خواتین کا پردہ قرآن کی روشنی میں. شبیر حسین کمال
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام نے عورت کو عزت، احترام اور تحفظ عطا کیا ہے۔ خواتین کے لیے پردہ بھی اسلامی تعلیمات کا ایک اہم حصہ ہے۔ پردہ صرف لباس کا نام نہیں بلکہ حیا، پاکیزگی، وقار اور کردار کی حفاظت کا نام بھی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے مؤمن مردوں اور عورتوں دونوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:
مومن مردوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔”(سورۂ نور: 30)
اس کے بعد خواتین کے بارے میں ارشاد فرمایا:
“اور مومن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں…”
(سورۂ نور: 31)
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ حیا اور پاکیزگی کی ذمہ داری صرف خواتین پر نہیں بلکہ مردوں پر بھی ہے۔ اسلام معاشرے کو پاکیزہ بنانے کے لیے دونوں کو اپنی نگاہ، لباس اور کردار کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔قرآن مجید میں سورۂ احزاب میں نبی اکرم ﷺ کی ازواج اور مؤمن خواتین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا:
“اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مؤمن عورتوں سے کہہ دیجیے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے اوپر لٹکا لیا کریں، یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے۔”
(سورۂ احزاب: 59)
یہ آیت عورت کے وقار اور معاشرتی تحفظ کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ پردہ عورت کو معاشرے سے کاٹنے کے لیے نہیں بلکہ اس کی عزت اور شخصیت کی حفاظت کے لیے ہے۔
پردہ صرف ظاہری لباس تک محدود نہیں۔ ایک مسلمان عورت کے لیے گفتگو میں حیا، چال چلن میں وقار، نگاہوں میں پاکیزگی اور کردار میں شرافت بھی پردے کا حصہ ہیں۔ اسی طرح مرد کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی نگاہ اور کردار کی حفاظت کرے۔
آج کے دور میں سوشل میڈیا، موبائل فون اور مختلف ذرائع ابلاغ نے انسان کے سامنے بے شمار چیزیں پیش کر دی ہیں۔ ایسے ماحول میں قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا پہلے سے زیادہ ضروری ہے۔ حیا صرف گھر سے باہر نکلتے وقت نہیں بلکہ موبائل کی اسکرین، گفتگو اور سوشل میڈیا کے استعمال میں بھی ہونی چاہیے۔
یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ پردہ کسی عورت کی تعلیم، صلاحیت یا ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں۔ اسلام عورت کو علم حاصل کرنے، اپنی صلاحیتیں استعمال کرنے اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرنے سے نہیں روکتا، بلکہ اسے اپنی عزت اور دینی حدود کی حفاظت کے ساتھ آگے بڑھنے کی تعلیم دیتا ہے۔آخر میں ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ پردہ صرف عورت کی ذمہ داری قرار دینا درست نہیں۔ قرآن پہلے مردوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے اور پھر خواتین کو حیا اور پردے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر مرد و عورت دونوں قرآن کی ان تعلیمات پر عمل کریں تو معاشرہ زیادہ پاکیزہ، باوقار اور محفوظ بن سکتا ہے۔
حقیقی پردہ وہ ہے جو لباس کے ساتھ دل، نگاہ، گفتگو اور کردار میں بھی نظر آئے۔
بیٹیاں، بہنیں اور مائیں . عزت، محبت اور دعا کی حقدار. تحریر محمد عابد رشید ملتان
قلم، تحقیق اور سچائی.بتول فاطمہ




