زہر آلود محبت.بتول فاطمہ
گاؤں کے آخری سرے پر ایک پرانا سا گھر تھا۔ گھر کے کشادہ صحن میں بیری کا ایک گھنا درخت کھڑا تھا۔ اسی درخت کی ایک مضبوط شاخ سے من تارا نے جھولا باندھ رکھا تھا۔ درخت کے نیچے ایک چارپائی بچھی رہتی، جہاں وہ اکثر شام کے وقت بیٹھا کرتی۔ اسے پودوں اور پھولوں سے بے حد محبت تھی۔ اس نے اپنے صحن کو رنگ برنگے پھولوں اور سبز پودوں سے سجا رکھا تھا۔ گلاب، چنبیلی، موتیا اور کئی دوسرے پھول ہر موسم میں اس کے صحن کو مہکاتے رہتے۔
لیکن کچھ عرصے سے ایک عجیب بات ہونے لگی تھی۔ گاؤں کے اندر اگنے والے پھولوں کے علاوہ ایک ایسا پھول بھی روزانہ اس کے صحن میں آ گرتا جو اس علاقے میں عام نہیں تھا۔ من تارا حیران ہوتی کہ آخر یہ پھول کون پھینکتا ہے۔
ایک روز اس نے دیوار کی اوٹ میں چھپ کر انتظار کیا۔
کچھ دیر بعد دیوار کے پار ایک نوجوان دکھائی دیا۔ اس کا نام ماہی گیر تھا۔ وہ ایک غیر مسلم نوجوان تھا، مگر من تارا سے محبت کرتا تھا۔ وہ روز اس کے لیے ایک پھول لاتا اور کبھی کبھی اس کے ساتھ ایک خط بھی چھوڑ جاتا۔ ان خطوط میں خوبصورت باتیں، تعریفیں اور محبت کے دعوے ہوتے۔
من تارا بھی آہستہ آہستہ ان لفظوں کے حصار میں آتی گئی۔ اسے اپنی تعریفیں سننا اچھی لگتیں۔ کسی کا اسے خاص سمجھنا، اس کے لیے پھول بھیجنا اور اس کے نام خط لکھنا اسے اپنی طرف کھینچتا چلا گیا۔ اسے اندازہ ہی نہ ہوا کہ بعض خوبصورت چیزیں اپنے ساتھ ایسا فتنہ بھی لے آتی ہیں جو بعد میں زندگی کو بہت مشکل بنا دیتا ہے۔
ایک دن من تارا نے ماہی گیر سے کہا، “اگر تم مجھ سے محبت کرتے ہو تو مجھے اپنا لو۔”
ماہی گیر خاموش رہا، پھر بولا، “میں تمہیں چاہتا ہوں، مگر میں غیر مسلم ہوں۔ ہمارے درمیان بہت کچھ ایسا ہے جو ہمیں ایک نہیں ہونے دے گا۔”
اسی دوران گاؤں والوں کو ان دونوں کے بارے میں معلوم ہو گیا۔ بات پھیلی تو پنچایت بیٹھ گئی۔ من تارا کو بدکردار قرار دے کر اس کے کمرے میں بند کر دیا گیا۔ اس کی بیوہ ماں گاؤں والوں کے سامنے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتی رہی۔
وہ بیٹی کے کمرے کے باہر کھڑی ہو کر روتے ہوئے کہتی، “اب تو شاید ساری زندگی اسی طرح تڑپتی رہے گی۔”
اس دن کے بعد من تارا کی زندگی بدل گئی۔
وہ اپنے رب کے سامنے بیٹھنے لگی۔ جائے نماز اس کی ساتھی بن گئی اور قرآن اس کے دل کا سہارا۔ وہ گھنٹوں دعا کرتی، اپنے گزرے ہوئے دنوں پر پچھتاتی اور اللہ سے معافی مانگتی۔ کئی مہینے اسی کیفیت میں گزر گئے۔
پھر ایک دن ماہی گیر کی موت کی خبر من تارا کے کانوں تک پہنچی۔
