Exhaustion 0

انتظار بھی ایک تھکن ہے محمد عابد رشید ملتان
زندگی میں کچھ انتظار ایسے ہوتے ہیں جو انسان کو کسی منزل تک نہیں پہنچاتے، بلکہ آہستہ آہستہ اندر سے تھکا دیتے ہیں۔ ہم کبھی کسی شخص کے لوٹ آنے کا انتظار کرتے ہیں، کبھی کسی خبر کے آنے کا، کبھی کسی خواب کے پورا ہونے کا اور کبھی کسی ایسی خواہش کے لیے دعائیں مانگتے رہتے ہیں جسے ہم اپنی خوشی کی آخری وجہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ دل ایک نئی امید باندھتا ہے، مگر وقت خاموشی سے آگے بڑھتا رہتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان ہمیشہ چیزوں سے نہیں، ان کے انتظار سے تھک جاتا ہے۔

اور عجیب بات یہ ہے کہ جب وہ چیز بالآخر مل بھی جائے، تو کبھی کبھی دل اسے قبول کرنے کے لیے پہلے جیسا بےقرار نہیں رہتا۔ کیونکہ وقت صرف فاصلے نہیں بڑھاتا، احساسات بھی بدل دیتا ہے۔

ایک وقت تھا جب کسی ایک خواہش کا پورا ہونا ہمیں مکمل خوشی دے سکتا تھا۔ ہم اسی کے لیے دعائیں کرتے، راستے دیکھتے، امیدیں باندھتے اور کئی راتیں اسی خیال میں گزار دیتے تھے۔ مگر طویل انتظار انسان کے اندر ایک خاموش تبدیلی پیدا کر دیتا ہے۔

وہی خواہش جو کبھی زندگی کا سب سے خوبصورت خواب محسوس ہوتی تھی، رفتہ رفتہ ایک معمولی سی خواہش بننے لگتی ہے۔ امید کی شدت کم ہوتی جاتی ہے، دل کی بےقراری خاموش ہو جاتی ہے اور انسان آہستہ آہستہ اس حقیقت کو قبول کرنے لگتا ہے کہ شاید ہر چاہت کا پورا ہونا ضروری نہیں۔

پھر ایک دن ایسا بھی آتا ہے جب انسان کو احساس ہوتا ہے کہ جس چیز کے لیے کبھی دل بےقرار تھا، اب اس کے ملنے یا نہ ملنے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

یہ کیفیت بظاہر سکون محسوس ہوتی ہے، مگر اس سکون کے اندر برسوں کی تھکن چھپی ہوتی ہے۔

انسان نہ شکوہ کرتا ہے، نہ سوال۔ بس خاموشی سے خود کو سمجھا لیتا ہے کہ شاید کچھ چیزیں ہماری زندگی میں آنے کے لیے نہیں، ہمیں بدلنے کے لیے آتی ہیں۔

کچھ لوگ ہماری زندگی میں دیر سے آتے ہیں، کچھ خواب بہت دیر سے پورے ہوتے ہیں، اور کچھ دعائیں اتنی دیر سے قبول ہوتی ہیں کہ جب ان کا جواب ملتا ہے تو دعا مانگنے والا انسان پہلے جیسا نہیں رہتا۔

وقت انسان کو صرف حالات سمجھنا نہیں سکھاتا، خود کو سمجھنا بھی سکھاتا ہے۔

طویل انتظار کے بعد انسان یہ جان لیتا ہے کہ اپنی خوشی کو کسی ایک شخص، ایک خواہش یا ایک نتیجے کے ساتھ باندھ دینا خود کو تکلیف دینے کے مترادف ہے۔ زندگی کسی ایک انتظار پر رک نہیں جاتی۔ وقت آگے بڑھتا ہے، راستے بدلتے ہیں، لوگ بدلتے ہیں اور کبھی کبھی ہمارا اپنا دل بھی بدل جاتا ہے۔

شاید زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ہر انتظار کا انجام حصول نہیں ہوتا۔ کچھ انتظار ہمیں صبر سکھاتے ہیں، کچھ ہمیں حقیقت سے روشناس کراتے ہیں اور کچھ ہمیں یہ بتانے آتے ہیں کہ جس چیز کو ہم اپنی پوری دنیا سمجھ رہے تھے، وہ ہماری پوری زندگی نہیں تھی۔

پھر کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جس چیز کے لیے کبھی آنکھیں راستہ دیکھتے نہیں تھکتی تھیں، وہ ایک دن ہمارے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔ ہم اسے دیکھتے ہیں، مسکراتے ہیں، مگر دل پہلے جیسا نہیں دھڑکتا۔

کیونکہ اب ہم بدل چکے ہوتے ہیں۔

اور شاید اسی لمحے دل کے کسی خاموش گوشے سے یہ آواز آتی ہے:

“کبھی تمہیں پانے کی خواہش میری پوری دنیا تھی،
آج تم سامنے ہو۔۔۔ مگر میری دنیا بدل چکی ہے۔”

شاید اسی کا نام ہے وقت کے ساتھ بدلتا ہوا دل۔

اور شاید یہ بھی زندگی کی ایک حقیقت ہے کہ بعض اوقات کسی چیز کا نہ ملنا اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا، جتنا اس کے انتظار میں خود کو آہستہ آہستہ کھو دینا۔

کیونکہ انتظار صرف وقت نہیں لیتا، کبھی کبھی انسان کے اندر کی ایک پوری دنیا بھی لے جاتا ہے۔

Exhaustion

50% LikesVS
50% Dislikes

انتظار بھی ایک تھکن ہے محمد عابد رشید ملتان

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں