Beyond the City 0

شہر کے اُس پار . نسرین امیرزمان
رات اپنے نیم خوابیدہ وجود پر کہر کی چادر اوڑھے ہوئے تھی۔ شہر کی گہماگہمی بہت پیچھے رہ گئی تھی اور ایک سنسان راہ گزر خاموشی کے طویل صحیفے کی مانند سامنے پھیلی ہوئی تھی۔ درختوں کی برہنہ شاخیں آسمان پر یوں نقش تھیں جیسے کسی مصور نے اداسی کے رنگ سے کوئی نامکمل تصویر بنا دی ہو۔ ہوا کے ہونٹوں پر خنکی تھی اور زمین پر بکھرے زرد پتے گزرے موسموں کے خطوط معلوم ہوتے تھے۔
اسی راہ پر ایک بوڑھا شخص ہر شب ایک چراغ لیے چلتا تھا۔ اس کی ہاتھ میں تھاما ہوا چراغ ہمیشہ روشن رہتا تھا۔
ایک شب ایک نوجوان نے اسے روک لیا۔ اس کی آنکھوں میں بے قراری تھی اور لہجے میں شکست خوردگی۔
“بابا! تم روز یہ چراغ لے کر کہاں جاتے ہو؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ یہ راستہ آگے جا کر ویرانے میں گم ہو جاتا ہے؟”
بوڑھے نے مسکرا کر چراغ کی لو کو دیکھا۔
نوجوان نے حیرت سے پوچھا، “تمہیں اس چراغ سے کیا ملتا ہے؟ یہ نہ تمہاری منزل بدل سکتا ہے، نہ رات ختم کر سکتا ہے۔”
بابا نے چند لمحے خاموش رہ کر کہا، “چراغ کا کام رات کو شکست دینا نہیں، مسافر کو قدم رکھنے کا حوصلہ دینا ہے۔”
بوڑھے نے چراغ اس کے ہاتھ میں دے دیا۔
“تو آج تم اسے لے چلو۔”
نوجوان نے چراغ تھاما اور آگے بڑھنے لگا۔ چند قدم بعد دھند کچھ چھٹی تو اسے راستے کے کنارے ایک ننھا سا بچہ دکھائی دیا۔ وہ سردی سے کانپ رہا تھا۔ نوجوان نے چراغ کی روشنی میں اسے دیکھا، اپنی چادر اتاری اور بچے کے کندھوں پر ڈال دی۔
تھوڑی دور ایک بوڑھی عورت راستہ بھٹکی کھڑی تھی۔ نوجوان نے چراغ بلند کیا، اسے سہارا دیا اور قریبی گھر تک پہنچا آیا۔
کچھ آگے ایک زخمی پرندہ پھڑپھڑا رہا تھا۔ نوجوان نے اسے اٹھا کر محفوظ جگہ رکھ دیا۔
جب وہ واپس پلٹا تو اس کے چہرے پر بے قراری کی جگہ ایک عجیب سی روشنی اتر آئی تھی۔
بابا ابھی اسی مقام پر کھڑا تھا۔
نوجوان نے چراغ واپس کرتے ہوئے کہا، “اب سمجھا ہوں۔”
“کیا؟”
“روشنی راستہ نہیں بدلتی، مگر راستے پر چلنے والے انسان کو بدل دیتی ہے۔”
بوڑھے کی آنکھوں میں نمی تیر گئی۔ اس نے کہا، “انسان اکثر اپنی زندگی میں کسی بڑے معجزے کا منتظر رہتا ہے، حالاں کہ ایک چھوٹی سی نیکی کسی دوسرے کی پوری دنیا کا موسم بدل سکتی ہے۔”
نوجوان نے پوچھا، “مگر میں تو خود اندھیروں میں گھرا ہوا تھا۔ میں دوسروں کو روشنی کیسے دے سکتا تھا؟”
بابا مسکرایا۔ “اندھیرا روشنی کی کمی کا نام ہے، روشنی کی ممانعت کا نہیں۔ جس دل میں خیر کی ایک چنگاری باقی ہو، وہی چراغ بننے کی ابتدا ہے۔”
صبح کی پہلی کرن افق کے دامن پر نمودار ہو رہی تھی۔ دھند کے دبیز پردے آہستہ آہستہ تحلیل ہونے لگے۔ درختوں کی شاخوں پر شبنم کے قطرے ٹھہرے تھے، جیسے رات نے جاتے جاتے زمین کے نام چند شفاف موتی لکھ چھوڑے ہوں۔
نوجوان نے آخری بار پلٹ کر بابا کو دیکھا۔ بوڑھا چراغ لیے کھڑا تھا۔
اس دن کے بعد نوجوان جہاں جاتا، کسی نہ کسی ضرورت مند کا ہاتھ تھام لیتا۔ کسی کے لیے دوا لے آتا، کسی کا بوجھ اٹھا لیتا، کسی مایوس دل پر امید کی دستک دے آتا۔ لوگ پوچھتے کہ اسے یہ روشنی کہاں سے ملی۔
وہ مسکرا کر کہتا، “ایک بوڑھے نے مجھے چراغ دیا تھا، مگر اصل میں اس نے مجھے میری اپنی روشنی دکھائی تھی۔”
شاید زندگی بھی یہی سبق دیتی ہے کہ اندھیروں سے شکوہ کرنے کے بجائے اپنے حصے کا دیا روشن کیا جائے۔ ہر شخص پوری دنیا کو منور نہیں کر سکتا، مگر کسی ایک دل کی تاریکی ضرور کم کر سکتا ہے۔ کبھی کبھی ایک چھوٹی سی روشنی، ایک تھکے ہوئے مسافر کو پوری منزل کا یقین دے دیتی ہے۔
اس لیے اگر کبھی زندگی کی راہ دھند میں چھپ جائے تو راستہ صاف ہونے کا انتظار نہ کیجیے۔ اپنے اندر موجود چراغ کو تلاش کیجیے۔ ممکن ہے آپ کی معمولی سی روشنی کسی ایسے شخص تک پہنچ جائے جو برسوں سے اندھیرے میں اپنی امید کا آخری سرا ٹٹول رہا ہو۔

Beyond the City

50% LikesVS
50% Dislikes

شہر کے اُس پار . نسرین امیرزمان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں