عورت کا صبر. شبیر حسین کمال
عورت اللہ تعالیٰ کی ایک خوبصورت نعمت ہے۔ وہ بیٹی بن کر گھر میں خوشیاں لاتی ہے، بہن بن کر محبت بانٹتی ہے، بیوی بن کر زندگی کے سفر میں شریک ہوتی ہے اور ماں بن کر اپنی اولاد کے لیے بے شمار قربانیاں دیتی ہے۔ عورت کی زندگی میں بہت سے ایسے لمحات آتے ہیں جہاں اسے اپنی خواہشات، تکالیف اور جذبات کو پیچھے رکھ کر صبر کرنا پڑتا ہے۔ یہی صبر اس کی شخصیت کی سب سے بڑی طاقت بن جاتا ہے۔
عورت کا صبر صرف خاموش رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ اس کے حوصلے، برداشت اور محبت کا اظہار ہے۔ ایک ماں اپنی اولاد کی خاطر راتوں کو جاگتی ہے، اپنی نیند قربان کرتی ہے اور بچوں کی معمولی سی تکلیف پر بھی پریشان ہو جاتی ہے۔ وہ اپنی پریشانی چھپا کر اولاد کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتی ہے۔ اس کی یہی قربانی اور صبر گھر کو سکون عطا کرتا ہے۔
ایک بیوی بھی زندگی کے نشیب و فراز میں اپنے شوہر کا ساتھ دیتی ہے۔ کبھی مالی مشکلات، کبھی گھریلو مسائل اور کبھی حالات کی سختیاں، لیکن وہ اپنے گھر کو بکھرنے سے بچانے کے لیے بہت کچھ برداشت کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورت کو ہر ظلم خاموشی سے برداشت کرنا چاہیے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت میں حالات کا مقابلہ کرنے اور مشکل وقت میں حوصلہ رکھنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ عورت کے صبر کو اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ بعض اوقات جو عورت خاموش رہتی ہے، وہ کمزور نہیں ہوتی بلکہ اپنے گھر، رشتوں اور عزت کی خاطر بہت کچھ برداشت کر رہی ہوتی ہے۔ اس کے خاموش آنسو بھی ایک داستان بیان کرتے ہیں۔ اس لیے عورت کے جذبات کی قدر کرنا اور اس کے ساتھ محبت و احترام سے پیش آنا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔
اسلام نے بھی عورت کو عزت، مقام اور حقوق عطا کیے ہیں۔ قرآن مجید ہمیں صبر کی اہمیت بتاتا ہے اور اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ عورت جب مشکلات میں صبر کرتی ہے تو اسے صرف دنیا میں نہیں بلکہ اللہ کے ہاں بھی اس صبر کا اجر ملتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم عورت کے صبر کا ناجائز فائدہ نہ اٹھائیں۔ اس کی خاموشی کو اجازت، اس کی برداشت کو کمزوری اور اس کی محبت کو مجبوری نہ سمجھیں۔ عورت بھی احساسات رکھنے والی ایک انسان ہے۔ اسے بھی محبت، عزت، توجہ اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک صابر عورت اپنے گھر کو جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، لیکن ایک سمجھدار معاشرہ وہی ہے جو صرف عورت سے صبر کی توقع نہیں کرتا بلکہ خود بھی اس کے ساتھ انصاف، محبت اور احترام کا رویہ اختیار کرتا ہے۔
عورت کا صبر اس کی کمزوری نہیں، اس کی طاقت ہے؛ مگر اس طاقت کا احترام کرنا معاشرے کی ذمہ داری ہے۔
>انتظار بھی ایک تھکن ہے محمد عابد رشید ملتان
شہر، تنہائی اور آدمی. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
خواتین کا پردہ قرآن کی روشنی میں. شبیر حسین کمال
Woman’s Patience




