قلم کی آواز طہ علی تابش ،بلتستانی . تبصرہ : آمینہ یونس، بلتستانی
گلگت بلتستان کے چند لکھاریوں سے میرا تعارف انٹرنیشنل رائٹرز ایسوسی ایشن کے پلیٹ فارم پر ہوا تھا۔ ان میں سے ایک طہ علی تابش بھی ہیں۔ ان سے کبھی کبھار سلام دعا اور تحریر کے متعلق تبادلۂ خیال ہوتا رہتا ہے۔ انہی کے کہنے پر میں نے اپنا واٹس ایپ چینل بھی بنایا تھا۔ بقولِ طہ علی تابش، چینل کا یہ فائدہ ہے کہ اگر کبھی موبائل سے ڈیٹا ڈیلیٹ ہو جائے تو تحریریں کسی نہ کسی کے پاس محفوظ رہتی ہیں اور بوقتِ ضرورت دوبارہ حاصل کی جا سکتی ہیں۔ ان کی یہ بات ابھی کچھ دن پہلے درست ثابت ہوئی، جب میرا موبائل دو بار ری سیٹ ہوا اور میری تمام تحریریں ڈیلیٹ ہو گئیں۔ تاہم چینل کی وجہ سے اطمینان رہا کہ تحریریں کہیں نہ کہیں محفوظ ہیں۔ یہ ذکر صرف اس لیے کہ ان کی ایک بات کا عملی فائدہ مجھے خود محسوس ہوا، ورنہ اصل موضوع ان کی تحریریں ہیں۔ طہ علی تابش کی تحریریں پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ ان کا قلم محض الفاظ ترتیب دینے کے لیے نہیں اٹھتا بلکہ اپنے اردگرد کے معاشرے کو دیکھتا، محسوس کرتا اور پھر اس کے مسائل کو قاری کے سامنے رکھتا ہے۔ ان کے موضوعات میں زندگی کے وہ پہلو نمایاں ہیں جنہیں ہم روزمرہ کی مصروفیات میں دیکھ کر بھی نظر انداز کر دیتے ہیں۔ آر ایچ کیو ہسپتال کے حوالے سے لکھتے ہوئے وہ عوام الناس سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ ہسپتال جاتے ہیں تو دل اداس ہوتا ہے، کیونکہ اضلاع کا یہ اکلوتا مرکزی ہسپتال آج بھی کئی بنیادی سہولیات اور شعبہ جات سے محروم ہے۔ وہ صرف مسئلے کی نشاندہی نہیں کرتے بلکہ ایک ایسے شخص کا ذکر بھی کرتے ہیں جو اپنی بیٹی کے علاج کے سلسلے میں ایک ماہ سے ہسپتال کی چھت پر راتیں گزار رہا ہے۔ ان کے الفاظ میں اس شخص کی بے بسی اور اس مسئلے کی سنگینی دونوں محسوس ہوتی ہیں، پھر وہ حکومتِ وقت سے ہسپتال میں مسافر خانہ بنانے کی التماس کرتے ہیں تاکہ دور دراز سے آنے والے مریضوں کے ساتھ موجود افراد کو بھی ٹھہرنے کی سہولت مل سکے۔ یہی ان کے قلم کی ایک نمایاں خوبی ہے کہ وہ مسئلہ بیان کرکے خاموش نہیں ہوتے بلکہ اس کے ممکنہ حل کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ اسی طرح معاشرے کی فضول خرچی پر ان کا انداز طنزیہ ہو جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ ہماری فضول خرچیوں کا ذکر بالکل نہیں کریں گے، پھر شادی بیاہ کے اخراجات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ایک شادی کے لیے پوری پوری زمینیں بیچ دی جاتی ہیں اور آنے والی نسلوں کو اپنے ہی گھر میں کرایہ دار بننے پر مجبور کر دیا جاتا ہے۔ چند جملوں میں وہ ایک ایسی معاشرتی حقیقت سامنے لے آتے ہیں جس کے اثرات صرف ایک خاندان تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی نسلوں تک پہنچتے ہیں۔ بچوں اور بڑی عمر کے افراد کی نامناسب دوستی کے موضوع پر ان کا لہجہ مزید سخت ہو جاتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں یہ ایک نیا فیشن چل نکلا ہے کہ بڑی عمر کے لوگ چھوٹے بچوں سے دوستیاں کرتے ہیں اور چالیس سالہ مرد پندرہ سال کے بچے کو ’جانی‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ اس کے بعد وہ والدین سے سوال کرتے ہیں کہ وہ کہاں سوئے ہوئے ہیں۔ یہاں ان کے قلم میں محض غصہ نہیں بلکہ بچوں کے مستقبل کے بارے میں تشویش نمایاں ہوتی ہے۔ وہ اس کے ممکنہ نتائج کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں کہ کتنے ذہین بچے ایسی دوستیوں کی وجہ سے بے راہ روی کا شکار ہو چکے ہیں اور کتنے اپنے مستقبل کو تباہ کر بیٹھے ہیں۔ ان تحریروں کو پڑھتے ہوئے میرے ذہن میں ان کے قلم کی ایک تصویر ابھرتی ہے۔ طہ علی تابش کا قلم ایک ایسے درخت کی مانند دکھائی دیتا ہے جس کی شاخیں دور تک پھیلی ہوئی ہیں، جو پھل کے ساتھ ساتھ سایہ بھی دیتا ہے۔ اس کی چھاؤں میں جب کوئی تھکا ہارا انسان سستانے بیٹھتا ہے تو ایک گوناگوں سکون محسوس کرتا ہے، اور اسی سکون میں وہ اپنے لیے ایک مثبت راہ کا انتخاب کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے قارئین کی تعداد ہزاروں میں ہے اور ان کی تحریریں پڑھنے والے اپنے اردگرد کے مسائل پر غور کرنے اور اپنے رویوں کا جائزہ لینے کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ان کا قلم کبھی شیریں، کبھی تلخ اور کبھی طنزیہ ہو جاتا ہے، مگر اس کے پیچھے اصلاح اور بہتری کی خواہش نمایاں رہتی ہے۔ ان کی تحریروں میں والدین کا احترام، ثقافت و تہذیب کی حفاظت، نئی نسل کی تربیت، معاشرتی برائیوں کی نشاندہی، فضول خرچی کے خلاف شعور اور عوامی مسائل کے لیے آواز اٹھانے جیسے موضوعات بار بار سامنے آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا قلم محض کاغذ پر لکھی ہوئی سطریں نہیں رہتا بلکہ معاشرے کے مختلف طبقات سے مکالمہ کرتا محسوس ہوتا ہے۔ ایک قلم کار کی اصل طاقت شاید یہی ہے کہ وہ ایسے سوال اٹھائے جن سے معاشرہ آنکھیں چرا رہا ہو اور ایسے موضوعات پر بات کرے جن پر خاموشی اختیار کرنا آسان سمجھا جاتا ہے۔ طہ علی تابش کا قلم اسی سمت میں متحرک دکھائی دیتا ہے۔ دعا ہے کہ ان کا قلم اسی طرح معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتا، نئی نسل کو سوچنے پر مجبور کرتا اور اصلاح و شعور کی روشنی بکھیرتا رہے۔
معلومات کا عالمی دن. سچ، شعور اور ذمہ داری. ڈاکٹر محمد ارشد
والدین کی تربیت کا مقام بچے کی زندگی میں. شبیر حسین کمال
Voice of the Pen