خبر سنتے ہی اس کے اندر جیسے کچھ ٹوٹ گیا۔ وہ پہلے ہی توبہ کر چکی تھی۔ اس نے خود کو لوگوں سے چھپا لیا تھا، اپنی پرانی یادوں سے بھی دور رہنے کی کوشش کی تھی، مگر دل میں موجود وہ خلش آسانی سے ختم نہ ہوئی۔
اسے اس محبت پر پچھتاوا بھی تھا۔ اسے محسوس ہوتا تھا کہ جس تعلق کو اس نے کبھی بہت خوبصورت سمجھا تھا، وہ دراصل اسے اس راستے سے دور لے گیا تھا جس پر اسے ہونا چاہیے تھا۔
حرام تعلق بظاہر محبت جیسا دکھائی دے سکتا ہے، مگر اس کے اندر ایک ایسی آگ چھپی ہوتی ہے جو انسان کے سکون کو جلا دیتی ہے۔ وہ کبھی بچھو کے ڈنک کی طرح دل میں زہر اتارتی ہے، کبھی سینے میں چبھنے والے تیر کی طرح محسوس ہوتی ہے اور کبھی کانٹوں کی طرح قدم قدم پر زخمی کرتی ہے۔
من تارا چند ماہ اور زندہ رہی۔
پھر ایک شام اس نے اپنی تمام یادیں، وہ خط اور وہ چیزیں جو ماہی گیر سے وابستہ تھیں، اکٹھی کیں اور بیری کے اسی درخت کے نیچے رکھ دیں۔ اسی درخت سے، جس کے نیچے کبھی وہ جھولا جھولا کرتی تھی، اس نے اپنی زندگی ختم کر لی۔
اس کی ماں آج بھی کہتی ہے کہ شام ڈھلتے ہی اسے اس صحن سے من تارا کے ہنسنے اور مسکرانے کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔
لیکن یہ صرف من تارا کی کہانی نہیں۔
یہ ان تمام لڑکیوں کے لیے ایک تنبیہ ہے جو محبت کے نام پر آنے والی ہر چیز کو محبت سمجھ لیتی ہیں۔ برائی ہمیشہ خوفناک شکل میں ہمارے سامنے نہیں آتی۔ کبھی وہ ہماری پسند کے پھول میں چھپ کر آتی ہے، کبھی کسی خوبصورت جملے میں، کبھی کسی کتاب کے بہانے، کبھی تعریفوں اور توجہ کے ذریعے۔ شیطان ہمیشہ انسان کو اس چیز سے نہیں بہکاتا جس سے وہ نفرت کرتا ہے؛ کئی بار وہ اسی چیز کو راستہ بناتا ہے جو اسے سب سے زیادہ پسند ہوتی ہے۔
اسی لیے ہر خوبصورت احساس پاک نہیں ہوتا اور ہر محبت منزل تک نہیں لے جاتی۔ بعض راستے شروع میں پھولوں سے بھرے دکھائی دیتے ہیں، مگر آخر میں انسان کے قدم زخمی کر دیتے ہیں۔
ایک لڑکی صرف ایک فرد نہیں ہوتی۔ اس کے ہاتھ میں آنے والی نسلوں کی تربیت، کردار اور مستقبل بھی ہوتا ہے۔ جب وہ حرام تعلقات کے جال میں پھنس جاتی ہے تو نقصان صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا؛ اس کے اثرات آنے والی زندگیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
من تارا کا قصہ محبت کی ناکامی کی کہانی نہیں، بلکہ اس لمحے کی کہانی ہے جب انسان کو یہ سمجھنا چاہیے کہ ہر خواہش پوری کرنے کے لیے نہیں ہوتی۔ کچھ خواہشوں سے وقت پر منہ موڑ لینا ہی اصل کامیابی ہے۔
شہر، تنہائی اور آدمی. سلیم خان ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکا
Poisonous Love




