Society Dying 0

تشدد کے سائے میں مرتا ہوا معاشرہ. نسرین امیرزمان
ہم انسان پیدا کر رہے ہیں یا اپنے ہاتھوں سے درندے؟
کبھی سوچا ہے کہ ہمارے معاشرے کو آخر ہو کیا گیا ہے؟ وہ معاشرہ جہاں کبھی رشتے مرہم ہوا کرتے تھے، آج وہیں رشتے زخم دینے لگے ہیں۔ گھر، مدرسہ، اسکول، سڑک اور بازار، کوئی جگہ ایسی نہیں رہی جہاں انسانی رویوں میں بڑھتی ہوئی سختی ہمیں خوف زدہ نہ کرتی ہو۔ سوال یہ ہے کہ پاکستانی معاشرہ اتنا متشدد پسند کیوں ہوتا جا رہا ہے؟
کبھی بیٹی پیدا ہونے کا جرم کسی عورت کو تشدد کا نشانہ بنا دیتا ہے، کبھی گھریلو اختلافات میں عورت مرد پر ہاتھ اٹھاتی ہے، کبھی میاں بیوی کے درمیان حقوق اور ذمہ داریوں کی کشمکش جسمانی یا ذہنی تشدد تک پہنچ جاتی ہے۔ کہیں معصوم بچے جنسی زیادتی کا شکار ہوتے ہیں، کہیں مدرسے یا تعلیمی ادارے میں جسمانی سزا کے نام پر ننھے وجود زخمی کیے جاتے ہیں۔ کہیں بوڑھے والدین اولاد کے ہاتھوں اذیت سہتے ہیں اور کہیں والدین اپنی ہی اولاد کو تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ سب آخر کیا ہے؟ انسان کے اندر سے انسانیت کہاں جا رہی ہے؟
تشدد صرف ہاتھ اٹھانے کا نام نہیں۔ کسی کو مسلسل ذلیل کرنا، دھمکانا، خوف میں مبتلا رکھنا، اس کی عزتِ نفس مجروح کرنا، اس کی مرضی اور بنیادی حقوق پامال کرنا بھی تشدد کی مختلف صورتیں ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے تشدد کو اتنا معمول بنا لیا ہے کہ بعض اوقات ہمیں اس کی سنگینی کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
اس مسئلے کی جڑ میں اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے تربیت کا بحران دکھائی دیتا ہے۔ بچہ صرف کتاب سے نہیں سیکھتا، وہ گھر کے ماحول سے سیکھتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ باپ ماں سے کیسے بات کرتا ہے، ماں اختلاف کے وقت کیا رویہ اختیار کرتی ہے، بڑے چھوٹوں سے کس لہجے میں پیش آتے ہیں۔ پھر وہی رویے اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔
یہاں ایک کڑوی بات کہنا ضروری ہے۔ ہماری مائیں ہمارے معاشرے کی پہلی درس گاہ ہیں۔ اس لیے اگر ماں اپنے بچے کی تربیت، سرگرمیوں، دوستوں، موبائل اور رویوں سے بے خبر ہو جائے تو اس خلا کو کوئی اسکول مکمل طور پر پُر نہیں کر سکتا۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہر خرابی کی ذمہ داری صرف ماؤں پر ہے۔ باپ، ماں، خاندان، تعلیمی ادارہ، ریاست اور پورا معاشرہ سب تربیت کے ذمہ دار ہیں۔ لیکن ماں کا ابتدائی کردار اتنا اہم ہے کہ اسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
کئی گھروں میں بیٹے کے ہاتھ میں طاقت آتے ہی اسے یہ سکھایا جاتا ہے کہ غصہ مردانگی ہے، جواب دینا کمزوری ہے اور عورت کو دبانا اختیار ہے۔ بعض اوقات خاندان کی بڑی خواتین بھی غلط مشوروں یا اشتعال انگیزی کے ذریعے رشتوں میں تلخی بڑھا دیتی ہیں۔ یوں ایک بچہ جو کل شوہر بنے گا، پہلے ہی یہ سیکھ لیتا ہے کہ اختلاف کا جواب مکالمہ نہیں بلکہ طاقت ہے۔
