Edit Button on My Tongue 0

عنوان، کاش ، میری زبان پر Edit بٹن ہوتا. نسرین امیرزمان
کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ کاش! انسان کے جسم میں اللہ تعالیٰ زبان کے ساتھ ایک چھوٹا سا Edit بٹن بھی لگا دیتے۔ آنکھ نے کچھ دیکھا، دماغ نے کچھ سوچا، مگر زبان نے اس سے پہلے ہی ایسا بیان جاری کر دیا جیسے اسے اگلے پانچ سال کا مینڈیٹ ملا ہو۔
موبائل میں غلط پیغام چلا جائے تو Edit موجود ہے۔ بندہ فوراً الفاظ بدل دیتا ہے اور ایسے مطمئن ہو جاتا ہے جیسے غلطی ہوئی ہی نہ ہو۔ مگر زبان سے نکلا ہوا جملہ ایسا پرندہ ہے جو اڑنے کے بعد واپس نہیں آتا۔ ہاں، کبھی کبھی اس کے ساتھ معذرت کا پورا ریوڑ ضرور دوڑتا ہوا آتا ہے۔
اگر میری زبان پر Edit بٹن ہوتا تو شاید میری زندگی کے کئی جھگڑے پیدا ہونے سے پہلے ہی مر جاتے۔
ایک دن گھر میں کھانا کھاتے ہوئے مجھ سے پوچھا گیا
“کھانا کیسا بنا ہے؟”
میں نے نہ جانے کیوں سچ بولنے کو اپنی قومی ذمہ داری سمجھا اور فوراً کہہ دیا:
“نمک کچھ زیادہ ہے۔”
جملہ منہ سے نکلا تو مجھے محسوس ہوا کہ دسترخوان پر اچانک آئینی بحران پیدا ہو گیا ہے۔
اگر Edit بٹن ہوتا تو میں فوراً جملہ بدل دیتی-
“نمک کچھ زیادہ ہے” کے بجائے لکھتی:
“نمک نے آج اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔”
اور اگر پھر بھی فضا بحال نہ ہوتی تو آخری ترمیم
“ذائقہ بہت منفرد ہے۔”
یہ وہ جملہ ہے جس کے ذریعے انسان تقریباً ہر خراب چیز کی عزت بچا سکتا ہے۔
اصل ضرورت تو غصے کے وقت Edit بٹن کی ہے۔ غصے میں ہماری زبان راکٹ بن جاتی ہے اور عقل بیچاری ابھی لانچ پیڈ پر جوتے ڈھونڈ رہی ہوتی ہے۔
ہم کہتے ہیں:
“آپ سے بات کرنا ہی فضول ہے!”
پانچ منٹ بعد غصہ اترتا ہے تو دل کہتا ہے:
“یہ کیا مصیبت بول دی؟”
کاش Edit ہوتا!
فوراً جملہ تبدیل:
“آپ سے بات کرنا ہی فضول ہے” کی جگہ
“میرا خیال ہے ابھی بات کا وقت مناسب نہیں۔”
کیا شائستگی ہے! کیا تہذیب ہے! اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انسان اپنی عزت بھی بچا لیتا ہے۔
محفل میں بھی زبان کو Edit کی شدید ضرورت رہتی ہے۔ کوئی صاحب بڑی سنجیدگی سے اپنی رائے دے رہے ہوں اور ہم فوراً بول پڑیں
“نہیں، آپ غلط کہہ رہے ہیں۔”
پھر تھوڑی دیر بعد معلوم ہو کہ غلطی ہماری تھی۔
ایسے وقت Edit بٹن ہوتا تو ہم فوراً لکھ دیتے:
“میں آپ کی بات کو ایک مختلف زاویے سے دیکھ رہا تھا۔”
یہ جملہ کمال کا ہے۔ اس میں نہ اپنی غلطی تسلیم کرنی پڑتی ہے، نہ سامنے والے کو مکمل فتح دینی پڑتی ہے۔
رشتہ داروں کے سوالات کے لیے تو زبان پر Edit کے ساتھ Escape بٹن بھی ہونا چاہیے۔
“شادی کب کر رہی ہو؟”
Escape!
“تنخواہ کتنی ہے؟”
Escape!
“پہچانا مجھے؟”
اس سوال پر تو زبان، دماغ اور یادداشت تینوں کو اجتماعی چھٹی چاہیے۔
کبھی کبھی دوستوں کے ساتھ مذاق میں بھی زبان حدودِ اربعہ عبور کر جاتی ہے۔ ہم ہنستے ہوئے ایسی بات کہہ دیتے ہیں جس پر سامنے والا خاموش ہو جائے۔ پھر ہماری ہنسی بھی آہستہ آہستہ ایسے غائب ہوتی ہے جیسے بجلی کا بل دیکھ کر خوشی غائب ہوتی ہے۔
کاش Edit بٹن ہوتا! ہم فوراً مذاق کو تعریف میں تبدیل کر دیتے۔
لیکن شاید قدرت نے زبان پر Edit بٹن جان بوجھ کر نہیں لگایا۔ شاید انسان کو یہ سکھانا مقصود ہے کہ لفظ بولنے سے پہلے سوچے، کیونکہ بعض لفظ زخم سے زیادہ دیر تک یاد رہتے ہیں۔
مسئلہ صرف یہ ہے کہ ہم سوچنے کا کام بولنے کے بعد کرتے ہیں۔
زبان پہلے کہتی ہے:
“میں نے تو جو دل میں آیا کہہ دیا!”
اور دماغ بعد میں آ کر سر پکڑ لیتا ہے:
“محترمہ! دل میں آیا تھا، منہ میں کیوں لے آئیں؟”
اسی لیے اگر کبھی مجھے اپنی زبان پر Edit بٹن لگانے کا اختیار ملا تو میں اسے ہمیشہ ON رکھوں گی۔
اور اس کے ساتھ ایک نوٹس بھی چسپاں کر دوں گی:
بولنے سے پہلے سوچیں، کیونکہ زبان کا Send بٹن دب جائے تو زندگی میں Delete for Everyone نہیں ہوتا!

سعودیہ میں پاکستانی مزدور کی آواز کون بنے گا؟ ۔ ایس ایم مرموی

جب عقل ہجوم میں گم ہو جائے. کالم نگار: لیکچرار عزت علی پارا چنار

Edit Button on My Tongue

50% LikesVS
50% Dislikes

عنوان، کاش ، میری زبان پر Edit بٹن ہوتا. نسرین امیرزمان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں