ایک ادبی سفر، ایک نیا پہچان . آمینہ یونس، بلتستانی
27 تا 30 ستمبر 2026ء
کہا جاتا ہے کہ انسان اگر کوشش کرے تو اللہ تعالی خود ہی راستے کھول دیتا ہے۔ جب سے میں نے ادب کی دنیا میں قدم رکھا ہے، ہر موڑ پر کوئی نہ کوئی ایسا رہنما سامنے آ ہی جاتا ہے جو میری انگلی تھام کر لوگوں کے ہجوم میں مجھے ایک الگ پہچان دلانے کا سبب بنتا ہے۔ میں اللہ کی اس مہربانی پر خوشگوار حیرت میں مبتلا ہو کر سوچتی ہوں کہ وہ کس طرح میرے لیے راستے کھولتا جاتا ہے۔ کچھ دن پہلے خواتین تنظیم حسن آباد کی طرف سے AKRSP کی دو روزہ ٹریننگ کے لیے خپلو جانا ہوا، جہاں میرا تعارف AKRSP کے منیجر جناب باقر حاجی صاحب سے ہوا۔ میں نے ان سے ان کا تعارف حاصل کرتے ہوئے اپنے بارے میں بھی بتایا کہ میں رائٹر ہوں۔ میں باقر حاجی صاحب کو فیس بک پر دیکھ چکی تھی، اسی لیے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ شاعر ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ وہ شاعر نہیں بلکہ نثر نگار ہیں۔ یوں ان سے میرا تعارف ایک ادبی حیثیت سے ہوا۔ چند دن بعد ان کا پیغام آیا کہ سکردو میں چار روزہ ادبی ورکشاپ منعقد ہو رہا ہے، آپ بھی آجائیں۔ جب میں سکردو پہنچی تو معلوم ہوا کہ اس ادبی ورکشاپ کا انعقاد AKRSP بلتستان نے کیا ہے اور اس کا مہتمم خود باقر حاجی صاحب ہیں۔ یہ 27 سے 30 ستمبر 2026ء تک جاری رہنے والی بلتستان میں اپنی نوعیت کی پہلا ادبی ورکشاپ تھا۔ اس سے پہلے AKRSP بلتستان میں خواتین کی فلاح اور خود انحصاری کے لیے بہت سے اہم کام کر چکا تھا۔ دستکاری، باغبانی، سبزیاں اگانے کے طریقوں، جام اور اچار بنانے، خوبانی خشک کرنے سے لے کر دور جدید کے تقاضوں کی روشنی میں آئی ٹی سمیت مختلف ہنر سکھا کر ہزاروں خواتین کو ہنرمند بنایا تھا، ان کا مقصد بلتستان کی خواتین ، مقامی پیداوار سے اپنی آمدنی میں اضافہ کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین میں بچت کا رجحان پیدا کرکے انہیں خود انحصاری کی طرف بھی گامزن کیا جا رہا تھا ۔اب AKRSP نے ایک بالکل نیا زاویۂ نظر متعارف کروایا ، تاکہ بلتستان کی وہ خواتین جو ادب کے میدان میں نسبتاً نوآموز ہیں، انہیں بھی آگے آنے کا موقع دیا جائے۔ اس چار روزہ ادبی ورکشاپ میں ادب کی مختلف اصناف کے حوالے سے گفتگو کے لیے بلتستان کے ادبی حلقوں کی پانچ معروف اور قومی سطح کی شخصیات کی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔ ورکشاپ کے پہلے دن بلتستان کے معروف شاعر و ادیب محترم ذیشان مہدی صاحب کا سیشن تھا۔ ان کا موضوع ’’شعری ادب اور سماجی بدلاؤ‘‘ تھا۔ انہوں نے شعر کی مختلف اصناف کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ شاعری کے بارے میں یہ تصور درست نہیں کہ اسے صرف عشق و معاشقے کے اظہار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، بلکہ شاعری معاشرتی اور معاشی مسائل کو اجاگر کرنے کا بھی مؤثر ذریعہ ہے۔ انہوں نے پاکستان کے قیام کے حوالے سے شاعر مشرق کے خواب کا حوالہ دیتے ہوئے شاعری کی سماجی قوت کو واضح کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے شاعری کے مختلف طریقوں کو مثالوں کے ذریعے سمجھایا اور نئے لکھاریوں میں اس جذبے کو اجاگر کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ بلتستان کی خواتین بھی لکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں، اپنے مسائل، جذبات اور اندر کے احساسات کو زبان دے سکتی ہیں اور اپنی آواز کو اپنے حق میں مؤثر انداز میں استعمال کر سکتی ہیں، کیونکہ بلتستان کی خواتین کسی سے کم نہیں ہیں۔ ورکشاپ کا دوسرا دن صحافت کے حوالے سے تھا، جس میں بلتستان کی معروف ومعتبر اور قومی ایوارڈ یافتہ شخصیت جناب قاسم نسیم صاحب نے گفتگو فرمائی۔ انہوں نے صحافت کے مختلف پہلوؤں، اس کی افادیت اور ضرورت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ صحافت کو کس طرح مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے الیکٹرانک و سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا کے فرق کے بارے میں بھی آگاہ کیا اور سمجھایا کہ کسی واقعے کی ویڈیو بنا کر اسے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے میں ایک عام شخص اور صحافی کے طریقہ کار میں فرق کو واضح کیا اور اس کے ممکنہ فوائد و نقصانات سے آگاہ کیا گیا۔ انہوں نے صحافت میں تحقیق کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خواتین بھی اس میدان میں بخوبی کام کر سکتی ہیں۔ اگر آپ کے اندر جستجو اور شوق ہے تو آپ یہ کام شروع کریں، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ اس موقع پر اے کے آر ایس پی کے انچارج راحت علی آر پی ایم نے بھی خطاب کیا اور ورکشاپ کے مقاصد پر تفصیل سے بات چیت کی۔
ورکشاپ کا تیسرا دن تاریخ کے حوالے سے تھا، جس میں بلتستان کے معروف مورخ، درجنوں کتب کے مصنف و ایوارڈ یافتہ شخصیت جناب حسن حسرت صاحب نے گفتگو فرمائی۔ انہوں نے تاریخ کی افادیت اور کسی قوم کے لیے اپنی تاریخ سے جڑے رہنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے تاریخ کے مختلف ادوار، اہم کتابوں اور تاریخ نویسی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بلتستان کے ابتدائی تاریخ نویسوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے مولوی حشمت اللہ خان لکھنؤی کا بھی ذکر کیا، جن کی کتاب ’’تاریخ جموں‘‘ 1937ء میں شائع ہوئی تھی۔ ورکشاپ کا چوتھا دن افسانے اور بلتی ادب کے حوالے سے تھا، جس میں بلتستان کے معروف افسانہ نگار محترم اشرف حسین اشرف صاحب اور محترم افضل روش صاحب نے گفتگو فرمائی۔ اشرف حسین اشرف صاحب نے افسانے کی مختلف تکنیک کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اپنے اردگرد ہونے والی ناانصافیوں اور برائیوں کو افسانے کے ذریعے سامنے لایا جا سکتا ہے اور اپنے ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب مرد ان موضوعات پر لکھ رہے ہیں تو خواتین کیوں نہیں لکھ سکتیں، حالانکہ خواتین کے لیے موضوعات کی کوئی کمی نہیں۔ انہوں نے افسانے کے پلاٹ، کردار، مکالمے، منظر نگاری اور انجام کے حوالے سے بھی تفصیلی رہنمائی فرمائی۔ اسی روز محترم افضل روش صاحب نے بلتی زبان کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بلتی زبان میں اپنا لکھا ہوا افسانہ سنایا اور بلتی زبان میں لکھے گئے اپنے ناول کے حوالے سے بھی گفتگو کی، جو بلتی زبان کے ابتدائی ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس چار روزہ ادبی ورکشاپ کا بنیادی مقصد AKRSP بلتستان کی خواتین میں لکھنے کی تحریک بیدار کرنا اور انہیں اپنی آواز اپنے لیے استعمال کرنے کی طرف ایک مثبت قدم قرار دیا ۔ ورکشاپ کے اختتام پر شرکا میں AKRSP کی جانب سے سرٹیفکیٹس تقسیم کیے گئے جبکہ معزز اساتذہ کی خدمات کے اعتراف میں انہیں شیلڈز سے بھی نوازا گیا۔ میرے لیے یہ ادبی ورکشاپ ایک نیا دروازہ تھا جو میرے لیے کھولا گیا۔ اس نے مجھے بلتستان کی ادبی شخصیات سے ملانے کے ساتھ ساتھ بلتستان کے ادبی دائرے میں شامل ہونے کا موقع بھی دیا۔ اس خوبصورت موقع اور میری حوصلہ افزائی کے لیے میں باقر حاجی صاحب، آر پی ایم راحت علی اور اے کے آر ایس پی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتی ہوں، جنہوں نے میرے لیے یہ نیا دروازے کھول دیا اور میرے ادبی سفر کو ایک نئی سمت دی۔ میں ایک بار پھر اس بات پر غور کرتی رہی کہ جب انسان اخلاص کے ساتھ اپنے راستے پر چلتا ہے تو اللہ اس کے لیے ایسے لوگوں کو ذریعہ بنا دیتا ہے جو اس کے سفر کو نہ صرف آسان کرتے ہیں بلکہ اسے نئی راہیں بھی دکھاتے ہیں۔
امید ہے Akrsp مستقبل میں بھی اس اہم شعبے کی بہتری کے لئے مزید اقدامات اٹھائیں گے۔
ہم اتنے لاپروا کیوں؟ محمد عابد رشید
تشدد کے سائے میں مرتا ہوا معاشرہ. نسرین امیرزمان
Literary Journey