دوسری طرف عورت بھی اس معاشرے کا حصہ ہے۔ عورت کے حقوق کا احترام ضروری ہے، لیکن اسی طرح مرد کے بنیادی انسانی حقوق، عزت اور سلامتی بھی قابلِ احترام ہیں۔ ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ جیسے نعروں کو اگر باہمی احترام، ذمہ داری اور حدودِ اخلاق سے الگ کر کے استعمال کیا جائے تو رشتوں میں کشمکش پیدا ہو سکتی ہے۔ آزادی کا حقیقی حسن اسی وقت قائم رہتا ہے جب اس کے ساتھ ذمہ داری اور دوسرے انسان کے حقوق کا شعور بھی موجود ہو۔
ایک اور تلخ حقیقت ہماری شادی کے مشکل ہوتے ہوئے راستے کی ہے۔ نکاح، جو آسان اور باوقار بندھن ہونا چاہیے، ہم نے اسے نمود و نمائش، بھاری اخراجات، جہیز، مہنگے لباس اور بے شمار رسومات کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ لاکھوں اور کروڑوں روپے خرچ کیے بغیر شادی کو نامکمل سمجھنے کا رجحان نوجوانوں کے لیے ایک غیر ضروری معاشی دباؤ پیدا کرتا ہے۔ اسلام نے نکاح کو آسان بنانے، سادگی اور ذمہ داری کی تعلیم دی، مگر ہم نے اسے معاشرتی مقابلہ بنا دیا۔
نکاح کا مقصد صرف ایک تقریب نہیں بلکہ خاندان کی تشکیل، باہمی ذمہ داری، پاکیزہ زندگی اور نسلِ انسانی کے تسلسل کا باوقار ذریعہ ہے۔ اگر معاشرہ جائز اور ذمہ دار ازدواجی زندگی کو غیر ضروری رکاوٹوں سے مشکل بنائے گا تو ہمیں نوجوان نسل کے مسائل پر بھی سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ تاہم یہ بات بھی واضح ہے کہ جنسی زیادتی کسی بھی صورت میں شادی نہ ہونے کا قابلِ قبول جواز نہیں؛ بچوں اور کمزور افراد کے خلاف جنسی جرم کی ذمہ داری ہمیشہ مجرم پر ہی ہوتی ہے۔
ہمیں اپنے تعلیمی اداروں پر بھی نظر ڈالنی ہوگی۔ ہم بچوں کو انگریزی، ریاضی اور سائنس ضرور پڑھائیں، مگر اگر انہیں احترام، برداشت، خود ضبطی، رضامندی، ذاتی حدود، اختلافِ رائے اور انسانی عزت کا شعور نہیں دیں گے تو ہماری تعلیم ادھوری رہے گی۔ اسکولوں میں باقاعدہ اخلاقیات اور کردار سازی کا وقت ہونا چاہیے، جہاں بچے صرف اچھے نمبر نہیں بلکہ اچھے انسان بننا سیکھیں۔
اور پھر موبائل فون! آج بہت سے والدین اپنے بچوں کی زندگی سے زیادہ اپنی اسکرین میں مصروف ہیں۔ بچے کس سے بات کر رہے ہیں؟ کیا دیکھ رہے ہیں؟ کن لوگوں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں؟ ان کے رویے میں اچانک کیا تبدیلی آئی ہے؟ یہ سوال والدین کو ضرور پوچھنے چاہئیں۔ نگرانی کا مطلب جاسوسی نہیں، محبت کے ساتھ ذمہ دارانہ توجہ ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تشدد اچانک پیدا نہیں ہوتا۔ یہ چھوٹی چھوٹی بے توجہیوں، غلط تربیت، مسلسل غصے، غیر صحت مند خاندانی رویوں، خاموشی، ناانصافی اور اخلاقی تربیت کے فقدان سے آہستہ آہستہ پروان چڑھتا ہے۔
اگر ہم واقعی ایک پُرامن پاکستان چاہتے ہیں تو ہمیں صرف مجرم کو سزا دینے سے آگے بڑھ کر مجرم پیدا ہونے کی وجوہات پر بھی کام کرنا ہوگا۔ گھر کو پہلی درس گاہ، ماں باپ کو پہلی تربیت گاہ اور اسکول کو کردار سازی کا مرکز بنانا ہوگا۔
کیونکہ سوال یہ نہیں کہ ہمارے معاشرے میں تشدد کیوں بڑھ رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسل کے ہاتھ میں کتاب دیں گے، محبت دیں گے، کردار دیں گے یا غصہ، تعصب اور طاقت کا ہتھیار؟
فیصلہ آج ہمیں کرنا ہے، کیونکہ کل کا معاشرہ آج کے گھروں میں پرورش پا رہا ہے۔

Society Dying

50% LikesVS
50% Dislikes

تشدد کے سائے میں مرتا ہوا معاشرہ. نسرین امیرزمان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں