مصروف زمانہ، تنہا انسان. لیکچرار عزت علی پارا چنار
یہ عہد بظاہر انسان کی آسائشوں، سہولتوں اور مصروفیات کا عہد ہے۔ انگلی کی ایک جنبش پر دنیا سمٹ کر ہتھیلی میں آ جاتی ہے، فاصلے سمٹ گئے ہیں، رابطے آسان ہو گئے ہیں، اطلاعات کی یلغار ہے اور وقت کی رفتار پہلے سے کہیں زیادہ تیز محسوس ہوتی ہے مگر اس تمام ظاہری ترقی کے باوجود ایک عجیب حقیقت ہمارے سامنے منہ کھولے کھڑی ہے۔ انسان جتنا لوگوں سے جڑتا جا رہا ہے، اتنا ہی اپنے اندر سے کٹتا جا رہا ہے۔
آج ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے، مگر بات کرنے والا کوئی نہیں، ہزاروں دوستوں کی فہرست ہے، مگر دل کا حال سننے والا شاید ایک بھی نہیں۔ سوشل میڈیا نے ہمیں ایک دوسرے کے حالات سے باخبر تو کر دیا، مگر ایک دوسرے کے احساسات سے بے خبر کر دیا ہے۔ ہم دوسروں کی مسکراہٹیں دیکھتے ہیں، ان کی کامیابیاں گنتے ہیں، ان کے سفر، تقریبات اور خوشیوں کی تصویریں پسند کرتے ہیں، لیکن کسی کے چہرے کے پیچھے چھپی ہوئی تھکن، اضطراب اور شکستہ دلی پڑھنے کی فرصت نہیں رکھتے۔
یہ کیسا زمانہ ہے کہ انسان اپنے دکھ کا اعلان بھی مسکراتی ہوئی تصویر کے ساتھ کرتا ہے! ہم نے وقت بچانے کے لیے ایسی مشینیں ایجاد کر لیں جو لمحوں میں کام کر دیتی ہیں، مگر خود ہمارے پاس اپنے والدین کے پاس بیٹھنے کے لیے چند لمحے نہیں۔ ہم نے رابطے کے ایسے ذرائع پیدا کر لیے ہیں جو دنیا کے دوسرے کنارے پر موجود شخص کو چند ثانیوں میں ہمارے سامنے لے آتے ہیں، مگر گھر کی ایک چھت تلے بیٹھے افراد ایک دوسرے سے اجنبی ہوتے جا رہے ہیں۔
اصل المیہ ٹیکنالوجی نہیں، اس کا بے اعتدال استعمال ہے۔ مسئلہ موبائل نہیں، موبائل کا انسان پر حاوی ہو جانا ہے۔ جب آلہ ہماری ضرورت کے بجائے ہماری عادت، اور عادت کے بجائے ہماری مجبوری بن جائے تو سہولت آہستہ آہستہ زنجیر بن جاتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زندگی صرف آن لائن موجودگی کا نام نہیں۔ زندگی کسی ماں کے پاس بیٹھ کر اس کی بات سننے، کسی باپ کے چہرے پر اطمینان دیکھنے، کسی دوست کے دکھ میں خاموشی سے شریک ہونے اور کسی ضرورت مند کے کندھے پر دستِ شفقت رکھنے کا نام بھی ہے۔
انسان کو صرف معلومات نہیں، محبت بھی درکار ہے ، صرف رابطہ نہیں، تعلق بھی چاہیے، صرف مصروفیت نہیں، سکون بھی چاہیے۔
شاید ہمیں ترقی کی دوڑ میں کچھ دیر ٹھہر کر اپنے آپ سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں؟ اگر ہماری منزل ایسی دنیا ہے جہاں عمارتیں بلند ہوں مگر دل تنگ، رابطے وسیع ہوں مگر تعلقات کمزور، اور زندگی تیز ہو مگر انسان اندر سے ویران تو پھر ہمیں اپنی سمت پر ضرور غور کرنا چاہیے۔ کیونکہ آنے والا وقت ہم سے یہ نہیں پوچھے گا کہ ہمارے پاس کتنے فالوورز تھے، کتنی تصاویر پر پسندیدگیاں ملیں یا کتنے لوگوں سے رابطہ تھا، شاید وہ صرف یہ پوچھے گا: جب تمہارے پاس سب کچھ تھا، تب تمہارے پاس اپنا کون تھا؟
انتظار بھی ایک تھکن ہے محمد عابد رشید ملتان
Busy World




