر ہے۔ “پھن” اور “زہر” کی علامتیں نفرت، تعصب اور تنگ نظری کی تباہ کاری کو مجسم کر دیتی ہیں، جبکہ “کچل جائے” کی خواہش اس سماجی رویے کے خاتمے کی شدید آرزو کا اظہار ہے۔
غزل کا ایک خوب صورت پہلو یہ بھی ہے کہ شاعر نے قلم اور لفظ کو محض اظہار کا وسیلہ نہیں سمجھا بلکہ انہیں ایک زندہ قوت کے طور پر پیش کیا ہے۔ “الفاظ کا لشکر” اور “نوکِ قلم”جیسی تراکیب شعر و سخن کی قوتِ تاثیر کو نمایاں کرتی ہیں۔ شاعر چاہتا ہے کہ منتشر الفاظ محض الفاظ نہ رہیں بلکہ “پیکرِ اشعار” میں ڈھل کر ایک بامعنی اور مؤثر تخلیقی وجود اختیار کریں۔ اس شعر میں شاعر کا تخلیقی شعور بھی نمایاں ہے اور فنِ شاعری سے اس کی وابستگی بھی۔
“قصرِ تصنّع” کی ترکیب غزل کے فکری مزاج کو ایک اور جہت عطا کرتی ہے۔ بناوٹ، دکھاوے اور مصنوعی طرزِ زندگی کو ایک ایسے محل سے تشبیہ دینا جو حقیقت سے دور رکھتا ہے، شاعر کی نظرِ نقد کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ “جل جائے تو اچھا” میں محض نفی نہیں بلکہ ایک ایسی تطہیر کی خواہش پوشیدہ ہے جس کے بعد انسان حقیقت سے براہِ راست روبرو ہو سکے۔ یہ شعر عصرِ حاضر کے ان رویوں پر بھی خاموش سوال اٹھاتا ہے جہاں ظاہری نمائش کبھی کبھی اصل حقیقت پر پردہ ڈال دیتی ہے۔
مقطع میں شاعر نے اپنے تخلص “کاملؔ”کو نہایت فطری انداز میں برتا ہے۔ “جو بے آگ مرے نام سے کاملؔ جلتا ہے” میں ذاتی تجربے، طنز اور شعری خود آگہی تینوں عناصر یکجا ہو گئے ہیں۔ آخری مصرع “اس تک بھی اگر میری غزل جائے تو اچھا” پوری غزل کے مقصد کو سمیٹ لیتا ہے۔ شاعر اپنے مخالف یا ناقد تک بھی اپنی آواز پہنچانا چاہتا ہے، گویا غزل اس کے لیے صرف ہم خیالوں سے مکالمہ نہیں بلکہ اختلاف رکھنے والوں تک رسائی کا وسیلہ بھی ہے۔ یہی بات اس شعر کو محض ذاتی شکوے سے بلند کر کے ایک وسیع تر ادبی مفہوم عطا کرتی ہے۔
فنی اعتبار سے غزل کی زبان سادہ، رواں اور براہِ راست ہے، جب کہ “طنز کی بارش”، “زہرِ تعصب”، “الفاظ کا لشکر” اور “قصرِ تصنّع”جیسی تراکیب کلام میں تصویریت اور معنوی گہرائی پیدا کرتی ہیں۔ ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں ’’تو اچھا‘‘ کی تکرار ایک طرف ردیف کی موسیقیت کو برقرار رکھتی ہے اور دوسری طرف شاعر کی آرزو، دعا اور اصلاحی جذبے کو مسلسل نمایاں کرتی چلی جاتی ہے۔ یوں یہ غزل داخلی کرب، سماجی شعور، حق پسندی، تعصب سے نفرت، تصنع سے بیزاری اور شعر کی تاثیر پر یقین—ان سب کو ایک مربوط فکری دھارے میں سمو دیتی ہے۔
کاملؔ جنیٹوی کی اس غزل کی اصل خوبی یہ ہے کہ اس میں احتجاج کے باوجود شائستگی ہے، شکوے کے باوجود محبت ہے اور اصلاح کی خواہش کے باوجود شعری لطافت برقرار ہے۔ شاعر نے اپنے عہد کے تلخ تجربات کو محض نوحہ نہیں بنایا بلکہ انہیں امید اور تبدیلی کی آرزو سے جوڑ دیا ہے۔ یہی وصف اس غزل کو ایک سنجیدہ، باوقار اور دل سے نکلنے والی شعری کاوش بناتا ہے۔ کاملؔ صاحب کو ایسی بامقصد، فکر انگیز اور جذبۂ اصلاح سے معمور غزل پر دلی خراجِ تحسین پیش کرنا یقیناً بجا ہے، ان کے قلم کی یہ صدا اہلِ ذوق کے دل تک پہنچے اور دیر تک اپنی معنوی بازگشت قائم رکھے۔




