Invest in Your Daughter’s Future 0

عنوان: جہیز نہیں، بیٹی کا مستقبل سنواریں . محمد عابد رشید
ہمارے معاشرے میں بیٹی کی شادی خوشی کا دن ہونے کے ساتھ بہت سے والدین کے لیے ایک خاموش آزمائش بھی بن چکی ہے۔ اس آزمائش کا نام “جہیز” ہے۔ ایک ایسی رسم جس نے محبت کے رشتے کو لین دین کے سودے میں بدل دیا ہے۔
بیٹی کی قیمت، سامان سے تولی جانے لگی
کتنا عجیب ہے کہ جس بیٹی کو ماں باپ جان سے عزیز رکھ کر پالتے ہیں، رخصتی کے وقت معاشرہ اس کے کردار کے بجائے اس کے جہیز کے سامان کو گننا شروع کر دیتا ہے۔
بستر کتنے؟ فرنیچر کیسا؟ فریج، واشنگ مشین، برتن؟
گویا بیٹی کی عزت اور والدین کی حیثیت کا فیصلہ اب الماریوں اور برتنوں کی تعداد کرے گی۔
قرض، مجبوری اور ظلم
جہیز اگر والدین اپنی خوشی اور استطاعت سے دیں تو یہ محبت کا تحفہ ہے۔ لیکن جب اسے شرط اور مطالبہ بنا دیا جائے تو یہ ظلم بن جاتا ہے۔
ایک غریب باپ اپنی پوری عمر کی جمع پونجی لگا دیتا ہے۔ زمین بیچتا ہے، قرض لیتا ہے۔ صرف اس خوف سے کہ “لوگ کیا کہیں گے”۔
مگر سوال یہ ہے: کیا لوگوں کے طعنوں سے بچنے کے لیے والدین اپنی زندگی داؤ پر لگا دیں؟
سب سے بڑا درد تب ہوتا ہے جب جہیز کم ہونے پر بہو کو طعنے دیے جاتے ہیں۔ “تم اپنے گھر سے کیا لے کر آئی ہو؟” یہ جملے کانوں کو نہیں، دل کو زخمی کرتے ہیں۔
رشتے سامان سے نہیں، کردار سے چلتے ہیں
اگر شادی کی بنیاد سامان پر رکھی جائے گی تو رشتہ کیسے چلے گا؟ آج فرنیچر کم ہے، کل گاڑی کا مطالبہ، پرسوں زیور کی شکایت۔ ایک خواہش دوسری کو جنم دیتی ہے اور محبت توقعات کے بوجھ تلے دب جاتی ہے۔
یاد رکھیں، بیٹی جہیز کا سامان نہیں۔ وہ ایک مکمل انسان ہے۔ اسے عزت والا گھر، محبت کرنے والا شریکِ حیات اور محفوظ مستقبل چاہیے۔
حل کیا ہے؟
والدین کی اصل ذمہ داری جہیز جمع کرنا نہیں، بیٹی کو تیار کرنا ہے۔
جہیز کے بجائے تعلیم دیں۔
فرنیچر کے بجائے ہنر دیں۔
زیور کے بجائے اعتماد دیں۔
سامان کے بجائے اخلاق اور شعور دیں۔
کیونکہ سامان پرانا ہو جاتا ہے، لیکن علم اور تربیت پوری زندگی کام آتی ہے۔
اسی طرح بیٹوں کی تربیت بھی ضروری ہے۔ انہیں سکھائیں کہ شادی بھیک مانگنے کا نام نہیں۔ نکاح ایک ذمہ داری، ایک عہد اور عزت کا رشتہ ہے۔ جس گھر کا بیٹا جہیز مانگتا ہے وہاں صرف ایک باپ کی جیب نہیں ٹوٹتی، ایک ماں کی دعائیں اور ایک بیٹی کی خوشیاں بھی ٹوٹتی ہیں۔
آخر میں: ایک عہد
آئیے آج عہد کریں:
ہم بیٹی کی قیمت جہیز سے نہیں، کردار سے لگائیں گے۔
ہم شادی کو نمائش نہیں، عبادت سمجھیں گے۔
ہم بیٹیوں کو بوجھ نہیں، رحمت سمجھیں گے۔
اور بیٹوں کو مطالبہ نہیں، عزت کرنا سکھائیں گے۔
معاشرے رسموں سے نہیں، سوچ سے بدلتے ہیں۔
اگر ہم واقعی اپنی بیٹیوں کی رخصتی پر آنسوؤں کے ساتھ اطمینان بھی دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں جہیز کی فہرستیں ختم کرنی ہوں گی اور محبت، عزت اور کردار کی بنیاد رکھنی ہوگی۔
بیٹی کو سامان کے ساتھ نہیں، دعاؤں کے ساتھ رخصت کریں۔
کیونکہ گھر سامان سے نہیں، اچھے کردار سے آباد ہوتے ہیں۔

گلگت بلتستان کابینہ نے مالی سال 2026-27ء کا 218 ارب روپے حجم کا بجٹ منظور کر لیا

تخلیق کار انٹرنیشنل . 340 پروگرامز – تاریخی کارکردگی . جبکہ 290 سے زائد کتب کی رونمائی و پذیرائی بھی کی جا چکی ہے۔

Invest in Your Daughter’s Future

50% LikesVS
50% Dislikes

جہیز نہیں، بیٹی کا مستقبل سنواریں . محمد عابد رشید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں