دارالخلافہ، دارالسلطنت اور دارالحکومت۔ لفظوں کے پیچھے چھپی تاریخ۔ سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی، یہ اپنے اندر تاریخ، تہذیب، سیاست اور معاشرت کے کئی زمانے سمیٹے ہوئے ہوتی ہے۔ بعض الفاظ بظاہر ایک ہی مفہوم ادا کرتے دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے پس منظر میں جھانکیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کے معنی اور استعمال میں خاصا فرق موجود ہے۔ “دارالخلافہ”، “دارالسلطنت” اور “دارالحکومت” بھی ایسی ہی اصطلاحات ہیں جنہیں آج کل عموماً ایک دوسرے کے مترادف سمجھ لیا جاتا ہے حالاں کہ تاریخی اور سیاسی تناظر میں تینوں کی اپنی الگ شناخت ہے۔
“دارالخلافہ” سے مراد وہ شہر یا مقام ہے جہاں خلیفہ کی حکومت کا مرکزی نظام قائم ہو۔ خلافت کا تصور محض ایک علاقائی بادشاہت تک محدود نہیں تھا بلکہ اسلامی سیاسی نظام میں اسے وسیع تر دینی اور سیاسی مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔ اسی لیے دارالخلافہ کی اصطلاح میں اقتدار کے ساتھ مذہبی معنویت بھی شامل رہی۔ مدینہ منورہ، دمشق اور بغداد جیسے شہر مختلف ادوار میں خلافت کے مراکز رہے اور اپنے اپنے زمانے میں اسلامی دنیا کی سیاسی سمت متعین کرتے رہے۔ بعد کے دور میں عثمانی سلطنت کا مرکز استنبول بھی خلافت کے حوالے سے ایک خاص تاریخی مقام رکھتا ہے۔
اس کے مقابلے میں “دارالسلطنت” کی اصطلاح کا تعلق بنیادی طور پر سلطنت اور سلطان کے اقتدار سے ہے۔ جہاں کسی سلطان یا بادشاہ کی حکومت کا مرکزی دربار اور انتظامی نظام قائم ہو، اسے دارالسلطنت کہا جا سکتا تھا۔ برصغیر کی سیاسی تاریخ میں دہلی، آگرہ اور لاہور مختلف ادوار میں شاہی اقتدار کے مراکز رہے۔ ان شہروں کی حیثیت صرف ایک انتظامی مرکز کی نہیں تھی بلکہ یہاں شاہی دربار، سیاسی فیصلے، فوجی معاملات اور سلطنت کے اہم امور انجام پاتے تھے۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ “دارالخلافہ” اور “دارالسلطنت” کو محض اقتدار کی درجہ بندی کے طور پر دیکھنا ہمیشہ درست نہیں۔ ہر تاریخی دور میں خلافت اور سلطنت کے تعلق کی نوعیت ایک جیسی نہیں رہی۔ بعض سلاطین اپنی سیاسی خودمختاری رکھتے تھے، بعض نے خلیفہ کی مذہبی یا علامتی حیثیت کو تسلیم کیا اور بعض ادوار میں خلافت کا تصور خود سیاسی حالات کے زیرِ اثر مختلف صورتیں اختیار کرتا رہا۔ اس لیے ان اصطلاحات کو سمجھنے کے لیے اس دور کے مخصوص سیاسی نظام کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔
“دارالحکومت” نسبتاً جدید اور وسیع تر اصطلاح ہے۔ اس میں کسی مخصوص مذہبی یا شاہی نظام کی شرط شامل نہیں۔ جدید ریاست میں وہ شہر جہاں مرکزی حکومت کے اہم ادارے، وزارتیں اور ریاستی انتظام کا مرکز قائم ہو، دارالحکومت کہلاتا ہے۔ اسلام آباد پاکستان کا دارالحکومت ہے، دوحہ قطر کا اور واشنگٹن امریکہ کا۔ ان شہروں کی شناخت کسی خلیفہ یا سلطان کے دربار سے نہیں بلکہ جدید ریاستی نظم و نسق کے مرکزی مقام کی حیثیت سے ہوتی ہے۔
یوں ایک ہی “مرکزی شہر” کے تصور نے تاریخ کے مختلف ادوار میں مختلف نام اختیار کیے۔ کہیں خلیفہ کا مرکز تھا تو “دارالخلافہ” وجود میں آیا، کہیں سلطان اور شاہی دربار کا غلبہ تھا تو اسے “دارالسلطنت”کہا گیا، اور جدید قومی ریاست نے اسی تصور کو زیادہ غیر جانب دار انتظامی اصطلاح، یعنی “دارالحکومت”، میں ڈھال دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ آج ہم روزمرہ گفتگو میں ان تینوں الفاظ کو کئی مرتبہ ایک ہی معنی میں استعمال کر لیتے ہیں مگر تاریخ کے اوراق پلٹیں تو ہر لفظ اپنے عہد کی سیاسی ساخت، اقتدار کی نوعیت اور ریاستی تصور کی ایک الگ تصویر سامنے لاتا ہے۔ یہی زبان کی خوب صورتی ہے کہ ایک لفظ صرف ایک شہر کا نام نہیں بتاتا، بلکہ اس شہر کے پیچھے موجود پورے سیاسی اور تہذیبی نظام کی کہانی بھی سنا دیتا ہے۔
اس لیے الفاظ کو محض مترادفات سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے ان کے تاریخی پس منظر پر بھی نظر رکھنی چاہیے۔ “دارالخلافہ” میں خلافت کی سیاسی و مذہبی روایت کی بازگشت سنائی دیتی ہے، “دارالسلطنت” شاہی اقتدار اور دربار کی یاد دلاتا ہے، جب کہ “دارالحکومت”جدید ریاست اور اس کے انتظامی ڈھانچے کی علامت ہے۔ تینوں کا بنیادی تصور مرکزِ اقتدار ہی ہے، مگر اس مرکز کی نوعیت، زمانہ اور سیاسی معنویت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔
احساس کا زوال. کالم نگار، لیکچرار عزت علی پارا چنار
عنوان، کاش ، میری زبان پر Edit بٹن ہوتا. نسرین امیرزمان
Dar-ul-Saltanat




